شکر خورے کی شکر


\"\"

رئیس امروہوی نے اپنی زندگی میں قطعات کے سات مجموعے چھاپے تھے۔ وہ سب میرے پاس ہیں۔ لیکن ان کی غزلیات کا مجموعہ الف میرے پاس نہیں تھا۔ کراچی کے اردو بازار میں بلال بک اسٹور پر پرانی کتابیں مل جاتی ہیں۔ صاحب دکان نایاب کتابوں کی فوٹوکاپی کرکے جلدبندی کروا لیتے ہیں۔ میں نے ان سے ایسی کئی کتابیں خریدی ہیں۔

ایک بار میں نے ان کے بٹے بلال سے کہا، ’’مجھے رئیس امروہوی کی کتاب الف درکار ہے۔ کہیں سے بندوبست کرو۔ ‘‘ اس نے وعدہ کیا۔ میں نے کئی بار جاکر پوچھا لیکن وہ کتاب نہیں ڈھونڈ سکا۔

گزشتہ اتوار کو ایک کانرنس میں عقیل عباس جعفری صاحب صدر تھے۔ میں گھر سے سیدھا آرٹس کونسل پہنچا، وہ فریئر ہال ہوتے ہوئے آئے۔ کراچی کے دوست جانتے ہیں کہ فریئر ہال میں اتوار کو پرانی کتابوں کا بازار لگتا ہے۔

\"\"

عقیل بھائی نے آتے ہی کہا، ’’فرئیر ہال میں رئیس امروہوی کی شاعری کا مجموعہ الف پڑا ہے۔ دستخط شدہ۔ ‘‘

میں تڑپ گیا، ’’عقیل بھائی! آپ نے خریدا کیوں نہیں؟ ‘‘ عقیل بھائی نے کہا، ’’اتفاق سے میرے پاس اس کا ایک دستخط شدہ نسخہ موجود ہے۔ تمھیں چاہیے تھا کیا؟ ‘‘

کانفرنس دیر سے شروع ہوئی اور مغرب کے بعد ختم ہوئی۔ فرئیر ہال جانے کا فائدہ نہیں تھا لیکن میں نے پھر بھی وہاں کا رخ کیا۔ کوئی موجود نہیں تھا۔ میں منہ بسورتا ہوا گھر پہنچا۔

ایک ہفتہ بے چین رہا۔ دعا کرتا رہا کہ وہ کتاب کسی کے ہاتھ نہ لگے۔ اتوار کو دن چڑھا اور میں فریئر ہال کی طرف بھاگا۔ وہاں دیکھا کہ ایک دکان دار بے شمار پرانی ادبی رسالے بچھائے سر کھجارہا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  مستقبل سے متعلق منصوبہ بندی

مجھے سب پہچانتے ہیں۔ وہ دکان دار مجھے دیکھ کر خوش ہوا۔ کہنے لگا، ’’صاحب! دیکھیں، پچھلے ہفتے لاکھ روپے کا مال اٹھایا ہے۔ نقوش کے کئی نمبر ہیں، افکار کے خاص شمارے ہیں۔ اور بھی بہت سی پرانی کتابیں ہیں۔ ‘‘

میں نے چند کتابیں الٹ پلٹ کے دیکھیں۔ دو چار خرید لیں۔ ان میں سے ساغر نظامی کا دستخط شدہ مجموعہ کلام رنگ محل بھی تھا۔ میں دوسری جانب جانے کو تھا کہ دکان دار نے کہا، ’’رئیس امروہوی کا مجموعہ کلام بھی ابھی یہیں رکھا تھا۔ ایک لڑکا خرید کے لے گیا۔ ‘‘

میں اچھل پڑا۔ جلدی سے کہا، ’’وہ کیوں بیچ دیا؟ کسے بیچا؟ کتنے کا بیچا؟ کدھر گیا وہ لڑکا؟ کسی لڑکے کو اس کی اہمیت کا کیا پتا؟ ‘‘

\"\"

دکان دار نے بے چارگی کا مظاہرہ کیا، ’’سر، کتابوں کی اہمیت آپ کو معلوم ہوگی۔ مجھے کیا پتا۔ میں نے ڈیڑھ سو روپے میں وہ نسخہ بیچا ہے۔ وہ لڑکا ابھی یہاں تھا۔ پتا نہیں چلا گیا یا ادھر ادھر ٹہل رہا ہے۔ ‘‘

اب میری توجہ کتابوں کے بجائے خریداروں کی طرف ہوگئی۔ لوگ اپنی بغلیں جھانکتے ہیں، میں دوسروں کی بغلیں جھانکتا رہا۔ نہ کوئی لڑکا دکھائی دیا، نہ وہ کتاب۔ میں ایک بار پھر مایوس واپس لوٹا۔

دفتر پہنچا تو بلال کا فون آیا، ’’مبشر صاحب! آپ نے ایک بار آپ رئیس امروہوی کا مجموعہ کلام الف مانگا تھا۔ آج وہ فرئیر ہال میں ایک ردی فروش کے پاس دیکھا۔ میں نے آپ کے لیے خرید لیا۔ اس پر دستخط بھی ہیں۔ اگر آپ کل تشریف لائیں تو پیش کروں۔ ‘‘

اسی بارے میں: ۔  کتاب بھی آخر انسان ہے، اس کے حقوق کا کیا؟

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 80 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi