کالعدم تنظیمیں وفاق کی چھتری تلے کام کر رہی ہیں: چانڈیو


\"\"

کراچی (وقائع نگار + کرائم رپورٹر + ایجنسیاں) حکومت سندھ نے وفاقی حکومت پر نیشنل ایکشن پلان سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے وفاقی حکومت دہشتگردی کی روک تھام کے لیے بنائے گئے قومی ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہی اور جو کمزوریاں نظر آرہی ہیں اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے وفاقی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا وفاق کی کالعدم تنظیموں سے متعلق کوئی پالیسی نہیں۔ وفاق نیشنل ایکشن پلان کی ذمہ داریاں ادا نہیں کررہا۔ وفاق نے مدارس سے متعلق کیا حکمت عملی بنائی، کالعدم تنظیمیں وفاق کی چھتری تلے کام کررہی ہیں، اسلحہ جہاں بنتا ہے وہاں سے روکنا وفاق کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بھی شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ سے بہت سی فرمائشیں کر ڈالیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا سٹریٹ کرائم سے پاک کراچی چاہئے۔ کارروائیوں کی روزانہ رپورٹ دی جائے۔ ڈرگ مافیا کیخلاف بھی آپریشن کیا جائے۔ یہ آپریشن رینجرز کے اشتراک کے ساتھ چاہئے۔ وقائع نگار کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ نے کہا انکی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد کے لئے سنجیدہ ہے جس کا ثبوت یہ ہے وہ آج نئے سال کے پہلے دن اپیکس کمیٹی کے 19ویں اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں مگر وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے چند اہم حصوں پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ٹارگٹیڈ آپریشن کے سست ہونے کے تاثر کے حوالے سے کہا انہوں نے اسکے اسکوپ میں توسیع کرتے ہوئے چند دیگر سنگین جرائم جن میں سٹریٹ کرائم، ڈرگ مافیا، لینڈ مافیا و دیگر کو شامل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہم آج اپیکس کمیٹی کا 19واں اجلاس منعقد کر رہے ہیں جس سے ہمارے عزم کا اندازہ ہو سکتا ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے چند اہم کلازز پر عملدرآمد میں نا کام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاﺅن ہونا چاہیے مگر وہ کھلم کھلا اجلاس منعقد کر رہے ہیں اور اس حوالے سے پالیسی واضح نہیں۔ نیشنل ایکشن پلان میں غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کا بھی کہا گیا تھا مگر اس حوالے سے بھی اب تک کوئی خاطر خواہ پیش رفت ہو نہیں سکی ہے اور نیکٹا کو بھی فعال کیا گیا تھا مگر انہوں نے بھی ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پر عملدرآمد میں مکمل تعاون نہیں کررہی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مشیربرائے اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا وفاق نیشنل ایکشن پلان پر صحیح عمل پیرا نہیں جبکہ وفاق نے مدارس سمیت غیرقانونی اسلحہ کے حوالے سے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہیں۔ مولا بخش چانڈیو نے کہا وفاق نیشنل ایکشن پلان پر صحیح ردعمل نہیں دے رہا، وفاق نے مدارس سمیت غیرقانونی اسلحہ کے حوالے سے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی،کالعدم تنظیموں کے حوالے سے وفاق کی کوئی پالیسی نہیں۔ انہوں نے کہاوفاقی حکومت کے پاس کرنے اوردکھانے کو کچھ نہیں رہا جب راحیل شریف کے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے سکون کا سانس لیا، اسلحہ یہاں نہیں بنتا لیکن یہاں آرہا ہے اور اس کو روکنا وفاق کی ذمہ داری ہے تاہم وفاق سندھ کے ساتھ پنجاب کے شہروں میں بھی بدامنی پھیلانا چاہتا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے سے وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی ہے۔ دینی مدارس کے حوالے سے وفاقی حکومت خاموش ہے۔ کالعدم تنظیموں کو بھی وفاقی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس طرح کام کیسے چلے گا۔ ایک سوال کے جواب میں مولا بخش چانڈیو نے بتایا آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ رہیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ کرنا وزیر اعلی کا کام ہے۔ نیشن رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ نے ٹارگٹڈ آپریشن کے سست روی کے موقف کو مسترد کردیا۔ بی بی سی کے مطابق سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ سے درخواست کی ہے مشکوک سرگرمیوں میں ملوث 94 مدارس پر پابندی عائد کی جائے۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 10 ہزار سے زائد مدارس موجود ہیں جن میں سے 7724 فعال ہیں اور ان میں ساڑھے پانچ لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں 818 غیرملکی ہیں۔ اس سے قبل صوبائی ایپکس کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں بتایا گیا تھا سندھ میں 50 مدارس کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط ہیں جن کی آگاہی انٹیلی جنس اداروں، پولیس اور رینجرز کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔ ان مدارس میں سے 27 کراچی، 12 حیدر آباد، 4 لاڑکانہ، 6 سکھر اور ایک گھوٹکی میں واقع ہے۔ بی بی سی کے مطابق سندھ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت پر تحفظات کا اظہار کیا۔ پیر کی صبح سال نو کے پہلے اجلاس میں نئے کور کمانڈر جنرل شاہد بیگ، ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اور صوبائی وزرا نے شرکت کی۔ صوبائی مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے ایپکس کمیٹی کے نئے ارکان کی تعریف کی اور کہا کور کمانڈر نہایت شائستہ اور نرم گفتگو کرنے والے پیار بھرے انسان لگ رہے ہیں اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز بھی۔ دونوں کے ساتھ خوشگوار ماحول میں آغاز ہوا ہے اور یہ یقین دہانی ہے کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں امن امان کے حوالے سے اسی بہتر انداز میں کام ہو گا۔ انہوں نے کہا وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت پر \"\"تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا وہ کراچی آپریشن اور نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی، اور حکومتِ سندھ کی جو مدد کرنی چاہیے وہ بالکل فراہم نہیں کی جا رہی۔ انھوں نے کہا اس وقت جن جگہوں پر کمزوری نظر آرہی ہیں وہ سب وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا مدراس کی رجسٹریشن کے حوالے سے سندھ میں بہت کام ہو چکا ہے لیکن نگرانی کے لیے وفاقی حکومت کچھ نہیں کر رہی، مدارس کے حوالے سے باتیں کرتے ہیں لیکن ایکشن سے پتہ نہیں ان کی جان کیوں نکلتی ہے۔ انہوں نے کہا کالعدم تنظیموں کے حوالے سے وفاقی حکومت کی کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آتی۔ کالعدم تنظیمیں جلسے کر رہی ہیں اور کئی تنظیمیں تو ایسی ہیں جن کو وفاقی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا آپریشن کے دوران سندھ میں پولیس اور رینجرز نے بڑی تعداد میں اسلحہ پکڑا لیکن اسلحہ بنانے اور لانے والوں کے خلاف کارروائی تو وفاقی حکومت نے کرنی ہے، کیونکہ اسلحہ یہاں تو نہیں بن رہا۔ انہوں نے کہا بعض نشریاتی اداروں پر دہشت گردوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جارہا ہے، لیکن پیمرا کوئی ایکشن نہیں لے رہا۔ اس قسم کی نشریات اور اشاعت کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت نے کردار ادا کرنا تھا جو وہ ادا نہیں کر پائی۔ ایپکس کمیٹی نے کراچی میں سٹریٹ کرائم میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا آئی جی سندھ کو اس کی روک تھام کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ مشیر اطلاعات نے بتایا اس بات پر سب کا اتفاق تھا اوپر کتنی بھی کوششیں کی جائیں گلیوں میں لوگوں کو تحفظ حاصل نہیں تو ساری کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی۔مشیر اطلاعات مولابخش چانڈیو کا دعویٰ تھا آئی جی سندھ پرسکون نظر آ رہے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے ان پر سندھ حکومت کا کوئی دباو¿ نہیں ہے۔ آئی این پی کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر واضح پالیسی اختیار نہیں کر رہی، مجھے سٹریٹ کرائم فری کراچی چاہیے، ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ اور نیشنل ایکشن پلان پر واضح پالیسی اختیارنہ کرنے پر خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایپکس کمیٹی اجلاس میں سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو سٹریٹ کرمنلز کیخلاف کریک ڈاﺅن کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی حکومت تعاون نہیں کر رہی، کالعدم تنظیم کے لوگ کھلے عام میٹنگ کر رہے ہیں اور وفاقی حکومت واضح پالیسی اختیار نہیں کررہی، غیر قانونی اسلحہ فیکٹریوں پر کریک ڈاﺅن کیا جائے کیونکہ پکڑا جانے والا اسلحہ مقامی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے انٹرنیٹ کے غلط استعمال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا نیکٹا اپنا کام کیوں نہیں کر رہی ہے۔ نیٹ نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت سندھ ایپکس کمیٹی اجلاس میں کور کمانڈر کرایچ لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید، مولا بخش چانڈیو، نثار کھوڑو اور چیف سیکرٹری سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں سی پیک کے لئے 1000 ریٹائرڈ فوجیوں پر مشتمل خصوصی فورس کی تشکیل اور 9 مزید مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی منظوری دی گئی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مشیر اطلاعات مولابخش چانڈیو نے کہا وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا وزیراعلیٰ نے تمام اداروں کو سٹریٹ کرائم ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی حکومت کے پاس کرنے اور دکھانے کو اب کچھ نہیں رہا۔ راحیل شریف کے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ این این آئی کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ نے صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وفاق کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیاجبکہ اجلاس میں کراچی آپریشن کو مزید موثر اور تیز کرنے اور مزےد 9 مقدمات ملٹری کورٹس بھےجنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔گورنر سندھ جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی علالت کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہ ہو سکے۔ گورنر بننے کے بعد وہ اپیکس کمیٹی کے کسی بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ نئے کور کمانڈر کراچی اور نئے ڈی جی رینجرز نے اپنے عہدے سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔ ایپکس کمیٹی سندھ کے اجلاس کو بتایا گیا سندھ حکومت کی سفارش پر 62 کالعدم تنظیموں کو فرسٹ شیڈول میں ڈالا گیا ہے۔ سندھ میں 92686 افغان باشندے رجسٹرڈ ہیں۔ حکومت سندھ نے 94 مدارس کی فہرست وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کی ہے اور سفارش کی ہے ان مدارس کو فرسٹ شیڈول میں ڈالا جائے۔ مختلف مکاتب فکر کے 581 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ وزیراعلی سندھ مراد شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے میں مکمل تعاون نہیں کر رہی۔ ٹی وی چینلز پر ابھی تک دہشت گردوں کی خبریں چلتی ہیں۔ انٹرنیٹ کے غلط استعمال کو نہیں روکا جا سکا۔ کالعدم تنظیموں کے لوگ کھلے عام اپنے اجلاس اور جلسے منعقد کر رہے ہیں اور وفاقی حکومت کوئی واضح پالیسی اختیار نہیں کر رہی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا وفاقی حکومت کو خط لکھا جائے گا غیر قانونی اسلحہ بنانے والی فیکٹریوں اور دکانوں پر کریک ڈا¶ن کیا جائے۔ اب تک جتنا اسلحہ پکڑا گیا ہے، اس میں سے 40 فیصد اسلحہ مقامی طور پر تیار ہوا ہے۔ ایپکس کمیٹی سندھ کے اجلاس میں سٹریٹ کرائم میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعلی سندھ نے سٹریٹ کرمنلز کے خلاف کریک ڈاﺅن کرنے کا حکم دیا۔ وزیر اعلی سندھ نے کراچی کے شہریوں سے اپیل کی وہ ہر کرائم پر پولیس اور رینجرز کی ہیلپ لائن پر شکایات درج کرائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا اب ہر مہینے ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہو گا۔ مجھے ہر حال میں سٹریٹ کرائم فری کراچی چاہئے۔ وزیر اعلی سندھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ بھی ہدایت کی ڈرگ مافیا کے خلاف سخت آپریشن کیا جائے۔ سٹریٹ کرمنلز کے خلاف کارروائیوں کی روزانہ رپورٹ دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ پولیس مل بیٹھ کر ڈرگ مافیا کے خلاف آپریشن کو حتمی شکل دیں اور آپریشن شروع کریں۔ وزیراعلی سندھ نے موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا مجھے یہ صورت حال قبول نہیں۔ جرائم پیشہ افراد جرم کرکے کچی آبادیوں میں چھپ جاتے ہیں۔ ان کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن تیز کیا جائے۔ وزیر اعلی سندھ نے سیکرٹری محکمہ داخلہ کو حکم دیا انسداد دہشت گردی کی عدالتیں کلفٹن سے کراچی سینٹرل جیل منتقل کی جائیں۔ دہشت گردوں کو 600 افراد کی نفری کے ساتھ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں کلفٹن میں پیش کرنا ممکن نہیں۔ یہ نفری سٹریٹ کرائم ختم کرنے کے لیے لگائی جائے۔ وزیر اعلی سندھ نے یہ بھی ہدایت کی قانون میں ایسی ترمیم تجویز کی جائے کہا سٹریٹ کرمنلز کے مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو بھیجے جا سکیں۔ کرائم رپورٹر کے مطابق جبری رخصت پر بھیجے گئے انسپکٹر جنرل پولیس اے ڈی خواجہ نے رخصت ختم ہونے کے ایک دن قبل ہی اپنا عہدہ دوبارہ سنبھال لیا۔ پیرکوانہوں نے وزیراعلی سندھ کی سربراہی میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے 18 ویں اجلاس میں شرکت کی۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی ہدایت پر کراچی پولیس نے سٹریٹ کرائم کیخلاف آپریشن کرنے کا اعلان کیا۔ کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کا کہنا ہے رینجرز کے ساتھ مل کر بڑے آپریشن کریں گے۔ سٹریٹ کرمنلز کا کسی نہ کسی طرح تعلق ڈرگ مافیا سے ہوتا ہے۔ کرسٹل اور ہیروئن لینے والے افراد سٹریٹ کرائم میں ملوث ہیں۔ کراچی سے بڑا جرم ختم ہوگیا، اب سٹریٹ کرائم سے نمٹنے پرفوکس ہے۔ موبائل فون کا سراغ لگانا بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ ملزم موبائل فون کا آئی ایم ای آئی نمبر کرپٹ کردیتے ہیں۔ موبائل فون کمپنیوں سے خصوصی سافٹ ویئر کیلئے بات کررہے ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں