مولوی صاحبان جواب دیجئے


\"\"آج مولوی صاحبان کو علماء کا مقام اور حقوق تو اچھے سے یاد ہیں مگر اس اہم ترین منصب کی ذمہ داریوں سے بالکل بےخبر نظر آتے ہیں۔ انبیاء کا وارث ہونے کے لیے جدوجہد بھی انبیاء جیسی ہی درکار ہے۔ اگر مثالیں عمر بن خطابؓ اور عمر بن عبدالعزیزؒ کی ہیں تو ان جیسا بننے کی کوشش بھی نظر آنی چاہیے۔ پھر لوگوں پہ آپ کی باتوں کا اثر بھی ہوگا اور قوم کی تقدیر بھی بدلے گی۔ ہمارے کچھ سوال ہیں۔ ہمیں جواب چاہیں۔ یاد رہے کہ آپ کے جواب نہ دینے، سوال کرنے والوں کا مذاق بنانے اور خودساختہ جواب دینے، جس کا سوال سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، کی وجہ سے سے نوجوان نسل کا ایک نمایاں طبقہ مذہب سے باغی ہوچکا ہے۔ اور ہورہا ہے۔ امید کرتا ہوں کہ آپ انہیں قابل جواب سمجھیں گے اور نیت پہ شک بھی نہیں کریں گے۔ بغض، حسد، تعصب بھی نہیں ڈھونڈیں گے۔

1۔ معاشرے کے ہر فرد پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے تو مولوی پر کیوں نہیں؟ اگر اٹھایا جا سکتا ہے تو سوال کرنے پر اکثر مولوی صاحبان اشتعال میں کیوں آجاتے ہیں؟
2۔ کیا ایک عام فرد اور عالم دین کی ذمہ داری برابر ہے؟ اگر عالم اپنی ذمہ داری میں غفلت برتے تو اسے تنبیہہ کیوں نہیں کی جا سکتی؟
3۔ کیا ایک عالم دین کو ویسا ہی ہونا چاہیے جیسا کہ آج کے مولوی ہیں؟
4۔ دین فروشی سے کیا مراد ہے؟ کیا قیمت طے کرکے تقریر کرنا بھی دین فروشی کے زمرے میں آتا ہے؟ اگر یہ دین فروشی نہیں ہے تو قرآن و حدیث میں جس دین فروشی کا ذکر ہے وہ کیسے دین بیچیں گے؟
5۔ فقط پانچ نمازیں وقت مقررہ پر پڑھانا اور سارا دن سکون کرنا ہی مومن کی علامات ہیں؟
6۔ امام اعظم ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام مالکؒ کو کن کن علوم پر دسترس حاصل تھی؟ وہ کون سی کتابیں تھیں جن کو پڑھ کر وہ عالم بنے تھے؟ اب وہ کتابیں کہاں ہیں؟ اگر وہ یہی کتابیں ہیں جو آج مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں تو آج ایسا عالم نظر کیوں نہیں آتا جس پر عالم اسلام کو فخر ہو؟
7۔ کیا نبی کریمؐ اور صحابہ کرامؓ بھی یہی ذمہ داریاں سرانجام دیتے تھے جو آج مولوی سرانجام دے رہے ہیں؟ کیا نبی پاکؐ اور صحابہ کرامؓ صرف پانچ وقت نماز پڑھاتے تھے اور اس کے علاوہ سارا دن آرام کرتے تھے؟ وہ کون کون سے اعمال ہیں جو نبی پاکؐ اور صحابہؓ تو ادا کرتے تھے مگر مولوی نہیں کررہے اور کیوں؟
8۔ مدارس میں یہ کتابیں کب سے پڑھائی جارہی ہیں اور کب تک پڑھائی جاتی رہیں؟ کیا نبی کریمؐ کے دور میں بھی یہی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں؟ اگر نہیں تو آج وقت کے حساب سے ان میں ترمیم کیوں نہیں ہوسکتی؟
9۔ مدارس کب سے زکوٰت خیرات صدقات پہ چل رہے ہیں اور کب تک چلتے رہیں گے؟ مدارس میں پڑھنے والے کتنے فیصد طلباء زکوٰت کے مستحق ہیں؟ اگر 10، 20 فیصد طلباء زکوٰت کے مستحق ہیں بھی تو باقی 80 فیصد طلباء جو زکوٰت کے پیسوں سے عالم بنتے ہیں، ان کے لیے کیا حکم ہے؟
11۔ ابوبکرؓ و عمرؓ سے جب ایک عام آدمی مجمع میں کھڑا ہوکر سوال پوچھ سکتا ہے اور حساب مانگ سکتا ہے تو مولوی سے کیوں نہیں؟
12۔ مسلمانوں کی اس حالت کا مولوی کس حد تک ذمہ دار ہے؟
13۔ پاکستان کے دیہات کی مسجدوں کے قریبا 50 فیصد مولوی صاحبان نے مدرسے کی مروجہ درس نظامی کی ڈگری بھی حاصل نہیں کی ہوئی اور وہ اردو بھی ٹھیک سے لکھ پڑھ اور بول نہیں سکتے، وہ لوگ امامت کے اہل ہیں؟ اور جس قوم کے امام ایسے ہوں اس کی حالت پاکستان سے مختلف ہوسکتی ہے؟
14۔ عمر پہ جب اعتراض ہوا کہ ایک چادر سے آپ کا سوٹ نہیں بن سکتا اور آپ نے دو چادریں رکھی ہیں تو آپ نے بیٹے نے فورا غلط فہمی دور کردی اور کہا کہ میں نے اپنے والد کو اپنی چادر دی ہے۔ آج وہ مولوی صاحبان جن کا بظاہر کوئی بزنس بھی نہیں ہے، انتہائی قیمتی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، شہر کی انتہائی مہنگی ہاوسنگ سکیموں میں رہائش رکھے ہوئے ہیں اور زندگی کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہورہے ہیں، کیا ان کا حق نہیں بنتا کہ عوام کی غلط فہمی دور کریں اور بتائیں کہ یہ سب کیسے اور کہاں سے آیا اور آرہا ہے؟
15۔ اگر سائنس غیر اسلامی ہے تو کیا ہمیں سائنسی ایجادات کے استعمال سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ ؟ اگر ایجادات سے فائدہ اٹھانا جائز ہے تو ہمیں اپنی قوم اور خصوصا مدارس کے بچوں کو بھی عصری علوم نہیں پڑھانے چاہئیں تاکہ وہ بھی باوقار شہری بن سکیں اور مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد صرف مسجد اور مدرسے کی طرف ہی نہ دیکھیں؟
16۔ فقہ کے امام اربعہ فقہی مذہب میں شدید اختلاف کے باوجود مسلم امہ میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور ان کی زندگی سے بھی واقعات ملتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کا بےحد احترام کرتے تھے مگر آج کے مولوی صاحبان ذرا ذرا سی بات پہ ایک دوسرے کے خلاف کفر و شرک کے فتوے جاری کردیتے ہیں اور انتہائی عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہیں، کیوں؟
17۔ اسلام میں زکوٰت کا نظام کیوں رائج کیا گیا؟ کیا مساجد کو زکوٰت دینا زکوٰت کے مصارفین کی حق تلفی نہیں؟ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اگر زکوٰت کی منصفانہ تقسیم ہو تو بےشمار لوگ خودکشیوں اور دیگر جرائم سے بچ سکتے ہیں؟
18۔ کیا فرقہ پرستی کا خاتمہ ممکن ہے؟ ہاں تو کیسے؟ نہیں تو کیوں نہیں؟ نہیں کا ذمہ دار کون ہے؟
21۔ کیا ہمارے معاشرے میں موجود اسلام کا تصور، اسلام کی شان و شوکت بحال کرسکتا ہے؟
19۔ آپ ہمارے معاشرے میں کسی بھی اوسط مسلمان سے پوچھ لیں کہ اسلام کیا ہے، اس کے نزدیک مخصوص حلیہ و شناخت اور نماز و حج وغیرہ ہی کل اسلام ہے۔ ایک ایسا دین جو قیامت تک کے لیے تھا اور ہر زمانے کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتا تھا، سیاست و معیشت و سائنس سمیت ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا تھا۔ بہترین ضابطہء حیات تھا، اسے ہائی جیک کرکے اسلام کا موجودہ تصور پیش کرنے اور لوگوں کی ذہن سازی میں کس کا ہاتھ ہے؟
20۔ مولوی صاحبان کی اکثریت اپنی تقریروں میں سازش کا لفظ استعمال کرتی ہے کہ یہودی نے اسلام کے خلاف سازش کی اور کررہے ہیں۔ عیسائی نے کی، ہندو نے کی، سوال یہ ہے کہ جب وہ سازش کررہے تھے، اس وقت ہم کیا کررہے تھے؟ اور آج ہم کیا کررہے ہیں؟ اپنی لاپروائی و نالائقی کو دوش دینے کی بجائے ہم دوسروں کو برا بھلا کیوں کہتے ہیں؟ جب ہمیں معلوم ہے کہ وہ ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور کررہے ہیں تو پھر ہم ایک کیوں نہیں ہوجاتے؟ کیا ہم اتنے نااہل ہیں کہ سازش کا علم ہونے کے باوجود اس کا توڑ نہیں کرسکتے؟
21۔ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ عام جاہل لوگ ملکر اپنے لیے عالم کا انتخاب کرتے ہیں۔ اسے امام کہا جاتا ہے اور تنخواہ وغیرہ بھی وہ لوگ اپنی جیب سے دیتے ہیں۔ اب اس امام کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو خوش رکھے۔ ذرا سی کوتاہی کی صورت میں اس کی چھٹی کروا دی جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس شخص کے سر پر ہروقت نوکری سے برخاست ہونے کی تلوار لٹکتی رہتی ہے، وہ کیا دین سکھائے گا؟ بڑے اور نامور علماء نے آج تک اس مسئلے کو کیوں نہیں اٹھایا؟ اور پھر جب بھی کوئی سوال کرو تو بیچارے مولوی کی مثال دے کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ اس کی بیچارگی کا ذمہ دار کون ہے؟ مختلف مسائل پر لاکھوں لوگوں کو اکٹھا کرکے حکومتوں سے اپنی بات منوانے والون نے آج تک ان مسائل پر بات کیوں نہیں کی؟
22۔ کسی کی طرف سے بھی سوال پوچھے جانے پر اکثر تو اس کا مذاق بنایا جاتا ہے کہ طہارت کے مسائل آتے نہیں اور چلے ہو دین پر بات کرنے، نماز کی شرائط بتاو، جنازہ کی دعا سناو، یا پھر سوال کے جواب میں نصیحت اور سوال گندم، جواب چنا۔ کیا اس قسم کا رویہ اور سوالات سے بھاگنا ایک عالم کے شایان شان ہے؟ اور دوسری بات۔ سوال کرنے والوں پر اکثر مولوی صاحبان جلسوں میں طنز کرتے نظر آتے ہیں کہ مولوی نہ ہوتا تو تیرے باپ کا نکاح کون پڑھاتا؟ جنازہ کون پڑھاتا ہے؟ پیدائش کے وقت اذان کون دیتا ہے؟ یہی باتیں سوال کرنے پر مولوی صاحبان کے معتقدین کرتے ہیں اور ہرجگہ کرتے ہیں۔ کیا یہ صریحاً جہالت نہیں؟ کیا ایک عالم دین کی فقط یہی ذمہ داری ہے کہ وہ نکاح و جنازہ پڑھائے؟ اور کسی کو فقط اس لیے عالم اور انبیاء کا وارث مان لیا جائے یا سوال سے بالاتر سمجھ لیا جائے کہ وہ نکاح و جنازہ وغیرہ پڑھاتا ہے؟ ابوبکرؓ پہ اعتراض ہوتا ہے تو جواب دیتے ہیں، عمرؓ پہ اعتراض ہوتا ہے تو جواب دیتے ہیں، مولوی صاحب سے سوال ہوتا ہے تو گالی۔ ایسا کیوں ہے؟
امید کرتا ہوں کہ مولوی صاحبان نظرکرم فرمائیں گے۔ جزاک اللہ خیرا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

رانا تنویر عالمگیر کی دیگر تحریریں
رانا تنویر عالمگیر کی دیگر تحریریں