کپتان نوازشریف کو کیسے ہرائے ؟


wisi 2 babaووٹرکو اپنے پیچھے لگائے رکھنے کے لئے نوازشریف فارمولا سادہ ہے کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ سڑکیں پل روڈ بجلی منصوبے یا پہلے دور میں پیلی ٹیکسی سکیم۔ ووٹر کو کچھ کر کے دکھاو¿ تاکہ وہ پیچھے لگا رہے۔ اس کر دکھانے میں جن سب کی دال روٹی چلتی ہے وہ پارٹی کے مستقل سپورٹر بنے رہتے ہیں۔

نوازشریف کا سیاسی حلقہ اثر اور فوکس پنجابی ووٹر ہے یہ پنجابی وہ ہے جس کو سندھی بلوچ اور پختون پنجابی سمجھتا ہے یعنی سارا پنجاب ہزارہ سندھ اور بلوچستان کے سیٹلر۔ نوازشریف کو بھی اپنی ووٹر بنیاد کو وسیع کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ ہے کہ ان کے پاس ووٹر تو ہے پنجابی ووٹر کے علاوہ بھی وہ ووٹ کھینچ سکتے ہیں لیکن روڈ پر مار کھانے والا کوئی ایک جوان بھی نہیں ہے۔

اسٹیبلشمنٹ سے سینگ پھسائے رکھنے کی اپنی عادت کی وجہ سے انہوں نے دو وجوہات کی بنا پر اپنا ووٹ بنانے کی بجائے قوم پرستوں سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ بلوچستان کے پی کے اور سندھ کے قوم پرست ووٹوں میں بھلے کمزور ہوں مار کھانے میں اور ساتھ نبھانے میں تگڑے ہیں پنجاب کے نمائندہ سیاستدان کے پیچھے چلنے میں انہیں بھی دو فائدے ہیں وہ پاکستانی سیاست کی مین سٹریم میں آ گئے ہیں ان کا وزن بڑھ گیا ہے اسٹیبلشمنٹ کو اختیار میںان کے ساتھ شراکت کرنی پڑی ہے۔

سول ملٹری طاقت آزمائی پاکستان میں ابھی لمبا چلے گی تو نوازشریف تب تک سندھ میں سیاسی اینٹری سے پرہیز کریں گے جب تک اسٹیبلشمنٹ پر کاٹھی ڈال نہیں لیتے سول ملٹری لڑائی میں پی پی ان کی اتحادی ہے متحدہ البتہ طاقتور فریق کی جانب آتی جاتی رہتی ہے۔ جو تگڑا لگے اس کی جانب چلی جاتی ہے جب وہ کمزور لگے تو دوسرے طاقت پکڑنے والے فریق کی جانب لوٹ آتی ہے۔

طاقت کے عالمی مراکز کے پاکستان کے بارے میں تحفظات پر نواشریف نے اپنا موقف عالمی برادری سے ہم آہنگ کر لیا ہے اس کے بعد انہیں اپنے خلاف کسی بیرونی سازش سے تو نجات ملی ہی ہے طاقت کا ایک ٹیکہ بھی لگ گیا۔ دہشت گردی کے خطرے سے خائف دنیا میں نوازشریف خود کو ایک ناگزیر طاقت کے طور پر منواتے جا رہے ہیں۔

حکومت چلانے کا نوازشریف کا اپنا سیدھا سادہ فارمولا ہے کسی قسم کا سیاسی بوجھ وہ اٹھانے کو تیار نہیں کسی قسم کا تجربہ کرنے سے مکمل گریز ہے۔ الیکشن جتوانے والے سرمایہ داروں کو خوش کرنے کے لئے دو وزرا ہیں ایک اسحق ڈار جو گھر کے فرد ہیں دوسرے خواجہ آصف جو نجی بجلی گھروں کے کارٹیل کے نمائندہ ہیں ان بجلی گھروں کو ادائیگی وغیرہ کے تمام معاملات خواجہ صاحب دیکھتے ہیں۔

بجلی کمپنیوں کی یونین کو سیدھا رکھنے بل وصولیوں کے لئے اپنے بھانجے (رشتے میں بھانجے) عابد شیر علی کو معاملات حوالے کر رکھے ہیں کہ یہاں بھی نہ رسک لیا جا سکتا ہے نہ سستی ہو سکتی ہے ۔ نئے پاور پراجیکٹ کے معاملات سلمان شہباز اور میاں شہباز شریف دیکھتے ہیں کہ بجلی نہ آئی تو ووٹ بھی نہیں آنا تو یہاں بھی کارکردگی اہم ہے سیاست پر داو¿ لگا ہوا تو انچارج بھی گھر کے ہیں۔

فوج کی پاور بیس پوٹھو ہار کی مارشل بیلٹ ہے تو وزارت داخلہ اور پوٹھوہار دونوں چوھدری نثار کے حوالے ہیں کہ آپس میں لگے رہیں اور بات کنٹرول سے باہر نہ جائے۔ افغان امور قبائلی امور سلامتی کے مسائل سب اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے چانکیہ کے ہونہار مرید بابے سرتاج عزیز کے ذمے ہیں جو سول ملٹری دونوں جگہ بزرگانہ ڈانٹ ڈپٹ کر لیتے ہیں۔ بات منوا لیتے ہیں۔ جہاں پشتو فارسی درکار ہو اس میں بات چیت کرتے ہیں۔ میاں صاحب کو پنجابی میں سمجھا دیتے ہیں۔ بابا کوئی بہت سیانا کم نہ کر دے تو ان سے متعلق ہر دستاویز پڑھنے کی ذمہ داری طارق فاطمی کی ہے۔

نوازشریف ٹھیک جا رہے ہیں۔ انہیں بس اپنے پراجیکٹ مکمل ہوتے دکھانے ہیں۔ اگلا الیکشن انکا ہے بظاہر کوئی انہونی نہ ہوئی تو وہ الیکشن جیتے بیٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا انہیں ہرایا جا سکتا ہے تو بظاہر ممکن نہیں ہے لیکن ہم سیاست کی بات کر رہے ہیں جو ممکنات کا کھیل ہے تو سیاست کی جب بات کریں گے تو پھر جواب یہ ہے کہ نوازشریف کو ایک بڑی اور بری شکست دینا ممکن ہے۔

یہ شکست دینے والے بہت ہیں لیکن ان سب کا علاج نوازشریف کو آتا ہے کہ وہ سب ہی سیاستدان ہیں جس کا علاج نہیں ہے جو شکست دے سکتا ہے اس کا نام عمران خان ہے۔ عمران کی سیاست اس وقت نیچے کو لڑھک رہی ہے ان کی صوبائی حکومت کی کارکردگی زیرو ہے۔ یاد رہے کہ کارکردگی کو زیرو سیاسی تناظر میں بتایا ہے یا نوازشریف فارمولے کے مطابق کہ دکھنے بکنے والا کوئی کام پی ٹی آئی حکومت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

پشاور میں باب آزادی بنا کر جو ایک ڈبل سٹوری خوبصورت پل ہے پر لوگوں کو جوش و خروش سے گھومتے ٹریفک بلاک کرتے دیکھ کر پی ٹی آئی کو یہ سمجھ تو آ گئی ہے کہ واقعی جو دکھتا ہے وہ ہی بکتا ہے اور دکھنے والے سارے کام نوازشریف ہی کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی ریفارم کے چکر میں پڑ گئی جن کا کوئی کریڈٹ لینا تو چھوڑیں ان کا بتانا بھی آسان نہیں ہے اب کچھ انتظامی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں سیکرٹریز بدلے گئے ہیں جن کو اس ٹاسک کے ساتھ لایا گیا ہے کہ بجٹ خرچ کریں ہر صورت۔

کئی ملین ڈالر کا سوال ہے کہ عمران اب ایسا کیا کریں کہ نوازشریف کو دو ڈھائی سال بعد الیکشن میں ایک بڑی شکست دیں۔ کپتان کو سب سے پہلے تو چار چھوٹے کپتان ڈھونڈ کر صوبائی صدور لگانا ہوں گے جو متحرک بھی ہوں سیاست کو بھی سمجھتے ہوں اسے احتجاج چھوڑ کر اب پارٹی کو منظم کرنا چاہئے ساتھ ہی اپنی الیکشن مہم کا آغاز کر دے پورے پاکستان میں، گاو¿ں گاو¿ں جائے اپنا پروگرام لے کر۔

کپتان جس تبدیلی کی بات کرتا ہے اس کو واضح کرے ۔ اس کی تشریح کرے ، اس کو بیان کرے اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت کرنا چھوڑ کر اب اس سے اگلی بات کرے کہ ان منصوبوں کا زیادہ فائدہ کیسے اٹھانا ہے بتائے کہ ہم آئیں گے تو انہیں کیسے مزید بہتر کریں گے۔

تبدیلی کو واضح کیسے کرنا ہے یہ بتا تو دوں لیکن فائدہ ہمیں کون سا کسی نے نوٹ وکھائے ہیں کہ ہمارا موڈ بنے….


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “کپتان نوازشریف کو کیسے ہرائے ؟

  • 07-02-2016 at 10:21 pm
    Permalink

    Captaan aint gonna learn anything.

Comments are closed.