2016ء کا ادب و ثقافت کے حوالے سے طائرانہ جائزہ


 2016ء ادب و ثقافت کے گلشن پر خزاں کی طرح چھایا رہا۔ ایک اداسی اور افراتفری نے اس سال میں انسانوں کو ٹینشن میں رکھا۔ ادب کے شعبے میں کانفرنسیں اور ادبی میلوں کا بازار گرم رہا۔ لاہور میں الحمرا آرٹس کونسل کی کانفرنس نہیں ہوئی مگر لٹریری فیسٹیول میں انگریزی کے طلباء و طالبات اور ایلیٹ کلاس نے ادب کے نام پر اپنا رانجھا راضی کیا۔ اس میں اہل ادب آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے 2016 میں نیشنل بک فاﺅنڈیشن کا ادبی کتاب میلہ سجایا مگر انہوں نے اپنے ادبی احباب اور خاص طور پر صحافی اہل قلم کو دعوت دی تاکہ ان کے حق میں پرنٹ میڈیا آواز اٹھاتا رہے اور بلاشبہ اس کا انہیں فائدہ بھی ہوا۔ بہت سے کالموں میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور عرفان صدیقی کی تحسین کی گئی۔ اکادمی ادبیات پاکستان بھی اہل قلم کانفرنس کا ارادہ رکھتی ہے مگر یہ بیل 2016 میں منڈھے نہ چڑھ سکی۔ البتہ کراچی کی عالمی ادبی کانفرنس دسمبر 2016 میں بڑی دھوم دھام سے منعقد کی گئی اس بار تو کانفرنس نئے سال کے الیکشن کمپین کا حصہ تھی۔ کانفرنس اس حوالے سے تو خاصی کامیاب رہی کہ اس میں کراچی کے علاوہ پنجاب سے بھی چند انہی لکھاریوں کو مدعو کیا گیا جو تقریباً ہر کانفرنس کا حصہ ہوتے ہیں۔ کراچی کانفرنس کے انعقاد پر سنجیدہ ادبی حلقوں کی طرف سے تنقید بھی سامنے آئی۔ سوشل میڈیا پر بھی احمد شاہ اور ان کے نورتنوں کی گونج سنائی دی مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ احمد شاہ اور ان کے قریبی احباب اس کانفرنس کے مالی ثمرات سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ بلکہ اگلے برس کے لئے بھی کامران ٹھہرے۔ فروغ کتاب کے لئے بک فاﺅنڈیشن نے بلاشبہ سب سے زیادہ کام کیا۔ نیشنل بک فاﺅنڈیشن پہلی بار ایک کماﺅ پوت جیسا ادارہ بن کر ابھرا۔ سستی کتاب کے ذریعے قارئین کو متوجہ کیا گیا۔ نئی کتب بھی شائع کی گئیں۔ دیگر ادبی میلوں میں بھی کتب کے سٹال دکھائی دیئے مگر عام طور پر کتاب کی مارکیٹ میں مندی کا رونا زیادہ رویا جاتا ہے۔ 2016 میں مہنگی کتب شائع کرنے والوں میں سنگ میل پبلی کیشنز لاہوربازی لے گیا۔ نئے نئے پبلشرز اگر غیر معیاری کتابوں کی قیمت زیادہ رکھیں تو بات سمجھ میں آتی ہے مگر پاکستان کے چند بڑے ادارے فیروز سنز، سنگ میل، جہانگیر بکس، الفیصل، ماورا، اگر ادبی کتب کی قیمتیں بہت زیادہ رکھنے لگیں تو افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ سنگ میل نے تو ایک کتاب کی قیمت پانچ ہزار روپے رکھی۔ درست کہ بابا محمد یحییٰ خان کو لوگ شوق سے پڑھتے ہیں مگر کیا یہ کتب کوئی مڈل کلاس قاری افورڈ کرسکتا ہے؟ مطالعے کا شوقین کوئی غریب شخص ایسی مہنگی کتاب خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کتاب چاہے جتنی خوبصورت اور معیاری شائع کی جائے اگر وہ مطالعہ کرنے والوں کی قوت خرید سے باہر ہو جائے تو اس کا فائدہ؟ بابا جی تو اگلی کتاب کی قیمت 15 ہزار روپے رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 2016 میں بابا محمد یحییٰ خان کی” اے بابا ابابیل “ مہنگی ترین ادبی کتابوں میں سے ایک تھی۔

اس برس جن اہل قلم کی کتابوں شائع ہوئیں ان سب کی فہرست بنانا تو میرے لئے دشوار ہے مگر پھر بھی اپنی یادداشت کے مطابق کوشش ہے کہ چند احباب کا تذکرہ کر دیا جائے۔ ظفر سپل ہمارے سنجیدہ موضوعات پر لکھنے والے تخلیق کار ہیں۔ اس برس ان کی دو کتابیں سامنے آئیں۔ مسلم فلسفے کا ارتقاء اور مغربی تنقید کا مختصر تعارف۔ آنے والے برس میں ممکن ہے ظفر سپل اپنی نظموں کا مجموعہ بھی لانے میں کامیاب ہو جائیں۔ زاہد حسن کو ان کے پنجابی ناول پر ایوارڈ سے نوازا گیا، غازی علم دین میرپور آزاد کشمیر سے نہ صرف جاندار ادبی جرائد شائع کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں بلکہ ان کی کئی سنجیدہ کتب بھی اس برس منصہ شہود پر آئیں۔ ظفر اقبال اردو غزل کا ایک معتبر نام ہے۔ ان کے کلیات کراچی سے شاعر علی شاعر کے ادارے رنگ ادب سے شائع ہوئے۔ ظفر اقبال کے پنجابی کلام پر مشتمل کل کلام ”پنڈو کڑی“ کے نام سے ادارہ پلاک نے شائع کیا۔ صغرا صدف اس ادارے کی ڈائریکٹر سے ڈی جی کی نشست پر آگئی ہیں۔ اب وہ پہلے سے زیادہ فعال دکھائی دیں گی اس ادارے نے منیر نیازی پر ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ کا مقالہ شائع کیا۔ رائٹرز اور فنکاروں کو معقول رقم پر مبنی ایوارڈ بھی دیا جاتا ہے۔ 2016 میں افضل احسن رندھاوا کو کیش ایوارڈ دیا گیا۔ واصف علی واصف سے محبت کرنے والے اپنے ڈاکٹر اظہر وحید تصوف پر عمدہ لکھنے والوں میں سے ایک ہیں، اُن کے کالموں کا مجموعہ شائع ہوا۔ اس کی تعارفی تقریب 2016 کی کامیاب ترین تقریبات میں سے ایک تھی۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا پنجاب یونیورسٹی سے ریٹائرمنٹ کے بعد کسی نہ کسی حوالے سے یونیورسٹی کی خدمت میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ تاریخ ادب پر پنجاب یونیورسٹی کی کئی جلدیں سامنے لا چکے ہیں۔ یہ بڑے کاموں میں سے ایک کام ہے، وہ پروفیسر آف ایمریطس بھی ہیں اور بغیر معاوضہ کے اردو کے طالب علموں کو پڑھاتے بھی ہیں۔ مغربی پاکستان اردو اکیڈمی کے اشاعتی کام کے نگران بھی ہیں ان کے دم سے اکادمی کی کتب مقبول ہو رہی ہیں۔

منصور آفاق نے اپنی شاعری دیوان کی صورت شائع کی۔ اس دور میں ”دیوان“ والے شاعر نہیں ملتے مگر منصور آفاق ابھی کچھ اور دیوان لانے کی تیاریوں میں بھی ہیں۔ ناصر عباس نیئر بطور نقاد مشہور ہیں مگر اس برس ان کا افسانوی مجموعہ منظرعام پر آیا۔ بشری رحمن نے کالم کم لکھا مگر اپنی خود نوشت پر زیادہ توجہ دی۔ اپنے شاندار دفتر میں ادبی تقریبات منعقد کرانے کا آغاز کیا۔ عاصم بٹ نے کئی مغربی تخلیق کاروں کے تراجم کتابی صورت میں شائع کئے۔ یار عزیر حسن کاظمی اِس برس اسلام آباد کی ادبی سرگرمیوں میں نمایاں دکھائی دیئے۔ اعتبار ساجد نے یادنگاری کا آغاز کیا اور ٹی ہاﺅس کے حوالے سے اپنی یادیں تحریر کیں۔ ڈاکٹر محمد کامران اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے صدر شعبہ بن کر سامنے آئے انہوں نے یونیورسٹی میں سیمینار اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ جی سی یونیورسٹی میں اگرچہ ریٹائرڈ پروفیسرز کی خدمات سے شعبہ چل رہا ہے مگر ڈاکٹر ہارون قادر کے نازک کاندھوں پر کنٹرولر امتحانات کا بوجھ ہونے کے سبب وہ لنگڑا کر چلنے لگے ہیں جس سے شعبہ اردو کی رفتار بھی ایسی ہی ہے۔ ان کے ایم فل کی کلاسز کے طلباء اکثر پاک ٹی ہاﺅس میں ان کے ”علمی فیوض و برکات“ پرفخر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر اپنی روایات پر چل رہا ہے۔ غافر شہزاد نے حلقے کے اجلاسوں کو مقبول بنا لیا تھا مگر اب وہ پہلی سی رونق دیکھنے میں نہیں آتی البتہ امجد طفیل نے یک روزہ کانفرنسیں اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں کرائی ہیں۔ یوں حلقہ ارباب ذوق پر اورینٹل کالج کی چھاپ گہری دکھائی دی۔ اس برس ایوان اقبال کے حلقہ نے بعض غیر جانبدار اہل قلم کو اپنی طرف متوجہ کیا ایوان اقبال کے اجلاس میں حاضری حوصلہ افزا رہی۔ 2016 میں سب سے زیادہ فعال ڈاکٹر تحسین فراقی رہے۔ انہوں نے مجلس ترقی ادب کی نایاب کتب شائع کیں۔ سب سے زیادہ ادبی کانفرنسوں میں شریک ہوئے اور اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھ اپنے شاگردوں کو بھی کانفرنسوں میں مدعو کرانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو آزمایا اور کامیاب رہے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ ان دنوں لاہور میں ادبی دنیا کے لئے چھوٹے چھوٹے کئی تحسین فراقی بیگ اٹھائے ایک کال کے فاصلے پر قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں کے لئے دستیاب ہیں۔ اس برس سب سے اچھا کالم لکھنے والوں میں روزنامہ دنیا کے ممتاز صحافی ارشاد عارف سرفہرست رہے۔ اسی اخبار میں ممتاز شاعر اظہار الحق نے اپنی زندگی کے بہترین کالم لکھے۔ روزنامہ دنیا کا ایڈیٹوریل صفحہ چند اچھے کالم نگاروں کے سبب دیگر اخبارات کے ادارتی صفحات سے زیادہ توجہ حاصل کر چکا ہے۔ یہاں ہارون الرشید، خورشید ندیم، خالد مسعود، عامر خاکوانی، سعدیہ قریشی اور رﺅف کلاسرا جیسے مقبول کالم نگار موجود ہیں جو عوامی نبض شناس ہیں۔ ان سبھی کالم نگاروں کے سرخیل نذیر ناجی ہیں جو اس وقت عوامی جذبات کی حقیقی ترجمانی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت میں ڈاکٹر اجمل نیازی کا دم غنیمت ہے۔ ان کی خدمات کا اعتراف بھی دسمبر 2016 میں کیاگیا۔ واقعتاً یہ ایک درویش صفت تخلیق کار کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک یادگار تقریب تھی جو ادبی برادری کی بجائے فنکار برادری نے برپا کی۔ نوائے وقت میں نصرت جاوید نے چند اچھے کالم لکھے۔ اسد اللہ غالب اس برس مسلم لیگ کی حکومت کے قصیدہ خواں دکھائی دیئے۔ نوائے وقت عموماً اپوزیشن کا اخبار رہا ہے مگر میاں صاحبان کے ادوار میں یہاں پالیسی قدرے ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔ اسد اللہ غالب نے کچھ عرصہ عوامی ترجمانی سے توجہ حاصل کی تھی مگر 2016 میں انہوں نے عوام کی بجائے حکومتی حلقوں کو زیادہ قریب کر لیا۔ ممکن ہے یہ ہمارا گمان ہو مگر بطور قاری ہمارے تاثرات تو یہی ہیں البتہ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ روزنامہ دنیا میں اسد اللہ غالب کے صاحبزادے عمار چودھری نے اس برس بھی بہت عمدہ کالم لکھے۔ روزنامہ جنگ کے کالم نگاروں میں ہمیں تو صفدر محمود کے متصوفانہ موضوعات زیادہ پسند ہیں۔ سیاست کے حوالے سے صفحہ دو پر حسن نثار کا کالم ہم ضرور پڑھتے ہیں کبھی کبھی ان کا کالم ہمارے دل کا ترجمان بن جاتا ہے۔ یادنگاری میں بھی انہیں ید طولیٰ حاصل ہے مگر وہ ایسا بہت کم لکھتے ہیں۔ اقبال کو نہ چھیڑتے ہوئے باقی جو کچھ لکھتے ہیں وہ عوام الناس کے دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔ جنگ میں کشور ناہید کا کالم کبھی کبھی اچھا ہوتا ہے وگرنہ زیادہ اگرچہ وہ ادبی لکھتی ہیں مگر صرف ادبی کانفرنسوں کے حوالے سے، تاکہ آنا جانا لگا رہے۔ اب تو وہ ہر کانفرنس میں تواتر سے موجود ہوتی ہیں۔ خدا انہیں سلامت رکھے۔ اصغرندیم سید نے اخبار میں تو نہیں البتہ سوشل میڈیا پر چند زبردست کالم تحریر کئے اگر وہ جم کر کالم لکھیں تو وہ اس شعبے میں بھی بہت نام کما سکتے ہیں۔ ڈاکٹر انوار احمد نے بھی کچھ عرصہ قبل اچھے کالم لکھے مگر اب صرف فیس بک پر چند جملے لکھتے ہیں۔ ان میں بھی گہرا مشاہدہ اور تاثیر ہوتی ہے مگر زیادہ توجہ ان کے ادبی جریدے پیلوں پر ہے جس کو وہ باقاعدہ شہر شہر صدا لگا کر بیچنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے۔ اگر وہ لکھنے پر بھی زیادہ توجہ دیں تو ادب کے قارئین خوش ہوں گے۔

افتخار عارف 2016 کے آخری عشرے میں پھر سے سرگرم ہوئے ۔ ایران سے واپسی پر انہیں دوبارہ مقتدرہ قومی زبان کا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان ہو چکا ہے۔ توقع ہے کہ اسلام آباد میں پھر سے رونقیں لگنے والی ہیں۔ عرفان صدیقی کو ادبی امور کا وزیر ہونے کی عزت حاصل ہے تمام علمی ادبی ادارے انہی کے زیر سایہ کام میں مصروف ہیں مگر ان کی حقیقی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ وہ ادبی سے زیادہ سیاسی امور میں وزیراعظم کی مدد فرماتے ہیں ۔ ادب سے تو ان کا اتنا ہی تعلق ہے جتنا عطاء الحق قاسمی کا سیاست سے ہے۔ دونوں کالم نویس ہیں ،اب عرفان صدیقی صرف فائلوں پر لکھتے ہیں ادھرعطاء الحق قاسمی کی کالم نگاری بھی مسلم لیگ کے اقتدار کا سورج طلوع ہوتے ہی ماند پڑ جاتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اقتدار اور تخلیقی معیار ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ادیب شاعر تخلیق کار عوام کا ترجمان ہوتا ہے اور اقتدار میں رہ کر تو فقط اہل اقتدار ہی کی ترجمانی ہو سکتی ہے۔ قارئین عطاء الحق قاسمی کے کالموں کے لئے اب کسی اور کی حکومت آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

اب کچھ شاعروں کی بات کرلی جائے۔ ظفر اقبال بلاشبہ غزل میں معتبر حوالہ ہیں اور رہیں گے مگر نجانے وہ کالم نگاری میں اپنا وقت کیوں صرف کرتے ہیں اور کالم میں ان کے پاس لکھنے کو کچھ نہیں ہے وہ تو اللہ بھلا کرے انیس شاہ جیلانی کا، کہ لگتا یہی ہے کہ انیس صاحب کی کتاب ان کے ہاتھ لگی ہوئی ہے، وہ کمپوزر کو نشان لگا کر صفحات دے دیتے ہیں اور آخر میں اپنا کوئی مطلع لکھ کر کالم تمام کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی کسی شاعر کی بھد اڑا دیتے ہیں کہ اپنے علاوہ کسی کو شاعر ہی نہیں سمجھتے۔ حالانکہ روزانہ قطعہ نگاری نے ان کی فنی چابکدستی کا بھانڈہ ،بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے ۔ اکثر ساقط الوزن قطعہ چھپواتے ہیں حالانکہ انہیں یہ شاعری چھاپنے کی بجائے قارئین سے چھپانی چاہئے۔ ہمیں ان کی یہ ادا پسند ہے کہ تنقید برداشت بھی خوب کرتے ہیں اپنا قصیدہ لکھنے والے کو اپنے ہی کالم میں بے عزت کرسکتے ہیں اور خود پر تنقید کرنے والوں کی تعریف کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس کشادہ دلی میں ادبی حلقوں میں ان جیسا ایک تخلیق کار بھی نہیں۔ یہاں تو آپ کسی ادیب پر اپنے رسالے کا نمبر بھی نکال دیں تو ذرا سی بات پر وہ عمر بھر کے لئے آپ کا دشمن بن جاتا ہے مگر ظفر اقبال بعض اوقات بالکل نو آموز شعرا کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اور رگڑا لگانے پر تل جائیں تو اپنے قریبی حاشیہ برداروں کو بھی معاف نہیں کرتے۔ اس برس جواز جعفری نے اچھی شاعری کی باقی احمد پوری، منصور آفاق، نذیر قیصر، نوید صادق، غافر شہزاد،جاوید قاسم، حسین مجروح، فاروق شہزاد، حمیدہ شاہین، نبیل احمد، آفتاب خان، عرفان صادق نے غزل میں نئے در وا کئے، نئی زمینوں میں جدید طرز احساس کے حامل شعر تخلیق کئے نظم میں شفیق خان، اعجاز رضوی نمایاں رہے۔ کراچی سے نزھت عباسی، نسیم نازش شاہدہ حسن کے ساتھ ساتھ قیصر وجدی، لیاقت علی عاصم، ذوالفقار عادل، یامین اختر، اجمل سراج، معراج جامی کی آوازیں اپنی انفرادیت کے ساتھ نمایاں رہیں۔

اسلام آباد ،راولپنڈی میں جلیل عالی، روش ندیم، سلمان باسط، عائشہ مسعود، حسن عباس رضا، خالد اقبال یاسر، نثار ترابی، احمد لطیف، اختر عثمان، منظر نقوی، احمد رضا راجا، محبوب ظفر، رشید امجد، ڈاکٹر فرحت عباس، کلیم احسان بٹ، عبدالعزیز ساحر، طارق نعیم، جنید آذر، ارشد چہال زیادہ فعال دکھائی دیئے۔ ملتان سے رضی الدین رضی اور اظہر سلیم مجوکہ، شاکر حسین شاکر، نوازش علی ندیم، خالد مسعود، ڈاکٹر محمد امین، ڈاکٹر مختار ظفر، سہیل جعفری متحرک اہل قلم قرار پائے۔ ڈاکٹر محمد امین کی نئی کتب بھی منظرعام پر آئیں۔ آرٹس کونسل اور ادبی بیٹھک کے ساتھ اکادمی ادبیات پاکستان نے بھی اپنا دفتر قائم کیا۔ آرٹس کونسل اور ادبی بیٹھک میں ادبی رونق لگی رہی۔ پاک پتن سے ڈاکٹر رحمت علی شاد کی دو کتابیں منظرعام پر آئیں ۔ ان کا ایم فل مقالہ بیدل حیدری کے کلام کی تدوین پر مشتمل تھا۔ بیاض بیدل کے نام سے اس کتاب نے پذیرائی حاصل کی۔ قراة العین حیدر پر ان کی کتاب بھی شائع ہوئی۔ علی رضا لاہور ٹیلی ویژن سے وابستہ تھے ساہیوال دفتر میں تبادلہ کرا گئے۔ ڈاکٹر غافر شہزاد نے سب سے زیادہ اخبارات میں ادبی مضامین اور کالم تحریر کئے اورادب میں نہایت فعال رہے۔ اس برس جناب جبار مرزا کی قائد اعظم کے حوالے سے کتاب کی ادبی حلقوں میں بے حد پذیرائی ہوئی۔ ممتاز صحافی اور روزنامہ جرات کے مدیر اعلیٰ جمیل اطہر کی یادداشتیں (ایک عہد کی سرگذشت) مقبول ہوئی،میجر(ر) غلام نبی اعوان کی کیاکیا ہمیں یاد آیا نے بھی تحسین حاصل کی۔ میرپور آزاد کشمیر سے محترم اکرم سہیل کا شعری مجموعہ اورناصر بشیر کا سفرنامہ عمرہ(پہلی پیشی) کے نام سے منظر عام پر آیا۔ ڈاکٹر صغرا صدف کے کالموں کا انتخاب اور صوفیہ بیدار کے صوفیانہ تراجم ” ست گُر“ ملک مقبول احمد کی کتابیں واقعتا مقبول ہوئیں ،ان کی سونح نگاری اور خاکہ نویسی کا تجزیہ سرگودھا سے ہمارے مہربان ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے کندن چہرے کے عنوان سے کیا، ہارون صاحب کی نئے سال کی کتب بھی دسمبر کے آخری ایام میں شائع ہوئیں جن میں ایک سو پچیس اہل قلم کاتعارف اور کندن چہرے شامل ہیں۔ انجم قریشی کا پنجابی شعری مجموعہ اور اکرم شیخ کی پنجابی صوفی شعرا پر کتب بھی اسی برس چھپیں۔ خواتین میں شاہدہ دلاور بھی ادبی سکرین پر نمایاں رہیں۔ اسی طرح یاسمین حمید، صغرا صدف، صوفیہ بیدار نیلما ناہید درانی، شہناز مزمل، بشری اعجاز، سلمیٰ اعوان نیلم احمد بشیر، ناز بٹ، عمرانہ مشتاق، پروین سجل، حمیدہ شاہین، شبہ طراز، تسنیم کوثر، عفت علوی لاہور کے منظرنامے میں نمایاں دکھائی دیں۔ ڈاکٹر نجیب جمال ایک عمدہ انسان اور نقاد بہاولپور سے لاہور آگئے ہیں۔ خاقان حیدر غازی پلاک میں ادبی تقریبات میں صغرا صدف کے ہم رکاب رہے مگر ان کی پنجابی شاعری بھی گونجتی رہی۔ انہوں نے احسان رانا کی شعری تصنیف کا یادگار پروگرام بھی منعقد کرایا۔ مشاعرہ باز شاعروں میں مزاحیہ شعراء ہی ہر جگہ چھائے رہے۔ زاہد فخری سلمان گیلانی محمد طاہر شہیر، ڈاکٹر فخر عباس نے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ فرحت شاہ نے لاہور ٹی وی چینل جوائن کیا اور مزاحمتی شاعری کی۔ راجا نیئر نے ادبی صحافت میں نام کمایا۔ غفور شاہ قاسم اشفاق ورک نے تنقید میں اپنا حصہ ڈالا۔ مظہر نیازی اور نذیر یاد نے میانوالی میں رہ ادبی مراکز کو اپنی طرف متوجہ کرایا،اچھی شاعری کی،جھنگ سے محسن مگھیانہ،گوجرانوالہ سے جان کاشمیری،سعید اقبال سعدی،نے خود کو ادبی طور پر زیادہ متحرک رکھا۔ جان کاشمیری کے اِس برس ایک ہی مہینے میں بیک وقت دس شعری مجموعے شائع ہوئے جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ شیریں مسعود کو اس برس پنجابی زبان وادب کی خدمات پر پلاک کی جانب سے خصوصی ایوارڈ دیا گیا۔ تنویر ظہور کی علامہ اقبال کے حوالے سے کتاب کی بھی پذیرائی ہوئی۔

2016 اہل ادب کے لئے خاصا بھاری ثابت ہوا دنیائے ادب کے کئی نامور لکھاری ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئے۔ جن میں انتظار حسین، ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر اسلم فرخی، جمیل الدین عالی، اسلم کولسری، پرتوروھیلہ، کمال احمد رضوی، فاطمہ ثریا بجیا، ندا فاضلی، جوگندر پال، حسین سحر، اصغر علی شاہ، کشمیری لعل ذاکر، ذکاء الرحمن اور نسرین انجم بھٹی کے علاوہ فنکاروں میں جنید جمشید، اے نیئر، امجد صابری شامل ہیں۔ عبدالستار ایدھی جیسا انسان دوست بھی 2016 نے ہم سے چھین لیا۔

ادبی جرائد صرف ادیب شاعر ہی پڑھتے ہیں ان میں سے بھی بیشتر صرف اپنی نگارشات کی قرات کر کے پرچہ ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ ادبی پرچہ ایک خسارہ ہے اس خسارے میں نمایاں رہنا آسان نہیں۔ الحمراء ادبی دنیا کا مقبول جریدہ بن چکا ہے۔ شاہد علی خان نے اسے باقاعدہ شائع کر کے اسے اہم بنا دیا ہے۔ ایک زمانے میں یہ درجہ تخلیق کو حاصل تھا مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب اظہر جاوید حیات تھے، ان کے صاحبزادے تو صرف اور صرف سالانہ خریداروں کو پرچہ ارسال فرماتے ہیں۔ جس سے تخلیق ادب کے قارئین کے ذہنوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم بیاض اور فانوس ماہنامہ خالص ادبی جرائد میں مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ نئی نسل کی پوری کھیپ کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ عمران منظور نعمان منظور، اعجاز رضوی بیاض کے لئے بہت محنت کرتے ہیں۔ ادارہ بیاض کا اجرا خالد احمد نے کیا اب اس کی یاد میں ایوارڈ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ احمد ندیم قاسمی کو بھی یہی ادارہ تواتر سے یاد کرتاہے۔ خالد علیم فانوس نکالتے ہیں ادب دوست خالد تاج شائع کر رہے ہیں۔ یہی پرچے باقاعدہ ہیں۔ باقی کراچی سے اجرا ضخیم جریدہ ہے اجرا کے مدیر احسن سلیم انتقال کر چکے ہیں۔ اب دیکھئے پرچہ شائع ہوتا ہے یا نہیں۔ اسلام آبادسے، ممتاز شیخ نے البتہ ایک ضخیم مگر نہایت معیاری ادبی جریدہ شروع کررکھا ہے۔ سال میں ایک بار سہی مگر نہایت اہتمام سے شائع کیا جاتا ہے۔ کراچی سے شہرزاد، اور انجمن ترقی اردو کا قومی زبان بھی شائع ہوتا ہے۔ نیشنل بک فاﺅنڈیشن کا کتاب اب صرف فاﺅنڈیشن کی سرگرمیوں اور کتب کی خبروں یا پھر مشیر علمی ادبی امور عرفان صدیقی کی رنگین تصاویر کے لئے وقف ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ بک فاﺅنڈیشن کا مکمل ترجمان ہے۔ اکادمی ادبیات بھی ادبیات شائع کرتی ہے مگر وہ صرف اکادمی کے افسران کے قریبی دوستوں اور بیورو کریٹس کی میزوں پر دکھائی دیتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی کا فنون ان کی صاحبزادی ناہید قاسمی شائع کرتی ہیں۔ مگر پرچہ زیادہ فعال نہیں۔ سرکاری ادبی ماہنامے ”ماہ نو“ میں ادارتی سطح پر تبدیلیاں آنے سے شاید پرچے کے قارئین بھی بدل جاتے ہیں۔ ہمیں ہمارے دونوں ایڈریسز پر پرچہ ملتا تھا۔ مگر نئی ٹیم نے آتے ہمیں پرچہ ارسال کرنا بند کر دیا ہے۔ قصور بتایا نہیں گیا کہ ہم تحریر کر سکیں۔ ملتان سے ڈاکٹر انوار احمد کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ پیلوں ایک معیاری ماہنامہ ہے۔ قائم نقوی بھی نمود شائع کرتے ہیں۔ مگر اس کی رسائی تاحال سبھی اہل قلم تک نہیں ہو سکی۔ کوئٹہ سے شاہ محمد مری کا ماہنامہ سنگت ،بہاولپور سے ڈاکٹر شاہد حسن رضوی کا الزبیراور الہام بھی باقاعدہ شائع ہوئے اور ادب کو قارئین تک پہنچایا۔

پشاور سے ناصر علی سید کا روزنامہ آج ادبی ایڈیشن بھی ادبی حلقوں میں خاصا مقبول ہے۔ ناصر علی سید کو 2016 میں تمغہ امتیاز مل چکا ہے۔ روزنامہ آج میں کالم لکھتے ہیں اور ادبی ایڈیشن ترتیب دیتے ہیں۔ جنگ کا ادبی صفحہ آدھا آتا ہے جس میں صرف نئی کتب کی خبریں یا ایک مختصر مضمون شامل ہوتا ہے۔ یا دو تین شہروں کی ادبی روداد….نوائے وقت بھی یہی کچھ کر رہا ہے۔ روزنامہ دنیا کا ایڈیشن کبھی کبھی بہت اچھا ہوتا ہے اور وہ بھی اگر لاہور کے علاوہ تیار ہو تو۔۔۔ کیونکہ لاہور کا تیار کردہ ایڈیشن ادبی ایڈیشن کے نگران کی مالی ضروریات میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ سو گاہک شاعر ادیب چونکہ بہت کم ہوتے ہیں سو پرچہ یکسانیت کا شکار ہے۔ آپ ایڈیشن باقاعدگی سے دیکھیں چند مخصوص شاعر ادیب ہی آپ کو دکھائی دیں گے بلکہ ایک شاعر نے تو ہمیں فی کس تحریر و تصویر کا ریٹ بھی بتایا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

فیس بک پر اس برس بھی زیادہ تر تصویروں کے شائق خواتین و حضرات چھائے رہے۔ اس برس سب سے زیادہ تصاویر اپ لوڈ کرنے کا اعزاز جنوئین تخلیق کار یارعزیزجواز جعفری کے حصے میں آیا۔ البتہ وہ اپنے بارے میں کمنٹ لکھتے وقت فیس بک کے چھچھوروں کی طرح میں، میں کی گردان نہیں کرتے بلکہ اپنے نام کے ساتھ فقیربھی لکھتے ہیں ہمیں یہ انکسار اتنا بھایا ہے کہ ہم نے خود اپنے آنے والے شعری مجموعے کا نام ”عاجزانہ“ رکھ دیا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *