پاکستان سوپر لیگ اور جناح روڈ کوئٹہ  


ramish fatimaکل کا قصہ ملاحظہ ہو ۔ کل پاکستان سوپر لیگ کا چرچا رہا،کون جیتا کون ہارا یہ موضوع ہر عام و خاص کی زبان پر تھا ۔ پی آئی اے کی نجکاری ہو رہی ہے ، ہر ایک کے تحفظات اور مذاکرات کا شور ہے۔

اگر ذکر نہیں ہے تو کوئٹہ دھماکے کا تذکرہ کہیں نہیں ہے۔ کسی نے ذکر کیا بھی تو محض سرسری سا ،جیسے کسی اجنبی ملک کی بات ہو رہی ہو اور پھر توجہ دوبارہ سے کرکٹ اور پی آئی اے پر۔

ہم بھی عجیب لوگ ہیں ، کبھی افغانستان میں کود پڑتے ہیں ،جلال آباد فتح کرنے کے چکر میں اپنے لوگوں کو قربانی کے بکرے بنا دیتے ہیں اور دوسروں کے بچوں کو اپنی خارجہ پالیسی کی بھینٹ چڑھا کر خوش ہوتے ہیں ۔ ،دوسروں کے گھروں میں آگ لگاتے اور لگواتے ہیں ۔ اپنے دیس میں جنتا بھوکی مرتی ہے مگر بے فکری کی چادر تانے سہانے سپنوں میں کھوئے رہتے ہیں۔ ڈالروں کے عوض جہاد بیچتے ہیں۔گرم پانیوں کو بچانے کے چکر میں سرد جنگ شروع کر بیٹھتے ہیں جو بالآخر ایک دن ایسی آگ میں تبدیل ہوتی ہے کہ ہنوز بجھائے نہ بنے ۔

کشمیر کو پاکستان بنانے کی تمنا ہے۔

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر اور اس پر مستزاد کہ بحرِظلمات میں گھوڑے دوڑانے کے خواہش ہے ۔

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے ۔

دل ہمارا فلسطین کے لئے دھڑکتا ہے اور جان ہماری عالمِ اسلام ہے ۔

لیکن بلوچستان کا نام آتے ہی ہماری (مادری ؟) زبان میں آبلے پڑ جاتے ہیں، منہ کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے۔ سننے ، سمجھنے اور سوچنے کی صلاحیت جواب دے جاتی ہے۔

دستورِ زباں بندی ایسا ہے کہ کوئی غلطی سے بولنا بھی چاہے تو اسے خوب یاد کرا دیا جاتا ہے کہ ایسی بات پہ یاں زباں کٹتی ہے اسی لئے ایسی حریت فکر کے لئے چپ ہی بھلی ، جو بعد میں جان بچاتی پھرے ۔ کیا فرق پڑتا ہے لوگ دھماکے میں مریں یا عزرائیل و ریاست کے باہمی گٹھ جوڑ کے ہاتھوں جان سے جائیں ۔ موت تو برحق ہے نا؟ خدائی کاموں میں کیوں دخل دینا؟

شاید ہم آج بھی اپنے مسائل پر سوچنا نہیں چاہتے اور سمجھنا نہیں چاہتے، سمجھتے ہیں تو بولنا نہیں چاہتے کیونکہ اپنی جان تو پیاری ہے نا ہر ایک کو ، ہم سب کو ۔ شاید ہم پنجاب کے سوا باقی صوبوں کے لوگوں کو اپنا ہم وطن نہیں سمجھتے اس لیے ہمیں یہ آگ اپنے گھر پہنچتی نظر نہیں آتی ۔ جب یہ آگ ہمارے در پر ہو گی . جب ہم جلیں گے ، ہمارے گھر سے ہمارے اپنوں کی لاش اٹھے گی تب ہی ہم چلائیں گے ، ہمارے بند گلوں سے کوئی آواز نکلے گی ۔ اور وہ بھی محض نوحہ خوانی ہوگی ، بے مقصد ماتم جس سے صرف اپنے کانوں کو اذیت دی جائے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “پاکستان سوپر لیگ اور جناح روڈ کوئٹہ  

  • 08-02-2016 at 11:00 am
    Permalink

    ایک بے معنی مضمون۔ اس ساری بات کا کیا مطلب ہے بجز ایک راگ کے۔ مان لیا آپ نے ٹھیک کہا مگر اتنی بات تو ہم آئے روز پڑھتے رہتے ہیں کہ کوئی نہی بولتا، اس سے آگے بھی بات کیجئے جگالی مت کیجئے

    • 08-02-2016 at 11:53 am
      Permalink

      Es bat ka matlb sirf ehsas dilana h

  • 09-02-2016 at 8:15 pm
    Permalink

    Good effort, keep it up

  • 10-02-2016 at 12:26 pm
    Permalink

    Sab say pehlay tu aap khud thori research kar lain kay blast Jinnah road pe nahi Adalt road pe hoa tha jo k Jinnah road k karreb hay lakin Jinnah road nahi.

  • 20-03-2016 at 3:35 am
    Permalink

    bomb dhamaky to naye baat nahin hamary leya per PSL to aik naya event hy lehaza purani baton py mitti dali dalai

Comments are closed.