انھیں گرم پانی کی کیا ضرورت ہے


\"naseerکچھ عرصہ قبل وزیرِ اعظم اور وزیرِ منصوبہ بندی کو پیش کردہ سول بیورو کریسی کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی تجاویز اخبارات میں نظر سے گزریں۔ پڑھ کر ہنسی آئی۔ سارے کا سارا فوکس بیوروکریٹس کے لیے مزید مراعات، ترغیبات، تنخواہوں میں اضافے، ملازمتوں میں توسیع اور دفتری و کلرکانہ نوعیت کے فرسودہ معاملات پر ہے۔ کہیں بھی ان کی سوچ، تربیت، روایتی طریقِ کار، حکمرانہ انداز، نو آبادیاتی طرزِ فکر اور \”ذہنِ اعلیٰ\” کو بدلنے کا ذکر نہیں۔ انھیں سول حکمران سےحقیقی معنوں میں سول سرونٹ بنانے کی کوئی تدبیر نہیں۔ تجاویز پڑھ کر مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا۔ اَسی (80) کی دہائی کے ابتدائی سال تھے۔ میں اسلام آباد میں موجودہ خیبر پختون خواہ اور سابقہ این ڈبلیو ایف پی ہاوس میں، جو ا±س وقت زیرِ تعمیر تھا، بطورِ سائٹ انجنئیرکام کرتا تھا۔ بظاہر ایک چھوٹا سا، معمولی سا واقعہ ہے لیکن دراصل اس مراعات یافتہ اور انتطامی امور میں سب سے زیادہ با اختیار طبقے کے مائنڈ سیٹ اور اس مخصوص مائنڈ سیٹ کے پروردہ پورے نظام کا عکاس ہے۔

کے پی کے ہاوس میں عہدوں اور رتبوں کے حساب سے مختلف بلاکس تھے۔ گورنر، ملٹری سیکرٹری، وزیرِ اعلیٰ، صوبائی وزرا، سیکرٹریز اور دیگر مختلف گریڈز کے صوبائی افسران، سب کے لیے الگ الگ رہائشی حصے تھے، جو ایک لمبے کاریڈور اور مشترکہ سہولیات کے ایک مرکزی بلاک کے ذریعے آپس میں منسلک تھے۔ اس مشترکہ سہولیات یا کثیر المقاصد بلاک میں کچن، کھانے کا کمرہ، کانفرنس ہال، لانڈری، ٹیلیفون ایکسچینج، کنٹرول روم، کیئر ٹیکر ہاوس اور ایئر کنڈیشنگ پلانٹ، ہیٹنگ سسٹم وغیرہ تھے۔ سب سے آخر میں اور سب سے بڑا ایک سرونٹ بلاک تھا جو چھوٹے ملازموں، خدمت گزاروں اور حفاظتی عملے کے لیے تھا۔ دورانِ تعمیر میں نے دیکھا کہ سرونٹ بلاک کو گرم پانی مہیا نہیں کیا گیا جبکہ باقی سب بلاکس گرم پانی کے ایک مرکزی نطام سے منسلک تھے جس میں 24 گھنٹے گرم پانی رواں رہنا تھا۔ میرا نوجوان اور بیک وقت تکنیکی اور شاعرانہ ذہن ایک بنیادی ضرورت میں اس طبقاتی تفریق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اور ہر وقت اس کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ ا±س زمانے میں اسلام آباد میں شدید سردی پڑتی تھی اور صبح صبح کہرا جما ہوتا تھا۔ ایک بار غالباً صوبے کے چیف سیکرٹری دیگر اعلیٰ افسران کی معیت میں تعمیراتی کام کا جائزہ لینے سائٹ پر آئے۔ میں بھی تعمیراتی کمپنی، جسے عرفِ عام میں ٹھیکیدار کہا جاتا تھا، کی نمائندگی کے لیے موجود تھا۔ میں نے موقع غنیمت سمجھا اور چیف سیکرٹری سے کہا کہ سرونٹ بلاک کے لیے گرم پانی کی لائن کسی وجہ سے نقشے میں نہیں دی گئی۔ آپ اجازت دیں تو وہاں تک اضافی پائپ لائن بچھا دی جائے تاکہ گرم پانی کے ہمہ وقتی نظام سے چھوٹے ملازمین کو بھی سردیوں میں گرم پانی مِل سکے۔ چیف سیکرٹری کا جواب تھا \”انھیں گرم پانی کی کیا ضرورت ہے\”۔

اس جواب نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ پاو¿ں تلے سے زمین سرک گئی اور میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا \”کیا وہ انسان نہیں\”۔ جی چاہا ہاتھ میں پکڑی ڈائری چیف سیکرٹری کے منہ پر دے ماروں۔ میری کمپنی کے ایم ڈی دیانت دار اور عالمی شہرت یافتہ انجینئر تھے جن کے نام سے ایٹمی ری ایکٹر کا ایک دروازہ بھی منسوب تھا۔ انھوں نے شروع ہی سے میری تخلیقی اپج والی فنی صلاحیتوں کو بھانپ لیا تھا اور میری تربیت اس انداز سے کی تھی کہ میرے اندر محض چند برسوں کے تجربہ نے پیشہ ورانہ صداقت اور وافر اعتماد پیدا کر دیا تھا۔ فکری بے خوفی پہلے ہی سے میرے مزاج کا حصہ تھی۔ جس کی بنیاد پر آگے چل کر میں نے بڑے بڑے عالمی اداروں میں اور ہائی ٹیک منصوبوں پر کام کیا۔ میں نے جذبات پر قابو پاتے ہوئے عرض کیا کہ موسم سب انسانوں کے لیے یکساں اثرات رکھتے ہیں، وہ اعلیٰ افسران ہوں یا معمولی ملازم۔ اور پھر یہاں وہ لوگ رہیں گے جو آپ کی خدمت اور حفاظت پر مامور ہوں گے۔ ان کو دی گئی سہولیات ان کی بہتر کارکردگی کی ضمانت اور آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔ مذید یہ کہ اس پہ کوئی خاص اضافی خرچ بھی نہیں آئے گا۔ ساری عمارتوں کے لیے گرم پانی کا مرکزی نظام پہلے سے بچھا ہوا ہے جس کا ایک لوپ سرونٹ بلاک کے قریب سے گزر رہا ہے۔ بس دو اڑھائی سو فٹ اضافی پائپ لائن کے ذریعے اس لوپ سے ملانے کی ضرورت ہے۔ میری باتیں سن کر انہوں نے گردن اکڑاتے ہوئے فرمایا کہ آپ تعمیراتی لاگت بڑھانے کے لیے یہ تجویز پیش کر رہے ہیں، ہمیں کام نہ سکھائیں، اپنا کام کریں۔ میں اندر سے بالکل ٹوٹ چکا تھا۔ ایک آخری کوشش کے طور پر کہا کہ بنیادی مسئلہ لاگت نہیں، انسانی ہے اور اسلام آباد کی سردی ہے، سرونٹ بلاک میں رہنے والے ٹھنڈے یخ پانی سے غسل اور وضو کیسے کریں گے جب کہ ان سے محض چند فٹ کے فاصلے پر چاہے ایک آدمی بھی ٹھہرا ہو گا تو سب کی سب عمارتوں میں گرم پانی بے مصرف گردش کر رہا ہو گا، اس سے بڑی فنی کوتاہی، غلطی اور انسانی ذلت و اذیت کیا ہو گی۔ ردِعمل میں سرونٹ بلاک کے ہر کمرے میں غیر قانونی بجلی کے ہیٹر جلیں گے یا بعد میں توڑ پھوڑ کر کے واٹر ہیٹر لگانے پڑیں گے۔ اس کے بغیر چارہ نہیں۔ میرا مقصد کمپنی کے لیے اضافی کام نکالنا ہرگز نہیں۔ ہمارے پاس اتنا پائپ تو ویسے ہی بچا پڑا ہو گا جو اسکریپ میں چلا جائے گا، ہم آپ سے اس کام کے لیے کوئی اضافی بل نہیں لیں گے۔ آپ صرف ڈیزائن میں اس معمولی تجاوز کی اجازت عنایت فرما دیجیئے۔ لیکن وہ نہ مانے اور مجھے عجیب بیزاری اور غصہ بھری نظروں سے گھورنے لگے۔ ان کی طبع افسری کو یہ گوارا نہیں ہو رہا تھا کہ کوئی رتبے میں کمتر ان کے ساتھ بحث اور اختلاف کرے۔ وہ تو صرف یس سر سننے، حکمِ ناطق جاری فرمانے اور حاکمانہ نوٹ لکھنے کے عادی تھے۔ صوبے کے چیف انجینئر میری تجویز کو باآسانی سمجھ سکتے تھے لیکن وہ بھی چیف سیکرٹری کے سامنے خاموش رہے۔ کسی نے میرا ساتھ نہ دیا اور چیف سیکرٹری ناراضی کی حالت میں وہیں سے واپس چلے گئے۔

اس واقعہ کے بعد میرا دل بجھ گیا۔ میں شدید اداسی اور بے بسی کے احساس سے دوچار ہو گیا، اپنا آپ، دنیا، نوکری، مستقبل سب کچھ بے معنی لگنے لگا۔ جی چاہا کہ ملازمت چھوڑ کر چلا جاوں اور اس پیشے ہی سے کنارہ کر لوں۔ کام سے جی اچٹ گیا۔ سوتے میں یوں لگے جیسے کسی نے یخ ٹھنڈا پانی میرے اوپر انڈیل دیا ہو اور میں سردی سے کپکپا رہا ہوں۔ نارمل ہونے میں کئی دن لگ گئے اور چیف سیکریٹری نما انسانوں کے لیے ایک عجیب سی ناپسندیدگی دل میں نقش ہو گئی، جو ابھی تک کسی کونے میں جاگزیں ہے۔ سرکاری عہدے، گریڈ، حکومتی و سماجی رتبے آج بھی میرے لیے باعثِ توقیر نہیں۔ انسان اہم ہے۔ یہ حقیقی واقعہ ایک شخص کی بے حسی، بے کشفی نہیں پورے افسر شاہی نظام کی داستان ہے۔ یہ نہ سوشلزم کی بات ہے نہ اسلام کی، نہ جمہوریت کی نہ مارشل لا کی۔ نہ رجعت پرستی کی نہ ترقی پسندی کی۔ یہ انسان اور انسانیت کی بات ہے۔ لیکن اِس ملک میں بنیادی سہولتیں انسانوں اور انسانوں کی یکساں حیاتیاتی ترکیب اور ایک جیسی اساسی ضرورتوں کے لیے نہیں عہدوں اور گریڈوں کے مطابق بنائی جاتی ہیں۔ بیوروکریسی آج بھی اہنی سہولتوں اور اپنے فائدے کے علاوہ کچھ سوچنے اور کرنے نہیں دیتی۔ اس کے سوفسطائی طریقوں اور ثقیف کاریوں کے سامنے عسکری اور سیاسی قوتیں بھی ناچار ہیں اور ڈی سی کا نام بدل کر ڈی سی او رکھ سکتی ہیں اور بس، اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتیں، کوئی انقلابی تبدیلی نہیں لا سکتیں۔ وہ آج بھی بااختیار ہے اور مجھ جیسے عامی آج بھی بے بس و بے اثر۔ میں این ڈبلیو ایف پی ہاو¿س کی تکمیل کے بعد کبھی وہاں نہیں گیا۔ اب تو شاید وہاں مجھے کوئی داخل بھی نہ ہونے دے۔ لیکن امید ہے کہ سرونٹ بلاک کے مکینوں کو گرم پانی مل گیا ہو گا کیونکہ اسلام آباد کے زمہریری سرما میں اس کے بغیر گزارا نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “انھیں گرم پانی کی کیا ضرورت ہے

  • 07-02-2016 at 11:29 pm
    Permalink

    ہماری سول افسر شاہی رعونت میں ہمارے ملٹری افسران سے کم نہی ہے۔
    اور عام آدمی کو ملٹری سے کم اور سوال افسران سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے۔ آجکل ان میں یہ رحجان ہے کہ کام نہ کرو اور وقت گزارو

  • 08-02-2016 at 4:16 am
    Permalink

    تقسیم کرو اور حکمرانی کرو یہ اصول انہیں انگریز جاتے جاتے سکھا گۓ تھی اسی اصول پر پاکستان سیول بیوروکریسی اور ملٹری اسٹبلشمنٹ چل رہی ہے ۔ باقی کسی ادارے اور سیاسی مذھبی جماعتیں غرض شہریوں میں تنظیم ، مساوات، یکسانیت، عدل ،اصول اور سوچ و فکر کو ہر ممکن طریقے سے مختلف طبقات میں تقسیم در تقسیم کرکے یہ براہمن مزاج طبقہ آج بھی عام شہری کی نفسیات پر سوار رہتا ہے ۔۔ رہے عوامی نمائندے جو ان کا آئینی قانونی لحاظ سے احتساب کرنے کا اختیار تو رکھتے ہیں مگر ان عوامی نمائندوں کی درگت بنانے کے لیے انہوں نے میڈیا کو اپنے ہاتھ میں رکھا ھوا ہے ۔۔ جو ووٹوں کے ذریعۓ منتخب ھونے والے پارلیمنٹیرین سے زیادہ خود کو عوامی نمائندہ سمجھتے ہیں۔ دھشت گردی کی جنگ میں سب زیادہ فائدہ چینلز مالکان کو ھوا ۔ جنہون نے اپنے ساتھ صحافیوں کو بھی فرعون مزاج بنادیا ہے۔ پاکستان کے ازلی دشمنوں کے راگ بم دھماکے مل نغمے قومی اور مذھبی تہوار یہ قوم کے ساتھ مل کر مناتے ہیں بس یہی حب الوطنی ہے ۔ عام شہری بھی کیا جانے کہ حب الوطنی کا پھل صرف خواص کے لیے میٹھا ھوتا ہے ۔

  • 08-02-2016 at 7:10 pm
    Permalink

    محترم نصیر احمد ناصر نے ایک معمولی سے واقعے کے بیان سے اعلی افسر شاہی کے عمومی رویے کی بہت مؤثر عکاسی کی ہے. سر رضا علی نے اپنی مشہور سرگزشت “اعمال نامہ” میں بیان کیا ہے کہ برطانوی دور میں جب ریلوے کا نظام وجود میں آیا تو اس میں طبقہ فرشیہ یعنی تیسرے درجے کے ڈبوں میں بیت الخلا کا کوئی بندوبست نہ تھا. سر رضا علی وائسرا ے کی مشاورتی کونسل کے رکن تھے. انہوں نے بارہا اجلاسوں میں اس افسوس ناک مظہر کی جانب توجہ دلانے کی کوشش کی کہ بے چارے مسافر ہر سٹیشن پر ڈبے سے دوڑتے ہوۓ نکل کر قریبی جھاڑیوں کا رخ کرتے ہیں اور سیٹی بجنے پر اسی طرح، نا گفتہ بہ حالت میں واپس گاڑی کی سمت لپکتے ہیں .. خواتین مسافروں کی حالت کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا.. ہر بار اس تجویز کو اعلی (دیسی و بدیسی) افسر شاہی رد کر دیتی. ایک بار انہوں نے طنز کے پیراے میں تقریر کے دوران ممبر ریلوے کی جانب اشارہ کرتے ہوے کہا کہ شاید معزز رکن کی راے میں تیسرے درجے کے مسافر کوئی ملکوتی مخلوق ہیں جو اس قسم کی بشری حاجات سے بے نیاز ہیں. اس پر شاید وائسرا ے کا دل پسیجا اور ڈبوں میں بیت الخلا کی فراہمی کے احکامات صادر کیے گئے. قیام پاکستان پر، مولانا غلام رسول مہر کی راے میں حکمرانوں کی ایک بڑی غلطی یہ بھی تھی کہ انہوں نے مرکزی حکومت کے تمام مسلمان افسران کو پاکستان آنے کی دعوت دے ڈالی، حالانکہ ان علاقوں میں بھی تربیت یافتہ اور عوام سے نسبتا قریب صوبائی افسران موجود تھے . اسی بات کا ذکر مرحوم حاکم علی زرداری نے بھی خاصے تلخ انداز میں ایک انٹرویو میں کیا. مولانا مہر کی راے میں اس سے ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمان بے یار و مددگار ہو گئے. دوسرے یہ کہ یہ افسران، جنہیں بھوری چمڑی کے باوجود گورے حکمران کے مزاج میں ڈھالا گیا تھا، یہی اقدار اس ملک میں بھی مستحکم کرنے میں کامیاب ہو گئے، بہ استثناے چند، وہ بھی شاذ کالمعدوم . یہ الگ بات کہ “سیر پر سوا سیر” کے مصداق ان بھورے صاحب لوگ کے بے لگام اختیارات کو بے لگام تر فوجی افسر شاہی نے معتدبہ حد تک کمزور کیا. اگرچہ اب افسر شاہی میں نچلے اور درمیانے طبقے کے لوگوں کی آمد کے سبب وہ پہلے سی ٹیپ ٹاپ نہ رہی، مگر یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے کہ کوئی شخص تاریخ اسلام، تاریخ ہند، اور قانون آئین کے بیس بیس سوال رٹ کر اور ذرا سی صاف انگریزی بول کر اس طبقے میں شامل ہوتے ہی بیک وقت تعلیم، صحت، پائیدار ترقی، امن و امان، صنعت و حرفت، انجینیرنگ اور جنگلات وغیرہ پر حرف آخر کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے. ذرا سی قلم کاری کی جانب طبیعت مائل ہو تو کالم نویسی کے ذریعے اپنے فوری دائرہ کار سے باہر کے لوگوں کی رہنمائی کا بھی فریضہ سنبھال لیتا ہے. حقیقی حکمرانوں سے قارورہ ملا لے تو علانیہ قومی پالیسیوں کی مخالفت سے بھی اسے کوئی نہیں روک سکتا. میری نظر سے, اپنے دیکھے ہوۓ تیس کے قریب ممالک میں سے, سابق برطانوی نو آبادیوں کے سوا یہ نظام نہیں گزرا.

  • 09-02-2016 at 9:28 pm
    Permalink

    بہت شکریہ عثمان سہیل صاحب، تنویر حسین صاحب اور قاضی صاحب۔ آپ تینوں صاحبان کی رائے اور مشاہدہ اپنی اپنی جگہ درست ہے۔ جو لوگ یہ نطام چھوڑ کر گئے تھے ان کے ہاں تو اب بیوروکریسی، انتطامیہ، پولیس وغیرہ عوام دوست ہے۔ وہاں اب ایسی افسر شاہی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مسائل اور تعصبات اور طرح کے ہیں۔ لیکن یہ بات تکلیف دہ حد تک صحیح ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک وہی سوچ اور رویہ کارفرما ہے جو تب تھا کہ انھیں “بیت الخلا” کی کیا ضرورت ہے، صدیوں بعد بھی وہی سوچ کہ انھیں گرم پانی کی کیا ضرورت ہے۔ خود تو ان کا معمولی سا بلڈ پریشر بھی ہائی ہو تو سنگا پور اور یورپ کے علاوہ کہیں سے چیک اپ نہیں ہوتا اور عوام اور نچلے درجے کے ملازمین کے لیے یہ صحت کا جو نظام بناتے اور مہیا کرتے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔ 🙂

    • 10-02-2016 at 12:03 am
      Permalink

      صحیح فرمایا ناصر صاحب

Comments are closed.