جمہوریت کیسے طلوع ہوئی ؟


aasimبرادرم فرنود عالم نے سوال اٹھایا کہ جمہوریت مغرب سے کیوں طلوع ہوئی اور ازمنہ وسطی سے لے کر ماقبل دورِ جدیدتک کے پادشاہی تناظر میں ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ترغیب دی۔ ان کی تحریر بنیادی طور پر جمہوریت کو انسانی تہذیب و تمدن کے سفر میں ایک حتمی پڑاو¿ فرض کرتے ہوئے ہمیں یہ اشارے فراہم کرتی نظر آئی کہ فلسفہ جمہوریت اس سوال کا بنیادی جواب تھا کہ سماج میں تبدیلی اقتدار کا معقول ترین طریقہ کیا ہو۔ چونکہ مشرقی (مسلم؟) دانش اس سوال کا جواب فراہم کرنے کے قابل نہ تھی لہٰذا اس دریافت کا سہرا مغربی دانش کے سر رہا۔ اپنے جواب مضمون میں برادرم عدنان کاکڑ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہ قرونِ وسطیٰ کی مغربی دانش میں فی نفسہ کوئی ایسے غیرمعمولی خیر کے پہلو نہ تھے، یہ اشارہ کیا کہ مسلسل فکری ارتقا جاری رہنے کے باعث جمہوریت کا فروزاں پڑاو¿ ہی اس علم و فضل کے کارواں کا منطقی مقدر تھا۔ مقابلے میں مشرق چونکہ فکری جمود کا شکار تھا لہٰذا بنیادی انسانی حقوق کی تفہیم سے قاصر رہا اور حکمرانوں کے استبداد کے ذریعے عوام کے حقوق کی پامالی جاری رہی۔

اس منظرنامے پر ذہن میں کافی سوال اٹھے لیکن ہمیں گمان ہے کہ چونکہ معاملہ صرف جمہوریت کی علت کی دریافت سے تعلق رکھتا تھا لہٰذا دونوں صاحبان ِ علم نے مناسب سمجھا کہ الزامِ طوالت سے بچنے کی خاطر کسی حد تک سطحیت کا الزام گوارا کر کے ہی اپنی گزارشات پیش کی جائیں۔ ہمارا مخصوص نکتہ نظر اختلافی نہیں لہٰذا اتنا ہی عرض کر سکتے ہیں کہ دونوں محترم دانشور ہمیں بنیادی طور پر مشرق کو ہی آئینہ دکھاتے نظر آئے جس میں نظر آنے والا بدصورت چہرہ انسان دشمنی اور جامد فکری روایت کا مظہر ٹھہرا۔ ہمیں اپنی یہ فقیرانہ گزارشات پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی اگر ہم واقعی آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر ڈر جاتے لیکن ایسا نہ ہوا۔ اس کے برعکس ہمیں آئینے میں اپنے چہرے پر بے چارگی تو ضرور نظر آئی لیکن بدصورتی نہیں۔ اس لئے تحریک پیدا ہوئی کہ مشرق و مغرب کے اس تقابلی تناظر میں جمہوریت کی بحث سے متعلق یہ تیسرا دلچسپ سوال ابھی تک تجزیہ طلب ہے کہ مغربی تناظر میں ہی سہی جمہوریت آخر کیوں کر طلوع ہوئی؟ آئیے بہت طویل عبارت آرائی سے دامن بچاتے ہوئے انسانی فکر کی تاریخ میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں اور پھر دیکھیں کہ مشرق میں ایسا ممکن کیوں نہیں ہو سکا۔

اگر فلسفہ جمہوریت کو معقول مان کر اس کی تبلیغ کا حق ادا کرنا ہو تو کسی اگر مگر کے بغیر انسان دوستی کا مفروضہ قائم کرنا ناگزیر ہے۔ انہی دونوں دوستوں کی مذکورہ بالا تحریروں کو مثال کی خاطر سامنے رکھا جائے تو باآسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ زمانہ جدید میں ایک تعلیم یافتہ اور خرد پسند ذہن کو یہ مفروضہ قائم کرنے کے لئے کسی قسم کے لمبے چوڑے استدلال کی حاجت نہیں۔راقم چونکہ نفسیاتی اعتبار سے کم از کم اس مفروضے کی حد تک کسی قسم کے اشکالات کے شکار نہیں لہٰذا یہ کہنے میں کوئی عار نہیں جب بھی اس مفروضے پر سوال اٹھے گا تو جلد یا بدیر اس اعتراض کی بنیادوں میں نسل پرستی، مذہبی استبداد یا جبر پر مبنی کوئی اور نفسیاتی عوامل دریافت کئے جا سکیں گے۔ہماری رائے میں صرف ایک جائز صورت ایسی ہے جب کسی بھی جواب الزام کے بغیر اس مفروضے پر معقول طریقے سے سوال اٹھانا شاید ایک کلی طور پر غیرمتعصب تجزیاتی تناظر میں بامعنی سمجھا جائے۔ یہ صورت خود انسان کی تعریف اور اس تعریف پرانسانوں کی ایک غالب تعداد میں اتفاق یا اختلاف ِ رائے کی ہے۔

سولہویں تا انیسویں صدی کی یوروپی فکر میں کسی حد متنوع دھاروں کے باوجود انسانی تعریف کے اس حیاتیاتی تناظر کا یہ منفرد دھارا باآسانی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔انسانی تعریف کا یہ حیاتیاتی تناظر اپنے اوائل میں تو محض ازمنہ قدیم کے ایک ’پراسرار‘ اور ’مغلوب ‘ تصورِ انسان سے بغاوت پر ہی منحصر تھالیکن آہستہ آہستہ اس میں کئی دلچسپ تبدیلیاں رونما ہوئیں۔اس فکری ارتقاء پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالنی ہو تو 1520ءمیں مارٹن لوتھر کے ” حریتِ عیسائیت“ کے دستاویز سے ابتدا کیجئے اور ملاحظہ کیجئے کہ وہاں کس طرح قدیم الہامی متون میں موجود روح و بدن کی دوئی سے مدد لیتے ہوئے خیر اور شر کے پہلوو¿ں کو انسانی فطرت میں تعقلی بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔ لوتھر الہامی متون کی اس تعبیر پر دلائل دیتے ہیں کہ اچھے اعمال انسان کو اچھا نہیں بناتے بلکہ اچھا انسان اچھے اعمال کرتا ہے۔ عیسائیت کی تاریخ میں یہ اس روایت کا آغاز ہے جو صریحاً انسان نوازی کے تناظر میں ازمنہ قدیم کی پوری فکری روایت پر ازسرِ نو نظر ڈالنے کا تقاضا کرتی ہے اور ایک ایک کر کے جوہرِ انسانی پر چھائے پراسرار پردوں کو ’نیچر ‘کے ذریعے ہٹاتی چلی جاتی ہے۔ لوتھر سے کم و بیش دو صدی بعد تک عیسائیت میں طبیعی فلسفے اور ازمنہ قدیم کی مظاہر پرست ، صنم آشنا ( Pagan) روایت سے جنم لینے والی یہ نئی طبیعی مذہبی روایت ارتقا پذیر رہی جو اس گھٹن زدہ ماحول میں یقیناً انسانی آزادی کا ایک مترنم نغمہ تھا۔ تاریخ ِ فکر اور فلسفے کا ہر طالبعلم اس نغمے کی مترنم دھنوں کے پرکیف اتار چڑھاو¿سے بخوبی واقف ہے جہاں ہر لمحہ اپنی کرب و مسرت کی شماریات میں ڈوباجرمی بنتام (Jereme Bentham)اور جان اسٹیورٹ ملJohn Stuart Mill)) کا افادیت پسندانسان بالآخر بزبانِ نطشے خدا کی موت کے اعلان کے ساتھ اپنی تکمیل کو پہنچا۔ علامتی طور پر یہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ سماج میں اب وہ انسان ناپید ہو چکا ہے جو مقتدرِ اعلی کے کسی مافوق الفطرت عالمگیر تصور کو بامعنی سمجھنے کے قابل ہو۔

لیکن یہاں ہمیں فلسفہ اخلاقیات یا فلسفہ مذہب کی سماجی روایت کا احاطہ مقصود نہیں، بلکہ اشاراتی طور پر صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ فلسفہ جمہوریت کی اصل مغربی بنیادیں انسان کے حیاتیاتی اور افادیت پسند تصور پر ہی استوار ہیں اور انہیں مان کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔اسی بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے فلسفہ جمہوریت کی کلاسیکی لبرل تشریحات ہی اس کی اصل تشریحات ہیں اور اگر انسان کو اپنی علویت یا دوسرے لفظوں میں جمہوریت کے مقداری فلسفے کی بجائے کسی متبادل اقداری فلسفے پر اصرار مقصود ہے تو ان لبرل بنیادوں پر تنقید یا ان سے اتفاق و اختلاف کئے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔یہ انسان دوستی کا وہ فلسفہ ہے جس میں تصورِ انسان پر سوال اٹھانا سراسر ناجائز ہے۔ دوسرے لفظوں میں لبرل ہیومنزم کی فکر میں ’ہیومن‘ ایک ایسا اٹل مفروضہ ہے جس پر سوال اٹھانے سے کچھ ایسی غیرمعمولی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں جن سے پورا سماجی منظرنامہ از سرِ نو خاکہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔ہوا یوں کہ مشرقی فکر کے دھاروں نے تو ’ہیومن‘ تک پہنچنے کے سفر کی کمر ہی نہیں باندھی لیکن تاریخ کے بگولے نے انہیں اڑا کر جمہوریت کی منزل پر لا پٹخا۔

لہٰذا اب اکیسویں صدی میں اگر ہمیں اس مغربی فکری روایت کے تاریخی تناظر میں مشرق یا مسلم ذہن کے فکری جمود پر تنقید مقصود ہے تو پھر ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ کیا ہم صرف انسان کے حیاتیاتی تصور ہی کو اپنی دلچسپی کا محور مانتے ہیں یا اب تک غالب مشرقی نفسیات انسا ن کی کسی پراسرار، مافوق الفطرت، کرشماتی جہت کو بامعنی سمجھنے پر قائم ہے؟ ہماری رائے میں ایک فوری سماجی تجربے کے لئے مغربی ادب کی لیبارٹری میں موجود مال مسالے سے مدد لی جا سکتی ہے۔ ترگنیف کا بازاروف (Fathers and Sons کا ہیرو)لے لیجئے یا دوستویفسکی کا زیرِزمین آدمی، یا تھوڑا مزید آگے سفر کیجئے اور سارتر یا کامیو کا کوئی بھی ہیرو سامنے رکھ لیجئے، اور کرب، مسرت، معنویتِ حیات و موت جیسے متغیرات متعین کر کے تصورِ انسان کے تناظر میں سماجی تجزئیے کی کوشش کیجئے۔آپ کو معلوم ہو گا کہ مغرب میں تصورِ انسان بتدریج تین چار صدیوں سے ایک منطقی سفر پر گامزن ہے جس کی کی آخری منزل دو انتہاو¿ں کے درمیان بٹی ہے۔جن میں سے ایک رجائیت پسند انتہاصرف اور صرف انسانی مسرت میں اضافے کو بامقصد گردانتی ہے اور دوسری فنائیت پسند انتہا پر انسان ایک ایسا وجودی حادثہ ہے جس کو خود شعوری کا مرض لاحق ہے اور لامعنویت کا بھنور اسے بہرحال نگل کر ہی رہتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سماجی تناظر میں ان دونوں انتہاو¿ں میں سمجھوتے کے لئے مغربی فکر آج دن تک یہ معقول حل تجویز کرتی آئی ہے کہ چونکہ حیاتِ انسانی کے عالمگیر معنی پر اتفاق ہونا ناممکن ہے لہٰذا سماج میں ہر فرد کو اپنی ذات کے ننھے سے دائرے میں معنی پر ایک حتمی حکومت عنایت کر دی جائے۔پس یہ ننھی سی حکومت ہی سماجی و سیاسی پھیلاو¿ کے بعد جمہوریت کو ایک معقول جواز بخشتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ بہت سارے” حیاتیاتی“ انسان مل کر اپنی اپنی ننھی حکومتوں کے درمیان یہ عمرانی معاہدہ قائم کرتے ہیں۔ جوں ہی اس حیاتیاتی تصور کے مقابل کوئی اور تصور اس طرح لانے کی ایک بھی کوشش کی جائے گی کہ ذاتی سرحدیں پار ہوں، تو ان دائروی حکومتوں کے نظام میں رخنہ پڑے گا اور انسانوں کی طرف سے اس متبادل تصور کو کسی ایسی کسوٹی پر پرکھنے کا مطالبہ کیا جائے گا جو عالمگیر ہو۔ تاحال وہ کسوٹی سائنس کی کسوٹی ہے اور اسی لئے ایک جدید معاشرے کی ترقی کے لئے سائنس کو وہی آفاقی حیثیت حاصل ہے جو کبھی الہامی متون کو ہوتی تھی۔

جمہوریت کے مقداری فلسفوں کو الہامی متون کے اقداری فلسفوں کے ساتھ گڈ مڈ کر دینا ہماری بے چارگی کی وہ اولین علامت ہے جس کے بعد جمہوریت صرف مانگے کی مذہبی قبا پہن کر ایک بے ڈھنگی چال چلتی ہی نظر ہی آ سکتی ہے۔ اگر ایسا کرنا ہی ہے تو اس کے لئے صرف دائروی حکومتوں کا یہ نظام مغرب سے درآمد کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ لیکن اگر ایسا نہ کیا جائے تو وہ پھر جدید معنوں میں جمہوریت نہیں ہو گی۔ اسی لئے جب ہم اپنے دوستوں کے اصرار پر گریبان میں جھانکتے ہیں تو ہمیں شرمساری کی بجائے ایک بے چارگی کا احساس ہوتا ہے۔ اور اوپر دئیے گئے پس منظر میں مشرقی فکر کی یہ بے چارگی باآسانی سمجھ آ سکتی ہے۔ ہماری رائے میں استعمار کے نتیجے میں جب جبری طور پر مشرق کو جمہوریت کا تحفہ دیا گیا تو مشرقی ذہن کی ماہیت ایک ارتقائی خلا کے نتیجے میں حیاتیاتی انسان کا ایک مغربی تصور قائم کرنے اور سماج میں منطقی دلیل کے زور پر اس کو منوانے سے قاصر تھی، لہٰذا فرد کو اپنے دائرے میں وہ ننھا دائرہ فراہم نہ کر سکی جس میں وہ لذت پرستی اور فنائیت پسندی کے درمیان لامتناہی نقاط میں کہیں ڈولتا رہتا، نہ تو کوئی آگے بڑھ کر اس کی بے پناہ مسرت کی طلب پر سوال اٹھاتا اور نہ ہی اس کا اپنی گردن تک بڑھنے والا ہاتھ روکتا۔ مشرق میں نہ تو کوئی جرمی بانتام پیدا ہوا جو ہماری مسرتوں کو مقدار وں میں قید کرکے اسٹیورٹ مل کے باپ کو ان میں بڑھوتی کے آزمودہ طریقے لکھواتا ، نہ ہی ہمارے تہہ خانے میں کوئی ایسا زہرناک آدمی تھا جو ہمیں دنیا کو جہنم واصل کرتے ہوئے چائے پیتے رہنے کی تلقین کرتا۔ ہمارے پاس تو وہی غالب و میر تھے اور وہی مصحفی و ذوق جن کے نزدیک کرب میں مسرت اور مسرت میں کرب تلاش کرنے کی جستجو ہی افضل انسانی قدر تھی۔یوں کہہ لیجئے کہ لے دے کر کچھ قدیم اقداری فلسفے تھے جو دقیانوسی قرار پائے کیوں کہ ان کے پرکھنے کے لئے عالمگیر کسوٹیاں دستیاب نہ تھیں۔ وہ اقداری فلسفے ہمارے سماج کا نامیاتی جزو تھے لہٰذا ان کا ہمارے اندر سے نکلنا ناممکن تھا۔ لیکن مقداری فلسفوں کی یلغار سے ان کی شکل ضرور بگڑ گئی۔ ایک اجنبی گرائمر میں بات کرنے والی زبان کب تک شعور میں موجود معنی کی ترسیل کی کوشش کر سکتی ہے؟ تاریخ کا دھارا اسے مسلسل بے تکان یہ زبان بولتے رہنے پر اصرار کرتا بھی رہے تو باالآخر شعور کی مکمل قلبِ ماہیت کے انتظار کا کرب سہنا ہی پڑتا ہے۔ سو ہم یہ کرب سہہ رہے ہیں اور مشرق بتدریج مغرب کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔

لہذا ہماری رائے میں جمہوریت تو محض ایک سطحی سا مظہر ہے۔ معقول ترین تنقید یہی ہو سکتی ہے کہ مشرق کا انسان عمومی طور پر دراصل ہمیشہ اپنے آپ کو صرف ایک حیاتیاتی وجود سے کچھ زیادہ سمجھنے کی غلطی کرتا رہا۔ہمیشہ وجدانی طور پر اپنے وجود میں کوئی نہ کوئی فوقِ طبعی معنی فرض کئے بیٹھا رہا۔طوالت اور مفلس الکلامی آڑے آتی ہے لہٰذا محض دعوی کرنے پر ہی اکتفا کیا جا سکتا ہے کہ نتیجتاً، وہ نہ توایک کامل لذت پرست بن سکا اور نہ ہی ایک معقول فنائیت پسند۔ اگر ہمارے اس طالبعلمانہ قیاس کو مزید پرکھنے کی حاجت ہو تو اول الذکر کی خاطر اختر شیرانی اور چارلس بوکوفسکی کی نظموں کا تقابلی معائنہ کر لیجئے اور آخر الذکر کے لئے آنس معین اور ڈیوڈ فاسٹر والاس کی تخلیقی زندگیوں کا۔


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 48 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

2 thoughts on “جمہوریت کیسے طلوع ہوئی ؟

  • 07-02-2016 at 10:58 pm
    Permalink

    عاصم بخشی بھائی اس مضمون پر مبارکباد وصول فرماَئیں
    امر واقعہ ہے کہ جمہوریت ہم پر نازل ہوئی ہے، اتاری گئی ہے ہم اس تک پینچے نہی ہیں چنانچہ ہم اس کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو درآمد شدہ جاپانی کار کیساتھ سڑک پر کرتے ہیں۔
    اب تو مغرب نے مشرق پر بہ جبر نفاذ کی بھی اپنی حد تک کوشش کر لی ہے لیکن ابتری ہمارے سامنے ہیں۔ میرا اب اس بات پر کامل ایمان ہوچکا ہے کہ جمہوریت نافذ نہی ہوتی بلکہ ایک ارتقائی سفر کے نیتیجے کوئی معاشرہ ہم جمہوریت کے مقام پر پینچتا ہے۔ اس سارے عمل میں کٹھن کام مذھب کے کردار کی سرحدیں متعین کرنا ہے اور یہی کٹھنا آج عالم اسلام میں برپا قتال کا باعث ہے۔

  • 20-02-2016 at 12:56 pm
    Permalink

    مغرب کا قبضہ گیری کا شوق اور مشرق و مغرب کے “عالم” کی ایک ہی آواز:
    مغرب نے بالباس مادہ پرستی/ مذہب کے مادہ پرست تعبیر (پالزم) کے بھیانک نتائج بھگتنے کے بعد تھک ہار کر “بے لباس مادہ پرستی” ہی کو اپنی منزل بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ مادہ پرستی چاہے “بالباس ہو یا بے لباس” دونوں کے نتائج انسانیت کے لیے انتہائی مہلک ہوا کرتے ہیں۔ اور تاریخ نے اس بات کو ثابت بھی کیا۔
    مسلمانوں کا اصل مسئلہ اسلام پر اس کی اصل شکل میں عمل کرنا اور اسلامی فکر و معاشرے کو زندگی کے “مادہ پرستانہ” تشریحات کے غلبہ سے بچاکر زندگی کا سفر جاری رکھنا ہے۔ لیکن افسوس! مسلم متجددین اسلام کو بھی مغرب کے پالزم (مسیحیت/ مذہب کی مادہ پرستانہ تعبیر) پر قیاس کرتے ہوئے مسلمانوں کے زوال کا واحد حل مغرب کے مادہ پرستانہ تصورات کا ابطال و رد کیے بغیر اس کی اقدار کو مسلم معاشرے پر مسلط کرنا قراردیتے ہیں اور اسے ہی کامیابی و ترقی کا حتمی نسخہ سمجھتے ہیں۔ جبکہ روایت پسند مسلمانوں کا ایک قابل ذکر حلقہ مغرب کے مادہ پرستانہ تصورات کے ساتھ ان کی اقدار و تجربات کے بعض مثبت پہلووں کا انکار کرنا اور اس پر لعنت بھیجنا بھی ضروری سمجھتا ہے۔
    اس بات کو سادہ ترین لفظوں میں بیان کیا جائے تو ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ عالم مغرب کا عالم اپنے “مادہ پرستانہ تصورات” کی عقیدت، محبت اور احترام کے جذبے کے تحت اور عالم مشرق کے بعض روایت پسند “مسلم عالم” مغرب کے “مادہ پرستانہ تصورات” کی غلاظت اوراس سے نفرت کے جذبے کے تحت عالم اسلام کے رہنے والوں کو مغرب کے فائدہ مند تجربات سے استفادہ کی کسی صورت اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
    مغرب کا عالم کہتا ہے کہ زندگی کے اجتماعی میدان میں ہم نے جو مفید تجربات کیے ہیں اور جن کا فائدہ مند ہونا ثابت ہوچکا ہے اس سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ہمارے “مادہ پرستانہ تصورات” کے آگے سرجھکا دیں اس کی بلاشرکت غیرے حاکمیت کوتسلیم کرلیں اس کے بعد انہیں یہ حق ہے کہ وہ ان تمام فائدہ مند تجربات (جن پر عالم مغرب کی مہر لگ چکی ہے) سے استفادہ حاصل کریں۔ لیکن اگر وہ مغرب کے مادہ پرستانہ و ملحدانہ تصورات و اقدار پر ایمان لائے بغیر ان کی حاکمیت کے آگے سرجھکائے بغیر اسلام ہی کی حاکمیت پر ایمان رکھنے پر مصر ہیں اور اس کے ساتھ وہ ان انسانی تجربات سے استفادہ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں جن پر عالم مغرب کے سود خور تاجروں کی “مہر” لگ چکی ہے تو پھر ایسے مسلمانوں کا انجام دیکھنا ہو تو مصر،الجزائر، پاکستان اور عراق کے چند خونی نمونوں ہی پر غور کرلیا جائے۔
    مشرق کے بعض روایت پرست عالم کہتے ہیں کہ مغرب کے مادہ پرستانہ ملحدانہ تصورات اسلام کی ضد ہیں یہ اللہ کے خلاف بدترین بغاوت پر مبنی ہیں۔ چونکہ مغرب ان شیطانی اور تباہ کن تصورات پر ایمان رکھتا ہے لہٰذا مسلمانوں کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ کسی بھی ایسے فائدہ مند انسانی تجربے سے استفادہ کا نام تک لے جن پر مغرب نے قبضہ کرکے ان پر اپنی مہر لگادی ہے۔ کیونکہ مغرب کے قبضے کے بعد ان فائدہ مند انسانی تجربات میں بھی مغرب کے شیطانی تصورات کی روح گھس گئی ہے۔ اب اگر مسلمانوں نے مغرب کے ان فائدہ مند انسانی تجربوں سے استفادہ کی کوشش کی تو “مغرب کے شیطانی تصورات کی روح” بھی مسلم معاشروں میں گھس آئے گی اور انہیں تہس نہس کرکے رکھ دے گی۔
    مشرق و مغرب کے ان داناؤں کی یہ ہم آواز ڈانٹ سن کر عام مسلمان بے چارہ سہم جاتا ہے اور فائدہ مند انسانی تجربوں پر مغرب کے غیر فطری اور ناجائز قبضے کو عین فطری اور جائز سمجھ کر اپنا اگلا قدم اٹھاتا ہے۔

Comments are closed.