ترکی میں روزگار کیلیے مقیم 4 پاکستانی نوجوان اغوا، تشدد کی ویڈیو بھیج کر تاوان کا مطالبہ


\"\"

گوجرانوالہ: روزگار کی تلاش میں ترکی جانے والے 4 نوجوانوں پر بھیانک تشدد کی وڈیو سامنے آگئی، چاروں کے لواحقین کو اغوا کاروں نے وڈیو بھیج کر 20,200 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کردیا.

گوجرانوالہ کے علاقے گھوڑے شاہ میں بسمہ اللہ چوک کے رہائشی ذیشان، عابد اور عثمان جبکہ وزیر آباد کا عدیل روزگار کی تلاش میں ترکی گئے تھے۔ ان کو لے جانے والے انسانی اسمگلر مبینہ طور پر وہاں پر اغوا کاروں سے مل گئے اور پہلے تو ٹیلی فون پر ہی تاوان کا مطالبہ کرتے رہے جب لواحقین نے کہا کہ سب جھوٹ ہے تو اغوا کاروں نے موبائل پر نوجوانوں کو تشدد کرتے ہوئے وڈیو بنائی جس میں چاروں نوجوانوں کو برہنہ حالت میں رسیوں اور ہتھکڑی سے باندھ کر زمین پر لٹا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان کے جسموں پر پہلے گرم چھری سے کٹ لگائے گئے، پھر مسلسل ڈنڈوں کے وار کر کے لہولہان کیا گیا اور پھر یہ وڈیو لواحقین کو بھجوائی گئی ہے۔

چاروں کے ورثا کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر کسی کو بتایا تو تمہارے بچوں کو قتل کر دیں گے، ورثا کے مطابق مردان کے رہائشی اغوا کاروں کے ایک ساتھی کے ذریعے ڈیل طے پا رہی ہے، وہ میڈیا سے بات نہیں کر سکتے۔ نجی ٹی وی کے مطابق دفترخارجہ نے چار نوجوانوں کی ترکی میں قیدکی خبرکانوٹس لے لیا ہے اور جاری بیان میں کہاگیاہے کہ پاکستانی سفارتخانے کومعاملے سے آگاہ کردیا گیاہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں