عالمی تصادم کی مذہبی تعبیرات


\"\"

حیرت ہوتی ہے کہ لوگ فکری تضادات کے ساتھ کیسے نباہ کرلیتے ہیں؟ لکھنے والے بھی اور پڑھنے والے بھی۔
لوگ پیش گوئیوں کی بنیاد پر ایک بیانیہ ترتیب دیتے ہیں مگر ان پیش گوئیوںکو نظر انداز کرتے ہیں جو یقینی ذرائع سے ہم تک پہنچیں اور ان کو قبول کرتے ہیں جو ہر پہلو سے ظنی ہیں۔ یہ محض فکری بحث ہوتی تو گورا تھا لیکن وہ اس پر قانع نہیں ہوتے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کا اطلاق اپنے عہد کے واقعات پر کرتے اورکتاب وسنت کی کسی سند کے بغیر یہ بھی چاہتے ہیں کہ لوگ اپنی جان دیں اور دوسروں کی جان لیں۔
تضاد محض یہی نہیں۔ ہمیں آج تک یہ بتایا گیا کہ اسرائیل کے اصل پشت بان برطانیہ اور امریکہ ہیں۔ یہ بات کچھ ایسی خلافِ واقعہ بھی نہیں۔ پھر یہ کہ اسرائیل مسلمانوں کا دشمن ہے۔ اس مقدمے کو برسوں پیش کیا جاتا رہا مگر آج یہ بتایا جا رہا ہے کہ امریکہ کا اصل دشمن تواسرائیل ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دنیا کا اقتصادی مرکز نیویارک سے یروشلم منتقل ہو جائے۔ اس مقدمے میں برطانیہ اور امریکہ عالمِ مسیحیت کے نمائندے ہیں۔ گویا اسرائیل مسلمانوں کے نہیں، امریکہ اور مسیحیوںکے درپے ہے۔ ایک غلط مقدمے کے ساتھ زندہ رہنا ممکن ہے لیکن ایسے تضادات کے ساتھ زندگی کرنا بڑے حو صلے کا کام ہے۔
قرآن مجید الہامی ہدایت کا سب سے مستند ماخذ ہے۔ قرآن نے حضرت مسیحؑ کے ماننے والوں یعنی نصاریٰ اوران کا انکار کرنے والوں یعنی یہود کے باہمی تعلق کے بارے میں ایک پیش گوئی کی ہے۔ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ یہود کے وہ جرائم کیا تھے جن کے باعث انہیں منصبِ امامت سے معزول کرکے، یہ ذمہ داری بنی اسماعیل کو دے دی گئی۔ قرآن مجید نے سورہ بقرہ اور آل ِعمران میں تفصیل بیان کی ہے کہ ایک نئی امت کی تاسیس کیسے ہو رہی ہے اور ساتھ ہی اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔
یہود کا آخری بڑا جرم سید نا مسیحؑ کا انکار اور ان کو مصلوب کرنے کی کوشش ہے۔ رسولوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ انہیںکبھی ان کے مخالفین کے حوالے نہیں کرتا۔ اس قانون کے تحت اللہ نے انہیں یہود کی دسترس سے محفوظ رکھا، تاہم انہوں نے اپنے طور پر ان کی جان لینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کو مسندِ امامت ہی سے معزول نہیں کیا، ان پر ہمیشہ کے لیے ذلت اور مسکنت بھی مسلط کر دی۔ اس کی ایک صورت قرآن مجیدنے یہ بتائی کہ قیامت تک، مسیحی یہود پر غالب رہیں گے۔ سید نا مسیح ؑ کو مخاطب کر کے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک تیرے ان منکروں پر غالب رکھوں گا(آلِ عمران3;55)۔
آج یہود مسیحیوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ جنہیں یہودیوں کی قوت سمجھا جاتا ہے، وہ دراصل امریکہ کی قوت ہے۔ اسرائیل کی بنیادیں کتنی کمزور ہیں، اس کا اندازہ اس وقت ساری دنیا کو ہو گیا جب امریکہ نے صرف ایک بار سلامتی کونسل میں اس کے خلاف قرارداد کو ویٹو نہیں کیا۔ یہ قرارداد ایک مسلم ملک مصر کی جانب سے پیش ہونا تھی لیکن ٹرمپ کے کہنے پر مصر نے اس سے گریز کیا۔ اس قرارداد کو ملائشیا کے ساتھ نیوزی لینڈ اور وینزویلا جیسے مسیحی اکثریت رکھنے والے ممالک نے قبول کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں پیش کر دیا۔ اس ایک جھٹکے نے اسرائیل کو اس کی اوقات یاد دلا دی۔ اب اس کی ساری امیدیں ٹرمپ صاحب سے وابستہ ہیں جنہوں نے اسرائیل کی دل جوئی کی ہے۔ گویا یہ امریکہ ہی ہے جو آج بھی اسرائیل کا سہارا ہے۔
یہ مقدمہ بھی بدیہی طور پر غلط ہے کہ ساری دنیا کے یہودی یک جان ہیں۔ ان میں بے شمار فرقے ہیں اور بہت سے لوگ لبرل ہیں جونام کے یہودی ہیں۔ ایسے بھی کم نہیں جو انصاف کی بات کرنے والے ہیں۔ امریکہ میں یہودیوں کا ایک بڑا گروہ موجود ہے جو اسرائیل کے خلاف ہے اور متحرک ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کا سب سے بڑا ناقد نوم چومسکی یہودی ہے۔ ایک اور بے بنیاد بات یہ ہے کہ ساری دنیا کے یہودی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اسرائیل جا آباد ہوئے۔ اگر ایسا ہے تو امریکہ کی معیشت کیسے ان کے ہاتھ میں ہے؟
ہر مذہب میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اخلاص اور سادگی کے ساتھ اپنے مذہبی راہنماؤں کی بات کو حرفِ آخر سمجھتے اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ برصغیرکے مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں۔ تحریکِ ہجرت کے دوران میں، جب کچھ علما نے یہ فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہے تو بہت سے لوگ اپنی جائدادیں بیچ کر افغانستان روانہ ہوگئے۔ وہاں انہیں کسی نے داخل نہیں ہو نے دیا۔ کچھ جان سے گئے اورکچھ مال و اسباب سے۔ اسی طرح، ایسے یہودی بھی ہیں جو مذہبی مطالبے کے تحت اسرائیل گئے؛ تاہم یہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے کہ ساری دنیا کے یہودی اسرائیل پہنچ چکے ہیں یا سارے کے سارے یہودی مذہبی پیش واؤں کی بتائی گئی پیش گوئیوں پر ایمان لاچکے ہیں۔
سینیٹر جان کیری نے واضح الفاظ میں اسرائیل کو تنبیہ کی ہے اسے یہودی کے بجائے ایک جمہوری تشخص کے ساتھ جینا ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ اسرائیل کے لیے یہ ایک مخلصانہ مشورہ ہے۔ دنیا میں اب ایک مذہبی ریاست کے لیے جگہ سکڑتی جا رہی ہے۔ ایک ملک میں جس مذہب کے ماننے والے اکثریت میں ہوںگے، یقیناً اس کی سیاست و معاشرت پر اس مذہب کے اثرات غالب ہوں گے لیکن آج انسان فکری ارتقا کے جس مرحلے میں ہے، اس میں ریاست کے مذہبی تشخص کے لیے گنجائش بہت کم ہو گئی ہے۔
آج کچھ لوگ نہ جانے کیوں دنیا میں برپا فساد کو مذاہب کی جنگ بنانا چاہتے ہیں۔کبھی اسے مسلمانوں اور مسیحیوں کی معرکہ آرائی قرار دیا جاتا ہے۔کبھی اسے یہودیوں اور مسلمانوں کی جنگ بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ مسیحیوں اور یہودیوں کی لڑائی ہے۔ دنیا میں جنگ ہمیشہ اقتدار اور قوت کے لیے ہوتی ہے۔ لوگ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز سمجھتے ہیں، اس لیے اقتدار کے لیے مذہب کو بھی حسبِ ضرورت استعمال کرتے ہیں۔ یہی پہلے بھی ہوتا تھا اور یہی آج ہو رہا ہے۔ مذہب کے سیاسی استعمال سے ایک معرکہ مذہبی نہیں بن جاتا۔
انسانی زندگی میںمذہب کی مداخلت اخلاقی ہے۔ وہ فرد کے اخلاقی تطہیر کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انفرادی مفادات کے لیے سرگرم ہو یا اجتماعی مقاصد کے لیے متحرک، وہ کسی حیثیت میں اس بات کو فراموش نہیں کرتا کہ اسے اپنے پروردگار کے حضور پیش ہونا اور اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہونا ہے۔ پھر وہ بطور حکمران جب اپنی ذمہ داری اداکرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ اقتدار کے لیے اللہ کا حکم کیا ہے۔ وہ بطور باپ جب اپنا فرض نبھاتا ہے تو اس بات کو نظر انداز نہیں کر تا کہ اللہ نے اسے کیا احکام دیے ہیں۔ یوں زندگی کا ہر شعبہ مذہب کے تعلیمات سے منور ہو جاتا ہے۔
مذہب کو جب ہم اصل جگہ سے ہٹا کر، اسے اپنی تعبیرات اور خواہشات کا اسیر بناتے ہیں تو پھر لازم ہے کہ تضاد پیدا ہو۔ اس کا ایک مظہر یہودیوں کے بارے میںکچھ لوگوں کی اپنی تعبیریں ہیں جس کے لیے وہ مذہب سے جواز ڈھونڈتے ہیں اور یوں تضاد کا شکار ہوتے ہیں۔ کبھی امریکہ اور اسرائیل کو ایک صف میں کھڑا دکھاتے ہیں اورکبھی دل چاہتا ہے تو اسرائیل کو امریکہ کا دشمن بنا دیتے ہیں۔ اگر ہم ان واقعات کو اقتدار کی کشمکش کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کریں تو پھر کوئی تضاد واقع نہیں ہوتا۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول ﷺ نے بھی آنے والے ادوار کے بارے میں پیش گوئیاں کی ہیں۔ ان میں لازم ہے کہ یقینی اور ظنی علم کو الگ کیا جائے۔ یہودیوں اور مسیحیوں کے باہمی تعلق کے بارے میں قرآن مجید نے ایک پیش گوئی کی جو یقینی ہے۔ دیگر پیش گوئیوںکو اب اسی کی روشنی میں دیکھا جا ئے گا۔

(بشکریہ روزنامہ دینا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔