’ڈیورنڈ لائن کا قیدی‘ کی اصل کہانی


\"\"

فیض اللہ خان کی کتاب ’ڈیورنڈ لائن کا قیدی‘ پڑھے ہوئے کچھ عرصہ ہو گیا ہے مگر ہم اپنی بہترین یادداشت کی بنا پر اس پر ایسے ہی تبصرہ کر سکتے ہیں جیسے کل رات نہیں بلکہ آج ہی یہ کتاب پڑھی ہو۔

کہانی کی ابتدا کچھ ایسے ہوتی ہے کہ فیض اللہ خان دفتر میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ ان کو کالعدم تحریک طالبان کے احسان اللہ احسان صاحب کا فون آیا کہ فارغ ہو تو ہمارے ساتھ لنچ کر لو، ساتھ کچھ گپ شپ بھی ہو جائے گی۔ کچھ مزید تفصیلات بھی بتائی گئی تھیں مگر لنچ کی دعوت کا سن کر اس وقت فیض اللہ خان نے ان پر غور نہ کیا۔ فیض اللہ خان خواہ خود کو مانسہرے کی پیدائش کہتے ہوں، مگر وہ دل کے گوجرانوالوی ہی ہیں اور کھانے کے لئے ہر رسک لینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے دفتر سے چھٹی لی کہ ضروری دفتری کام ہی ہے، اور پیغام رساں کے ساتھ نکل لئے۔

پیغام رساں انہیں کراچی سے لے کر پہلے تو پشاور پہنچا۔ پھر فاٹا میں ان کو ٹھنڈی یخ بوتل پلائی۔ اس کے بعد فریش فرائیڈ فش کھلانے کا لالچ دے کر ڈیورنڈ لائن کے پار افغانستان میں لے گیا۔ ادھر حسب وعدہ تازہ مچھلیاں کھلائی گئیں۔ فیض نے کوئی انٹرویو وغیرہ بھی اپنی اسی یو ایس بی پر ریکارڈ کر لیا جس میں انہوں نے پاکستانی قوالوں کے گانے وغیرہ بھرے ہوئے ہیں تاکہ دفتر جا کر کارکردگی دکھا سکیں۔

\"\"

دوپہر کا کھانا کھاتے کھاتے رات ہو گئی تھی تو ادھر ہی رک گئے۔ فیض صاحب بیان کرتے ہیں کہ ان کی شہرت سن کر کہ پاکستان سے ایک زلفان ملنگ خبریال آیا ہے، ملک کے کونے کونے سے ہر قابل ذکر اور بڑا مچھر ان کو سلام کرنے آیا اور عرب طریقے کے مطابق اظہار محبت کیا جسے الطاف حسین بھائی نے ایک اِدھر پپی اور ایک پپی اُدھر کہہ کر خوب بیان کیا ہے۔

فیض اللہ خان صبح اٹھ کر پشاور کے لئے تیار ہو رہے تھے کہ پیام آیا کہ ادھر کنہڑ کی طرف ان کی دنبہ کڑاہی کی دعوت ہے۔ دنبے کے چکر میں وہ پیغام رساں کی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ پیغام رساں نے اپنے چپل اتارے تو فیض اللہ خان کچھ پریشان ہوئے مگر یہ دیکھ کر ہنسنے لگے کہ اس بچارے کا سارا میوزک اس کے میمری کارڈ میں تھا جو کہ اس نے حفاظت کی خاطر اپنے چپل میں ایک جیب بنا کر اس میں رکھ دیا تھا۔ فیض اللہ خان نے اسے بتایا کہ دیکھو، یو ایس بی زیادہ بہتر رہتی ہے۔ کارڈ کے مقابلے میں یہ زیادہ مشکل سے گمتی ہے اور ہر گاڑی کے میوزک سسٹم میں آسانی سے لگ جاتی ہے۔ ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ ایک پل پر گاڑی رکی اور افغان فوجیوں نے ان کی تلاشی لینی شروع کی۔ ہرکارے کے چپل تو انہوں نے نہ اتروائے مگر فیض اللہ خان کی یو ایس بی دیکھتے ہی وہ کچھ مشکوک سے ہو گئے اور اسے اپنے کمپیوٹر میں لگا کر چیک کیا۔

اسی بارے میں: ۔  شادی کی خواہش عورت کے لیے بے شرمی اور مرد کی ضرورت کیوں؟

\"\"بدقسمتی سے کمپیوٹر کا والیوم پوری آواز میں کھلا ہوا تھا اور جب اس پر پوری آواز میں قوالی کی صدا مع تالیوں کی آواز کے گونجی تو افغان فوجی یہی سمجھے کہ طالبان نے حملہ کر دیا ہے۔ وہ وہیں سڑک پر گر گئے اور پوزیشنیں لے کر اندھا دھند فائرنگ کرنے لگے۔ قوالی ختم ہوئی تو ان کی جان میں جان آئی اور انہوں نے ہیڈکوارٹر کو رپورٹ بھیجی کہ طالبان کا ایک جان لیوا حملہ مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا ہے۔ وہ زمین سے اٹھے اور فیض اللہ خان کو دہشت گردی کے جرم میں گرفتار کر لیا۔

اس کے بعد ایک طویل عدالتی جنگ اور جیلوں کی کہانی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان میں ہر صاحب استطاعت شخص کو انصاف سستے داموں دستیاب ہے۔ وہاں کی انٹیلی جنس والے فیض اللہ خان کو جاسوس قرار دینے پر تلے ہوئے تھے کیونکہ وہ بھارتی گانے سننے کے عادی تھے اور قوالی کا ایک لفظ بھی ان کے پلے نہیں پڑا تھا تو یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ کوڈ ورڈ میں کوئی پیغام ہے۔ اس سلسلے میں فیض اللہ خان سے کافی تفتیش بھی کی گئی کہ بتاؤ تو سہی کہ یہ کیا پیغام ہے جو کہ آئی ایس آئی نے تمہیں دیا ہے۔ فیض اللہ خان انہیں یقین دلاتے کہ یہ قوالی ہے مگر افغان انٹیلی جنس یہ ماننے کو تیار نہیں تھی۔

فیض اللہ خان نے سلیم صافی، حامد میر، اصغر اچکزئی، ملک بھر کی صحافتی تنظیموں، پاکستانی دفتر خارجہ اور نہ جانے کس کس کے ذریعے افغان حکومت کو یہ یقین دلوانے کی کوشش کی کہ یہ خفیہ پیغام نہیں بلکہ قوالی ہے مگر افغان یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھے کہ موسیقی ایسی ہو سکتی ہے جس میں خواہ تالیوں اور طبلے ہی سے سہی، ایسی زوردار مار پیٹ ہو۔ ادھر پاکستان میں افراسیاب خٹک اور محمود اچکزئی صاحبان افغان صدر حامد کرزئی صاحب کو اس بات کا یقین دلوا سکتے تھے مگر قوالی سن کر وہ بھِی پریشان ہو گئے اور حامد کرزئی سے بات نہ کی۔

\"\"

قصہ مختصر، کوئی ساڑھے پانچ ماہ تک فیض اللہ خان ادھر افغان جیلوں میں قید رہے جس دوران انہیں تین سال میں پہلی مرتبہ اپنے بال کٹوانے کا موقع ملا۔ اس عرصے میں انہوں نے کھانا پکانے میں بھی خوب مہارت حاصل کی اور دری زبان میں اپنی استطاعت بڑھائی۔ نیز ان کے وزن میں بھی خاطر خواہ کمی ہوئی جس کی وجہ وہ خواہ کچھ بتاتے رہیں مگر ہماری رائے میں تو اس کی وجہ نائی ہی تھا جس نے ان کے بال ہلکے کر دیے تھے۔ قیام کے دوران فیض اللہ خان ادھر افغانستان کی ٹیکنالوجی سے بھی بہت متاثر ہوئے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کس طرح وہ اپنا پتلا سا موبائل چارج کرنے کی خاطر ٹیوب لائٹ کی پٹی کے اندر رکھ دیا کرتے تھے۔ عام قیدیوں کے موبائل سامنے کسی ساکٹ میں لگے ہوتے تھے تو پہریدار انہیں نکال کر اپنا موبائل وہاں لگا دیتے تھے۔

اسی بارے میں: ۔  دنیا بھر کے گدھوں کو چین سے شدید خطرہ

سارے صحافی، ڈپلومیٹ اور حکمران وغیرہ فیض اللہ خان کو افغانوں سے لینے میں ناکام ہو گئے کیونکہ وہ اتنے عرصے میں افغان حکام فیض اللہ خان کے اخلاق سے بہت متاثر ہو چکے تھے۔ افغان انہیں پیار سے ملنگ زلفان خبریال کہہ کر پکارنے لگے تھے جس کا مطلب ہوتا ہے ’ملنگ ای اوئے‘۔ کچھ دوسرے افغان اس کا مطلب یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’لمبی زلفوں والا ملنگ صحافی‘ مگر ہمیں ان دوسرے درجے کے افغانوں کی بات پر اعتبار نہیں ہے۔

\"\"

بہرحال جب سب رہائی کی کوششوں سے مایوس ہو گئے تو اچانک ملالہ یوسفزئی اور ضیا الدین یوسفزئی کو خبر ملی کہ پاکستانی قوالیوں کی ایک اہم یو ایس بی پانچ ماہ سے افغانوں نے اپنی تحویل میں لے رکھی ہے۔ اس پر انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی سے گفتگو کی اور ان کو معاملے کی نزاکت سے آگاہ کیا کہ اگر یو ایس بی واپس نہ کی گئی تو پاکستان میں ہر عرس پر افغان حکومت کے نمائندوں کو زبردستی شرکت پر مجبور کیا جائے گا اور ان سے قوالی گوائی جائے گی۔ افغان صدر حامد کرزئی نے شدید خوفزدہ ہو کر اپنی صدارت کے عین آخری دن یو ایس بی واپس کر دی اور فیض اللہ خان ہی کی ذمہ داری لگائی گئی کہ اسے طورخم بارڈر سے واپس پاکستانی سرزمین پر لایا جائے۔

’ڈیورنڈ لائن کا قیدی‘ ایک بہترین کتاب ہے جو کہ اسی سارے معاملے کو سوا دو سو صفحات میں بیان کرتی ہے اور کلچرل ڈپلومیسی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ ایک اچھِی کتاب ہے جو کہ افغانوں کی پاکستان سے محبت کا بار بار ذکر کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ ہماری مجاہدانہ پالیسیوں سے متاثر ہو کر کس طرح پاکستان کی سٹریٹیجک ڈیپٹھ بن چکے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 733 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar