کیا دیوبندی اکابرین خوف کی وجہ سے سیکولر ہیں؟


\"\"

جمعیت علمائے ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے اپنے کئی بیانات میں کہا کہ ملک کا سیکولر ہونا ضروری ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا انہوں نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مذہب ذاتی معاملہ ہے اور ووٹ آئینی معاملہ ہے لہذا مذہب کے نام پہ ووٹ مانگنے پر پابندی لگائی جائے۔ مسلمان سکھ مسیحی ہندوؤں سمیت سبھی کو مذہب کے نام پہ ووٹ مانگنے سے روکے جانا ضروری ہے۔ مذہب کے نام پہ ووٹ مانگنے سے نفرت پھیلتی ہے۔ اس سے پہلے بھی انہوں نے ایک بڑے جلسے میں کہا تھا کہ ملک کے لیے سیکولر ہونا ضروری ہے۔

رات ان کی ایک ویڈیو سن رہا تھا جس میں وہ کہتے پائے گئے کہ گاندھی جی کے قتل کی وجہ بھی یہی ہے کہ انہوں نے ملک کو سیکولر آئین دیا۔ علمائے دیوبند کے بزرگ مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ دہلوی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور مولانا ابوالکلام آزاد اور کانگریس کے درمیان یہ طے ہوا تھا کہ بھارت کا آئین سیکولر ہوگا۔ جب ہندوستان تقسیم ہوا تو کچھ ہندو رہنماؤں نے کہا کہ مسلمانوں نے اپنا حصہ وصول کر لیا ہے اب ملک کا آئین ہندو مذہب کے مطابق بنایا جائے اور بھارتی ریاست کو ہندو ریاست قرار دیا جائے۔ جب یہ باتیں اکابرین دیوبند تک پہنچی تو انہوں نے گاندھی جی کو وہ خط و کتابت اور معاہدے دکھائے جو ان کے ساتھ کیے گئے تھے۔

ان حضرات نے گاندھی جی سے کہا مسٹر گاندھی تقسیم پہ دستخط آپ نے کیے ہم نے نہیں۔ ہمیں تو ہندؤوں کا پٹھو کہا گیا۔ ہماری تو پگڑیاں اچھالی گئی لیکن ہم نے مذہب کے نام پہ قائم ہونے والی ریاست کا ساتھ نہیں دیا لہذا اپنا وعدہ پورا کریں۔ قول کے پکے گاندھی جی نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ملک کو سیکولر آئین دیا۔

جب یہ باتیں اپنے دوستوں کے سامنے لائیں تو دوست خفا ہوئے کسی نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے حالات ایک جیسے نہیں۔ کسی نے کہا چھوٹی برائی کو بڑی برائی کے مقابلے میں قبول کر لینا چاہیے لیکن ابھی تک کوئی واضح جواب نہ دیا جا سکا میں چاہتا ہوں کہ میں کچھ باتیں دوستوں کے سامنے رکھوں اور ان سے جواب لوں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مجھے آج تک یہ پڑھایا اور سمجھایا گیا کہ اسلام سرحدوں کی تقسیم کا قائل نہیں۔ اسلام آفاقی دین ہے اس کے احکامات سرحدوں کے بدلنے سے نہیں بدلتے۔ حالات جیسے بھی ہوں ہمیں اسلامی احکامات کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ یہ باتیں بھارت میں جا کے بدل کیوں جاتی ہیں؟ کیا اسلام اجازت دیتا ہے کہ وہاں ہم سیکولرازم کے دفاع کے لیے کھڑے ہو جائیں؟ اگر سیکولر ازم برائی ہے تو کمزور ایمان کا درجہ یہ ہے کہ ہم برائی کو دل سے برا جانیں اور وہاں تو سیکولرازم کے لیے باقاعدہ علماء نے جنگ کی؟ آخر کیوں؟

\"\"

آپ کہتے ہیں مجبوری ہے تو جناب عرض ہے کہ جو علمائے دیوبند انگریزوں کے خلاف لڑے اور فتوے دیے کہ انگریز کی فوج میں بھرتی ہونا حرام ہے۔ بھارت دارالحرب ہے کیا وہ ہندوؤں سے ڈرتے ہیں؟ انہوں نے ہندؤوں کو حاکم کیوں مان لیا؟

انگریز بھی کافر۔ ہندو بھی کافر۔ لیکن وہ انگریز کے خلاف تو لڑتے ہیں ان کی حکمرانی نہیں مانتے اور ہندوؤں کی مان لیتے ہیں آخر کیوں؟

ایک سوال اور بھی ہے جن علماء نے گاندھی جی کا ساتھ دیا اس وقت ایک الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ چل رہا تھا مسلم لیگی نعرے لگا رہے تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔ علمائے دیوبند کی اکثریت اسلامی ملک کی بجائے سیکولر ملک کے لیے کیوں کھڑی ہوئی؟ اس وقت کیا مجبوری تھی؟ اس وقت تو ہجرت کر سکتے تھے نا؟ اکثریتی ملک کے لیے جدوجہد بھی کر سکتے تھے لیکن نہیں کی آخر کیوں؟

آپ کہتے ہیں پاکستان کے بارے میں ان کے شکوک و شبہات تھے کیا شکوک و شبہات دور نہیں کیے جا سکتے تھے؟ کیا شبیراحمدعثمانی صاحب اور مفتی شفیع عثمانی صاحب کو اس ملک نے اور عوام نے عزت نہیں دی؟ انہوں نے بھی تو ہجرت کی۔ تقی عثمانی صاحب جج بنتے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کو صوبوں میں حکومت ملتی ہے۔ آخر کوئی وجہ تو ہوگی کہ انہوں نے سیکولر بھارت کو ترجیح دی۔

میں تو سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ تقسیم سے پہلے اس نتیجے پہ پہنچ چکے تھے کہ اب قومی ریاستوں کا دور ہے لہذا سیکولر نظام کے لیے جدوجہد کی جائے۔ انہوں نے جس چیز کو ٹھیک سمجھا پوری ایمانداری کیساتھ اس پہ ڈٹ گئے۔

آپ جس چیز کو گالی سمجھتے ہیں علمائے دیوبند اسے سینے سے کیوں لگائے ہوئے ہیں؟ اور یہ بات وہ آج نہیں کر رہے بلکہ اس وقت سے کر رہے ہیں جب ہندوستان آزاد نہیں ہوا تھا۔

ابھی تو مجبوری کہہ دو گے آزادی سے پہلے کیا مجبوری تھا؟ امید ہے احباب جواب دیں گے اور مجھے قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسلامی نقطہ نظر سے ان کے یہ کام ٹھیک ہیں یا غلط؟ مجھے اسلامی زاویے سے بتایا جائے نہ کہ سیاسی مصلحتیں میرے سامنے رکھی جائیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “کیا دیوبندی اکابرین خوف کی وجہ سے سیکولر ہیں؟

  • 03-01-2017 at 6:24 pm
    Permalink

    ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺧﺪ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻓﺮﻣﺎﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ، ” ﺍﺳﻼﻡ ﺳﺮﺣﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺎ ﻗﺎﺋﻞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﻓﺎﻗﯽ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﺳﺮﺣﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻟﺘﮯ۔ ﺣﺎﻻﺕ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ”
    ﺍﺏ ﺍﮔﻠﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮯ ﺍﮐﺎﺑﺮﯾﻦِ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ ﺍﺱ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌﮮ ﮨﺆﮮ ﮨﯿﮟ؟
    ﺍﻭﻝ : ﺗﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻘﻮﻝ ﻭﺟﮧ ﻓﮑﺮﯼ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﺎ ﺣﻞ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﺆﮮ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺳﻨّﮧ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻋﻘﻞ ﮐﻮ ﻣﺼﺪﺭ ﻣﺎﻧﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ۔
    ﺩﻭﻡ : ﻋﯿﻦ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﺠﺮﺕ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﯿﺎ، ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﺳﯿﮑﻮﻟﺮ ﻧﻈﺮﯾﮧ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﮐﯽ ﮨﻮ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﻞِ ﻭﺳﻂ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺍﺱ ﻧﮩﺞ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ، ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﻘﺎ ﮐﺎ ﺩﻋﻮٰﯼ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﭨﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﺑﻘﺎ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﯿﮟ۔

  • 03-01-2017 at 11:31 pm
    Permalink

    محترم، اگر ارشد مدنی نے وہی کہا ہے جو آپ نے درج کیا تو انھوں نے صریح غلط بیانی کی ہے۔ آپ خود غور کریں۔ آزادی یا تقسیم اگست ۱۹۴۷ میں ہوئی۔ گاندھی جی کا قتل اسکے پانچ ماہ بعد ہو گیا۔ اس تمام دوران دھلی کے مسلم اور ہندو لیڈروں کا سارا وقت فسادات کی روک تھام اور پناہ گزینوں کو محفوظ رکھنے میں گذرتا تھا۔ آئینی بحثوں میں نہیں۔ اور اگر یہ قابل قبول نہ ہو تو اس پر ذرا غور کیجئے کہ ہندوستان کے آئین کی تشکیل کا کام ۱۹۴۶ میں شروع ہوا تھا۔ اور جناح صاحب نے اس کام میں شرکت سے تمام مسلم لیگیوں کو منع کردیا تھا۔ لیکن کچھ نے انکے حکم سے بغاوت کرکے شرکت کی تھی۔ اس وقت صرف حسرت موہانی کا نام یاد آرہا ہے، لیکن ایک یا دو مزید لوگ بھی تھے۔ ھندوستان کا آئین گاندھی نے نہیں دیا تھا، اسکے بنانے میں سب سے بڑا رول ڈاکٹر امبیدکر کا تھا۔ جب گاندھی جی کے قاتل، ناتھو رام گوڈسے پر مقدہ چلا تو اس نے اپنے بیان میں کہیں ہندوستان کے آئین کا ذکر نہیں کیا۔ اسکو تو بڑی شکایت یہ تھی کہ گاندھی مسلمانوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بھی حمایت کر رہے ہیں، اور پاکستان کو اسک جائز حق دلانے کے لئے فاقہ تک کر سکتے ہیں۔

Comments are closed.