ملا عبدالسلام ضعیف: قندھار کیمپ میں قرآن پاک کی بے حرمتی


\"\"

(پہلا حصہ: طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں)

طالبان کے سفیر ملا عبدالسلام کی کتاب ’مائی لائف ود دا طالبان‘ کے چند صفحات۔

قندھار کیمپ کی کئی کہانیاں ہیں۔ ایک دن ایک نیا قیدی لایا گیا۔ وہ بہت بوڑھا آدمی تھا۔ دو سپاہی اسے کھینچ کر ٹینٹ میں لائے اور اسے زمین پر پٹخ دیا۔ اسے کھڑا ہونے کا حکم دیا گیا لیکن نہ تو کھڑا ہونے کے قابل تھا اور نہ ہی امریکی فوجیوں کی بات کو سمجھ سکتا تھا۔

وہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔ دوسرے قیدیوں نے اسے کھڑا ہونے کا کہا مگر ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سپاہیوں اور قیدیوں کے درمیان فرق کرنے سے قاصر تھا۔ اگلے دن جب اسے تفتیش کے لئے پکارا گیا تو اسے زمین پر گرا کر باندھنا پڑا تھا۔

اسے دوبارہ کچھ سمجھ نہیں آئی تھی۔ کسی دوسرے قیدی کو اس کی مدد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور سب قیدیوں کو کیمپ کے دوسرے کونے پر جانے کا حکم دیا گیا۔ جلد ہی سپاہیوں نے اس پر اپنا غصہ نکالنا شروع کر دیا اور اسے لاتیں مار مار کر زمین پر گرا دیا۔ ایک سپاہی اس کی کمر پر سوار ہو گیا اور باقیوں نے اس کے ہاتھ باندھ دیے۔ اس دوران بوڑھا آدمی چیختا چلاتا رہا۔ اس کا خیال تھا کہ اسے ذبح کر دیا جائے گا۔ وہ چیختا رہا ’کافرو! مجھے ذبح کرنے سے پہلے نماز پڑھنے کا موقع تو دو!‘۔

ہم کیمپ کے دوسرے سرے پر کھڑے چلاتے رہے کہ اسے تفتیش کے لئے لے جایا جا رہا ہے اور جلد ہی وہ کیمپ میں واپس آ جائے گا لیکن ایسا لگتا تھا کہ وہ مدہوشی کی سی کیفیت میں مبتلا تھا۔ میں بیک وقت ہنس بھی رہا تھا اور رو بھی رہا تھا۔ اس بوڑھے کو باہر گھسیٹے جاتے دیکھ کر مجھ میں اتنا ہی غصہ بھر چکا تھا۔

جب وہ واپس آیا تو میں اس سے بات کرنے کے لئے اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس نے بتایا کہ وہ ارزگان صوبے میں چارچینو ضلعے میں رہتا تھا اور اس کی عمر 105 سال تھی۔ بعد میں وہ گوانتامو کے جہنم سے رہا ہونے والا پہلا شخص بنا تھا۔

\"\"

کیمپ میں ہم جماعت کی صورت میں نماز ادا کرتے تھے۔ ایک صبح میں نماز فجر کی امامت کر رہا تھا۔ ہم نے پہلی رکعت ادا کرنی شروع ہی کی تھی کہ فوجیوں کا ایک دستہ ہمارے ٹینٹ میں داخل ہوا اور ایک عرب برادر کا نمبر پکارا کہ وہ اسے تفتیش کے لئے لے جانا چاہتے تھے۔ برادر نے جبنش نہ کی اور خدا کے حکم کے مطابق نماز ادا کرتا رہا۔ اس کا نام دوسری مرتبہ پکارا گیا۔ تیسری مرتبہ سپاہی تیزی سے اندر آئے، مجھے زمین پر پھینک دیا اور میرا سر زمین کے ساتھ لگا دیا اور کچھ سپاہی مجھ پر بیٹھ گئے جبکہ دو دیگر سپاہیوں نے تیونس سے تعلق رکھنے والے عرب برادر عادل کو پکڑا اور اسے کھینچتے ہوئے باہر لے گئے۔ ان کے دلوں میں اسلام کی کوئی عزت نہ تھی۔

ہر روز قیدیوں کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا تھا۔ ایک پاکستانی بھائی کے دانت میں شدید درد تھا مگر اسے صرف معمولی سی دردکش دوا دی گئی تھی۔ کچھ چبانا اس کے لئے تکلیف دہ اور مشکل تھا اور وہ کھانے کے لئے مختص تیس منٹ میں کھانے سے قاصر تھا۔ جب فوجی اس کی پلیٹ لینے آئے تو اس نے اپنے دانت کی تکلیف کا بتا کر کچھ مزید وقت مانگا ۔ سپاہی اسے کھِینچ کر دروازے کے قریب لے گئے اور اس کے منہ پر ضرب لگائی جبکہ ہم سب بے بسی سے اسے دیکھتے رہے۔

جب ہم نے دیکھا کہ انہوں نے پاکستانی بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے تو ہم نے بھوک ہڑتال پر جانے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی یہ خبر ہر طرف پھیل گئی اور پورے کیمپ نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔ جب کیمپ کے حکام بھوک ہڑتال کی وجہ معلوم کرنے آئے تو ہم نے انہیں سپاہی کی بدسلوکی کے بارے میں آگاہ کیا۔ ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جائے گا اور ہم نے بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ گو کہ ہم مشکل حالات کا سامنا کر رہے تھے لیکن یہ پہلی بھوک ہڑتال تھی جو کہ حملہ آور امریکیوں کی قید میں کی گئی۔

اگلے دن تیرہ سالہ محمد نواب کو مارا پیٹا گیا جو کہ شدید بیمار تھا اور کھڑا ہونے سے قاصر تھا۔ سپاہی کیمپ کی تلاشی لینے آئے تھے اور انہوں نے قیدیوں کو پچھلے حصے میں جانے کا حکم دیا تھا۔ محمد نواب نے حرکت نہ کی اور اپنے بستر میں پڑا رہا۔ جب فوجیوں نے اسے دیکھا تو انہوں نے اسے مارنا پیٹنا شروع کر دیا اور اسے گھسیٹتے ہوئے لا کر ہمارے قدموں میں پھینک دیا۔ مجھے یہ بھی بتانا چاہیے کہ تمام امریکی فوجی اس طرح کا سلوک نہیں کرتے تھے۔ کچھ بہت شائستہ اور با اخلاق تھے اور اذیت دینے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ شامل نہیں ہوا کرتے تھے۔

\"\"

کچھ تکلیفیں دوسری تکلیفوں سے زیادہ اذیت ناک تھیں اور کیمپ میں ہر ایک کو متاثر کرتی تھیں۔ ایک سہ پہر آدمیوں کے رونے کی آواز سے میری آنکھ کھلی۔ کیمپ میں ہر طرف سب آدمی رو رہے تھے۔ میں نے محمد نواب سے پوچھا کہ کیا ماجرا پیش آیا ہے؟ اس نے بتایا کہ ایک سپاہی نے قرآن مجید کی بدترین بے حرمتی کی ہے اور اس کے بعد اسے کوڑے میں پھِینک دیا ہے۔

ہمیں ریڈ کراس کی طرف سے قرآن پاک کے کچھ نسخے دیے گئے تھے لیکن اب ہم نے ریڈ کراس کو کہا کہ وہ واپس لے لئے جائیں کیونکہ ہم سپاہیوں سے ان کی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں جو کہ ہمیں سزا دینے کی خاطر اکثر ان کو نشانہ بناتے تھے۔

ریڈ کراس نے ہم سے وعدہ کیا کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہیں آئیں گے لیکن یہ سلسلہ جاری رہا۔ تلاشی لینے والے کتے آتے اور قرآن پاک کو بھی نہ بخشتے۔ سپاہی ان نسخوں کو زمین پر پھِینک دیتے۔ میرے قندھار میں قیام کے دوران یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ ایک ہی سپاہی تھا جو ہمیشہ قرآن پاک اور اسلام کو ذرا سی عزت دینے سے بھی انکاری ہوا کرتا تھا۔

توہین کرنے کے ایسے کئی واقعات تھے۔ سپاہی قیدیوں کے ساتھ ایسے ٹریننگ کرتے جیسے وہ جانور ہوں جو تجربہ کرنے کی نیت سے رکھے گئے ہوں۔


طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں
گرفتاری کے وقت ملا عبدالسلام ضعیف سفیر نہیں تھے
جب ملا عبدالسلام ضعیف امریکیوں کو دیے گئے
ملا عبدالسلام ضعیف: امریکی بحری جہاز کا قیدی
ملا عبدالسلام ضعیف: قندھار کا قیدی نمبر 306
ملا عبدالسلام ضعیف: ریڈ کراس، مسیحا یا جاسوس؟
ملا عبدالسلام ضعیف غداری پر آمادہ نہ ہوئے

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 764 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar