حس مزاح نہ ہونے کے کچھ فائدے


\"\"یہ مضمون ہر گز کسی دوسری ویب سائٹ پر چھپنے والے کسی مضمون کے جواب میں نہیں لکھا گیا۔ زیادہ اثر کے لئے اپنی شخصی شناخت اور بیوقوفانہ خیالات ایک طرف رکھ کر پڑھیں ۔

دوپٹے کے دس فائدے لکھنے پر مجھ پر جس طرح تعریف کے ڈونگرے برسائے گئے اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ مجھ میں ایک عظیم لکھاری بننے کے تمام جرثومے درجہ بدرجہ موجود ہیں۔ آخری بلاگ کی شاندار کامیابی کے بعد پیش خدمت ہے حس مزاح نہ ہونے کے کچھ فائدے۔

حس مزاح کی عدم موجودگی کا سب سے زیادہ فائدہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے دن اور رات مذہب کی ٹھیکے داری میں گزرتے ہیں۔  یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہر بات اپنے مذہب پر ایک حملہ لگتی ہے۔ تلوار ہاتھ میں سونتے یہ ٹھیکیدار کسی کی بھی گردن اتارنے کو تیار رہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ تلوار سے تیز ان کی زبان ہوتی ہے جس پر ہر موقع کے لئے ایک عدد گالی موجود رہتی ہے۔ دوپٹہ پر مضمون ان کو اپنی عورتوں پر حملہ لگتا ہے اور اس حملے کو پسپا کرنے کے لئے انہی عورتوں پر بنائی گئی گالیوں کو دینے میں یہ کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ کیوں نہیں۔ جنگ اور پیار میں سب جائز ہے بھائی۔

اگر انسان میں حس مزاح کی کمی ہو تو اس کو وزن کم کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ کھانے کی جگہ انسان غصہ کھاتا ہے،دل اور جگر کے حالات کشیدہ رہتے ہیں، بلڈ پریشر ہائی رہتا ہے۔ وزن بڑھنا تو دور کی بات ہے ایسے لوگوں کو ٹھنڈی ڈرپس لگانی پڑتی ہیں کہ کہیں یہ غصے میں بلبلا کر ہوا میں تحلیل نہ ہو جائیں ۔

اسی بارے میں: ۔  مدارس کا تعلیمی بحران اور ہندوستان کے مسلمان

ایک فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے انسان پہلی بیوی کے زندہ و پائندہ ہونے کے باوجود دوسری شادی کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ نہ صرف سوچنے لگتا ہے بلکے اس پر مضمون لکھ کر اور ہم خیال بھی ڈھونڈنے لگتا ہے۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ مل بھی جاتے ہیں۔

آخری اور شاید سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ انسان کہیں کی بات کہیں لے جاتا ہے، دور کی کوڑی لا کر لا حاصل پیش گوئیاں کی جاتی ہیں ۔ یہ خوبی کچھ لوگوں کو معاشیات کے مضمون میں بے حد مدد دیتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “حس مزاح نہ ہونے کے کچھ فائدے

  • 02-01-2017 at 1:11 pm
    Permalink

    Khoobsurt tehreer

  • 03-01-2017 at 8:18 am
    Permalink

    !Bahut khoobsirat tehreer

Comments are closed.