بلوچستان کا گوادر اور وصی بابا کا گوادر


\"\"تصور کریں کہ مقامی لوگوں سے ایک غیر علاقائی افسر روک کر مجرموں کی طرح کرخت لہجہ میں تفتیش کرے کہ کون ہو؟ کہاں جارہے ہو ؟ اور کیوں جا رہے ہو ؟ تو یہ یاد رکھئے گا ایک تیر سینے میں پیوست ہوجاتا ہے ۔ خیر! وصی بابا آپ گوادر آئے آپ نے ایک بڑا سفر طے کیا اور کوہ قاف کے قصوں کی طرح پیش کیا گیا ’گوادر‘ بھی دیکھا اس کا شکریہ !۔ آپ بھی اس علاقہ کا مشاہدہ کرنا اور ان مشاہدات کو قلم بند کرنا چاہتے تھے ، میں بھی یہی چاہتا تھا مگر میں نہیں کرسکا۔ گوادر کا مشاہدہ کرنے کے بعد قلم میں وہ زور ہی نہیں رہا کہ حقیقت کو سفید ورق میں لپیٹ کر ترقی کے ٹھیکیداروں کے منہ پر رسید کیا جائے جو سبز باغوں کی جنت میں گوادر کے لوگوں کا خون چوس رہے ہیں ۔ان کی بے روزگاری ، پست حالی کو ترقی کے دھاگے میں باندھ رہے ہیں ، میں نہیں کرسکا۔ کیوں ؟ کیونکہ بطور ایک بلوچ کے خود کو متعارف کروانا اس قلمی مشاہدے کو لکھنے میں حائل رہا۔ لیکن آپ کی تحریر پڑھ کر مجھے ذرا حوصلہ ملا کہ میں بھی گوادر کا ایک اور زاویہ ، تصویر کا ایک اور رخ بھی سامنے لاﺅں۔ سنیں وہ دوسرا رخ۔
وصی بابا جی !عامر صاحب جو آپ کے ہمراہ تھے ، آپ شکر کریں کہ ان کے پاس ’سکیورٹی پاس ‘تھا ورنہ ہماری تو بڑی شلواریں اور بھدہ زنگ آلود چہرے کا رنگ ہی ان کی سکیورٹی تھریٹ میں شامل ہے آپ کو تو حوالدار نے چھوڑ دیا ۔ہماری ہی قمیضیں ہیں جن کے کنارے ہر آنے والی چوکی پر پھنس جاتے ہیں اور گوادر پہنچتے پہنچتے قمیض سلامت رہنا مشکل ہوتا ہے۔ ارے قبلہ ، اس نے آپ سے پشتو میں بات کی نا ؟ ذرا بلوچی میں جواب دیتے تو پھر کیا معلوم کہ شربت و چائے کی صلح مارتے یا آپ کو کسی مصلحت کے تحت جان چھڑانی پڑتی۔. میں وہاں کے عسکریت پسندوں پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہوں گا کیونکہ گوادر کا اصل مسئلہ وہ نہیں ہے جس پر آپ نے الفاظ ضائع کئے ہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کا معیار زندگی ، کسمپرسی، بد حالی اور بے بسی ہے جس کو رقم کرنا آپ نے گوارا نہیں سمجھا ۔ آپ کو وہاں ان عمارتوں میں لگی ہوئی وزیراعظم و وزیراعلیٰ کی تصاویر نظر آگئیں مگر’چائنیز‘ میں لگے سائن بورڈز نظر نہیں آئے ہوں گے۔ آپ کو اس پر بھی حیرت نہیں ہوئی ہوگی کہ وہاں بلوچی زبان میں لکھا گیا ایک تختہ بھی نہیں ہے کیونکہ آپ تو گھومنے آئے تھے۔، رہنا تو ہمیں ہے ، اپنے ہاتھوں سے چھن رہی زمین ، زبان، رہن سہن پر ہمیں ماتم کرنا ہے۔ آپ کی ایک اور تصحیح کرتا چلوں وصی بابا جی ! وندر کا علاقہ کراچی سے محض 68 کلومیٹر کے فاصلے پر مین آرسی ڈی شاہراہ پر واقع ہے جہاں سے گزر کر ہی پورے بلوچستان جایا جاتا ہے۔. اس علاقے میں سینکڑوں سیاح کنڈملیر، کوئٹہ ، مولا چٹوک اور گوادر وغیرہ کے لئے جاتے ہوئے رکتے ہیں ۔وہاں کے لوگ بہت عادی ہیں شہری طرز کے لوگوں کو دیکھنے کے ، آپ کا ان کو ایک نامانوس سا ایک خاکہ بنانا آپ کے مشاہدے کی کمزوری واضح کررہا ہے۔ بہر حال، بات گوادر کی۔. اللہ آپ کے رفیقوں کی عمر دراز کرے جنہوں نے آپ کی خدمت کی، طعام و قیام کا بندوبست کیا لیکن آپ نے اپنی تحریر میں ’پانی’ کا تذکرہ نہیں کیا جس کا گدلا رنگ اور رینگتے کیڑے مشہور ہیں یا شاید آپ نے منرل واٹر پیا ہوگا بلکہ وہی پیا ہوگا کیونکہ لوگوں پر وہاں پانی چوری کا مقدمہ تک درج کیا جاتا ہے ۔
نئی آبادی جو ماہی گیروں کے لئے آباد کی جا رہی ہے وہ پرانی جیٹی سے 4 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے اور اور نئی جیٹی کا معیار اس طرح نہیں۔ وہاں کے ماہی گیر اب بھی زمینیں بیچنا نہیں چاہتے مگر یہ سرمایہ داری کا جبر اور ان کی معصومیت، بھلا شاہین اور کنجشک فرو مایہ کا کوئی موازنہ؟ ان کو ان سے ذریعہ معاش چھین کر کمپنسیشن دیا جا رہا ہے ، ذرا بتائیے کہ کمپنسیشن کسی صورت میں ذریعہ معاش کا متبادل ہوسکتا ہے؟ کیا وہاں کے ماہی گیروں سے ان کی زمین کی قیمتیں ان کی ساری زندگی کا پیٹ پالنے کے لئے کافی ہیں؟ وہاں کے ایک ملاح عبداللہ سے بھی پوچھتے جس کے مطابق ’جب تک لہروں کی آوازیں ، مچھلی کی بو نہ آئے مجھے نیند نہیں آتی ، مجھ سے میرا روزگار چھینا جا رہا ہے۔ میں کیا کروں؟“۔ سنگھار ہاﺅسنگ سکیم سمیت درجنوں دوسری سکیموں کے لئے تیار کی گئی زمین بھی ان اشرافیہ کے لئے رکھی گئی ہے جن کا سرے سے گوادر سے تعلق نہیں۔ مشرف کے احسان کو سر آنکھوں پر رکھتے ہیں مگر سڑکیں بھوک نہیں مٹاتی ہیں، پیاس نہیں بجھا سکتیں۔ آج بھی پانی کا ٹینکر بارہ سے پندرہ ہزار تک آتا ہے۔ یہ ظلم آپ کے مشاہدے میں نہیں آیا ؟ بڑا افسوس ہورہا ہے ۔ جا بجا ہمارے تمدن میں چینی ثقافت کو مسلط کئے جانا آپ کے لئے مسئلہ نہیں ہے ، ہماری موسیقی اور ادب پر چینی اور غیر مقامی افراد کا تسلط وہاں کے مقامی کے جذبات کی دھجیاں بکھیرنے کے لئے کافی ہے۔ ہم سے پوچھیں جو 4 ہزار سال سے اپنے تمدن و ثقافت کو زمانے کی چوٹوں سے بچاتے پھر رہے ہیں۔ آپ نے تعلیمی اداروں ، صفائی ستھرائی اور چھاﺅنی بنتے گوادر کا تو ذکر نہیں کیا! یہ وہ گوادر تو نہیں جس کو میرے مشاہدے نے ہفتہ قبل دیکھا ، ہاں یہ وصی بابا جی ! آپ کا گوادر تو ہوسکتا ہے، بلوچستان کا گوادر نہیں ہے ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر موسیانی کی دیگر تحریریں
ظفر موسیانی کی دیگر تحریریں

One thought on “بلوچستان کا گوادر اور وصی بابا کا گوادر

  • 02-01-2017 at 8:48 pm
    Permalink

    Brilliant reply Zafar! The liberal lot of our country, however sympathetic they appear to be to the oppressed people, don’t really get the plight of the locals. They only criticize the state for its use of extrajudicial killing but never the socio-economic imperialistic exploitation of the smaller provinces. It’s the same attitude that a colonial era Brit would have for the ‘barbarian’ nations under their civilized rule.

Comments are closed.