مذہب کے نام پر ووٹ مانگنا انتخابی بدعنوانی ہے: بھارتی سپریم کورٹ


\"\"پیر کی صبح بھارت کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست دان انتخابات میں مذہب یا ذات پات کا سہارا نہیں لے سکتے۔ سات رکنی بینچ نے فیصلہ دیا ہے کہ انتخابی عمل میں مذہب کا کوئی کردار نہیں کیوںکہ انتخابات ایک سیکولر سرگرمی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ مذہب یا ذات پات کے نام پر ووٹ مانگنا انتخابی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور بد عنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ فیصلہ اتر پردیش کے انتخابات سے چند ہی ہفتے پہلے دیا گیا ہے۔ اس برس پنجاب، اتر کھنڈ، گوا اور مانی پور میں بھی انتخابات ہونا ہیں۔

بھارت کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی میں فیصلہ دیا گیا ہے کہ مذہب انسان اور خدا کے درمیان انفرادی معاملہ ہے۔ عدالت کے چار ارکان نے فیصلے کی حمایت کی ہے جب کہ تین ججوں نے اختلافی نوٹ لکھا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کے انتخابات میں سیاسی جماعتیں عام طور پر مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کرتی ہیں۔ چنانچہ انتخابی مہم میں ان موضوعات پر کھلے عام بحث مباحثے کی روایت رہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  مذہبی روادری کیسے کیسے نبھائی گئی