کتابوں اور یادوں میں گھرا ایک بوڑھا آدمی


کبھی ایسے انسان کا تصور کیجیے جسے زندگی میں کوئی کام نہ ہو، نہ اسے نوکری کرنی ہو، نہ اسے کاروبار کرنا ہو، نہ اس نے شادی کی ہو نہ کرنی ہو، بس ایک کام ہو اور وہ کرتا جائے، کرتا جائے کرتا جائے یہاں تک کہ وہ اسی برس کا ہو جائے۔ اور وہ کام کتاب پڑھنا ہو۔ جب کبھی کتابوں سے جی بھر جائے تو جا کر دوستوں میں جا بیٹھے اور جو وہاں سے اکتائے تو واپس کتابوں میں جا گھسے۔ فرصت اتنی کہ کم و بیش ایک صدی ایسے ہی گزار دے اور مصروف ایسا کہ اس تمام عرصے میں دو باریک سی کتابیں شاعری کی آئیں۔

ایک مرتبہ پوچھا کہ نثر کی طرف توجہ کرتے، کچھ لکھ دیتے، کوئی یادیں کوئی آپ بیتی ہوتی آپ کی، کوئی افسانے، ناول، کچھ تو ہوتا۔ کہنے لگے ہاں میں بہت عرصے تک ڈائری لکھتا رہا، رف کاپیاں جو بچوں کی ہوتی ہیں، وہ لے آتا تھا، ایک صفحہ روز کا لکھ دیتا تھا۔ جب ایک کاپی بھر جاتی تو اسے کتابوں میں پھینک دیتا اور دوسری کاپی لے آتا۔ چالیس پچاس کاپیاں تو لکھی ہوں گی۔ پھر ایک بار میں نے لکھنے کے بعد پچھلا صفحہ کھولا، پھر اس سے پچھلا صفحہ کھولا پھر ایک اور پرانی کاپی کھولی تو مجھے لگا ہر صفحے پر وہی کچھ لکھا ہے جو آج کی ڈائری تھی۔ میں ہر روز وہی زندگی کرتا تھا تو پھر اسے بھی لکھ کر پھینک دیا بس، بہت بار بہت لوگوں نے کہا چھپواؤ، لیکن اس میں ہے ہی کیا جو چھپوایا جائے۔

زاہد ڈار اندر سے جانتے ہیں کہ بہرحال وہ صفحے وہ ڈائریاں ایسی بھی بے وقعت نہیں ہیں، اسی لیے سنبھالی ہوئی ہیں۔    کہنے لگے وہ جہاں دوسری کتابوں کے ساتھ رکھیں ہیں مجھے یقین ہے انہیں دیمک کھا رہی ہو گی یا کھا چکی ہو گی، وہیں پھینک دیتا تھا ان کاپیوں کو، مجھے کئی لڑکے لڑکیوں نے کہا کہ ہم جا کر وہ ڈھونڈ لاتے ہیں اس کمرے سے، لیکن میں نے کسی کو کبھی جانے ہی نہیں دیا، آپ کو بھی نہیں جانے دوں گا وہاں ۔۔۔ اور کیل دیا گیا معاملہ!

کتابوں کا معاملہ بتاتے ہیں کہ چوتھی جماعت میں تھا، ذرا بیمار ہوا تو سکول سے چھٹی کی اور گھر بیٹھا بستر میں آرام کر رہا تھا کہ بڑے بھائی نے وقت گزارنے کے لیے کوئی کتاب لا کر دے دی، بس وہ میری پہلی کتاب تھی، اس کے بعد تو ساری زندگی پڑھتا رہا۔ جو کتاب سامنے آئی پڑھ ڈالی۔

پاکستان بننے کے بعد لدھیانے سے یہاں آ گئے، وہ بھی یوں ہوا کہ جالندھر میں سکھوں کو مسلمانوں نے کاٹا پیٹا تو لدھیانہ میں سکھ لسٹیں تیار کرنے لگے کہ مسلماناں دے کیہڑے جی پھڑکانے نیں۔ ان کے دوستوں میں بہت سے ہندو اور سکھ دوست بھی تھے۔ انہوں نے سمجھا دیا کہ بھیا اب نکل جاؤ، یہ دوسروں کے ساتھ ٹرک پر بیٹھے اور ادھر آ گئے۔

ایف اے میں تھے تو پڑھائی چھوڑ دی اور آوارہ گردوں کے ٹولے سے جڑ گئے۔ کہا، چند راتیں میرے حصے میں بھی آ گئیں جب میں ان لوگوں کے گروپ میں آیا۔ میں انتظار سے دس برس چھوٹا تھا، ناصر کاظمی سے بیس برس کا فرق تھا، تو یہ لوگ مجھ سے پہلے بہت سی راتیں اور آوارہ گردی گزار چکے تھے۔ میں اس دور کے بالکل آخر میں آیا۔ میرا اور ناصر کا گھر بھی کرشن نگر میں ہوتا تھا تو واپسی پر اکثر ہم دونوں اکٹھے آتے تھے۔ رات ہم لوگ ہوٹلوں میں کاٹتے تھے، ایک ایک کر کے جب تمام ہوٹل بند ہو جاتے تو کبھی بسوں کے اڈے پر بیٹھ جاتے کبھی پیدل چل پڑتے۔ ایک تانگے والا انتظار اور ناصر کا عاشق تھا۔ کبھی کبھی وہ بھی رات کو انہیں تانگے پر گھماتا رہتا تھا۔ ناصر پھر گیارہ بارہ بجے اٹھ کر دفتر چلا جاتا تھا۔ زرعی بینک کے رسالے کا ایڈیٹر تھا، وہاں وقت کی پابندی تو ایسی کوئی تھی نہیں، تو جب دل چاہتا ہو آتا۔ اس کی بیوی بہت باہمت عورت تھیں۔ بچوں کو زیادہ تو انہوں نے ہی پالا۔ اس کے بچوں نے بہت محنت کی، اپنا مقام بنایا اور ناصر کی چیزیں بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کر چھپوائیں۔

پھر فلمیں دیکھنے کا بھی بہت شوق ہوتا تھا مجھے، ان دنوں لاہور میں تین چار سینیما ہوتے تھے۔ جب یاروں کے ساتھ نہ ہوتا تو میری ہر رات کسی نہ کسی سینیما میں گزرتی تھی۔ سب سے سستا ٹکٹ بارہ آنے والا ہوتا تھا۔ وہ لے کر بیٹھ جاتا تھا۔ اور فلم دیکھنے کے بعد پیدل واپس جاتا تھا کرشن نگر۔ اب اتنے ہی پیسے ہوتے تھے کہ یا کرایہ دے دو واپسی کا یا فلم دیکھ لو، تو میں فلم دیکھ لیتا تھا۔ اب بھی دیکھتا ہوں کبھی کبھار۔ دوستوں کے یہاں جاتا ہوں تو وہ ٹی وی پر دکھا دیتے ہیں۔ آرٹ فلمیں ہی دیکھتا ہوں۔

زاہد ڈار انٹرویو دینے اور تصویر کھنچوانے سے ایسے بھاگتے ہیں کہ جیسے کوئی بچہ پڑھائی سے بھاگتا ہو گا۔ بات کرنی ہو تو اوپن اینڈڈ سوالات ان کی جانب اچھالے جائیں اور جواب لیا جائے ورنہ جہاں ان کو شک ہوا کہ بھئی یہ تو انٹرویو نما کچھ چل رہا ہے، وہیں جواب مختصر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ یہی معاملہ تصویر کے ساتھ ہے۔ پہلے تو بنوائیں گے نہیں اور اگر بنوائیں گے تو سائیڈ پوز دیں گے۔ سائیڈ پوز میں وہ اچھے لگتے ہیں خود کو، دوسروں کو تو خیر سامنے سے بھی اتنے ہی موہنے دکھتے ہیں۔ آج تک خواتین باقاعدہ ملتی ہیں اور گھنٹوں بیٹھی رہتی ہیں، سوچنے کی بات ہے کیسے اتنے اچھے لگتے ہیں؟

شاکر علی کچھ بات کرتے تھے یا ایسے ہی چپ بیٹھے رہتے تھے؟ ہنسنے لگے، بولے، وہ تو کبھی بھی بات نہیں کرتا تھا۔ بالکل ہی چپ رہتا تھا۔ دوستوں میں بیٹھتا تو بس سننے کے لیے، بات کرتے اسے کم ہی دیکھا ہو گا۔ پہلے تو کچھ نہ کچھ تصویروں میں بنا ہی دیتا تھا، آخری دور میں تو بس لمبا سا کینوس ہوتا تھا، بالکل خالی، اوپر کہیں ایک دو کبوتر نظر آ جاتے تھے، میں بہت ہنستا تھا۔ وہ بمبئی سے کراچی اور وہاں سے لاہور آیا تھا۔ شاید این سی اے کا پرنسپل بننے پر آیا تھا۔ بہت اچھا وقت گزرا اس کے ساتھ۔ وہ بہت اداس رہتا تھا۔ اس کی بیوی اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی، جب ہم اکیلے ہوتے تھے تو وہ بہت روتا تھا، وہ مجھ سے پوچھتا تھا، یار تم کیسے گزارا کرتے ہو، تمہاری زندگی میں تو کوئی عورت ہی نہیں، میں تو ساٹھ سے اوپر کا ہو گیا، آج بھی نہیں رہ سکتا۔ میں کہتا تھا بھئی میرا گزارہ تو ہو جاتا ہے۔ جب اس کا مکان بن رہا تھا تو نیر علی دادا میں اور وہ ہم لوگ دوپہر کو وہاں پہنچ جاتے تھے۔ اسے بہت شوق تھا کہ آرٹ کا نمونہ ہو وہ گھر، اس زمانے میں کہ ابھی وہ بن رہا تھا تو لوگ کہاں کہاں سے اسے دیکھنے آتے تھے۔ لوگ حیران ہوتے تھے کہ جو اینٹ جلی ہوتی ہے، جسے ہم ضائع کر دیتے ہیں، اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ اکٹھا کرتا ہے اور ان اینٹوں سے مکان بنا رہا ہے۔ پھر وہ مکان بن گیا۔

وہ بہت ڈپریشن میں رہتا تھا۔ عبدالرحمن چغتائی کے مرنے پر ایک تعزیتی جلسہ ہوا تو شاکر کو اس کی صدارت کرنی تھی اور کچھ بولنا بھی تھا۔ میں کشور اور یوسف گئے وہ اپنے نئے گھر کے واحد کمرے میں بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ شدید اداس تھا۔ کہنے لگا مجھے نہیں جانا، چغتائی مر گیا ہے ایسے ہی میں بھی مر جاؤں گا بس، وہاں جا کر کیا کہوں گا میں ۔۔۔ ہم لوگوں نے زبردستی اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور وہاں لے جا کر بٹھا دیا۔ وہ کچھ تقریر کر کے آ گیا۔ اگلے ہفتے ہم دونوں کہیں بیٹھے تھے تو اس نے یوسف کامران سے کہا کہ یار مجھے گھر لے جاؤ اپنے، کشور سے کہو کچھ اچھا کھانے کو بنائے۔ یوسف فون کرنے گیا، ہم دونوں حسب معمول چپ بیٹھے تھے کہ اچانک میں دیکھا اس کا سر آہستہ سے گر رہا ہے اور یہاں تک آ گیا، صوفے تک، وہ بے ہوش تھا اور گیلا سا لگ رہا تھا۔ میں نے شور مچا دیا کہ اسے ہسپتال لے کر جاؤ۔ ہم لوگ اسے یو سی ایچ میں لے گئے۔

وہ اگر وہیں رہتا تو شاید بچ جاتا۔ رامے ان دنوں وزیر تھا۔ اس نے اپنے پیار میں اسے وہاں سے میو ہسپتال منتقل کروا دیا۔ اب وہاں میرا کوئی جاننے والا ڈاکٹر ہی نہیں تھا۔ میں اگلے دن صبح گیا تو اس نے ہلکے سے ہاتھ کو جنبش دی۔ ڈاکٹر بہت حیران ہوا، کہنے لگا آپ کون ہیں بھئی، یہ تو اب تک کسی کو دیکھ کر کوئی بھی رسپانس نہیں دے رہے، آپ کو دیکھ کر ہاتھ ملانا چاہ رہے ہیں، میں نے کہا بس ایسا ہی ہے۔ دوست ہوں۔

وہ ایک ڈیڑھ ہفتے رہا ہسپتال میں۔ بات چیت یا ہلنا جلنا تو ہوتا نہیں تھا۔ خاموش پڑا رہتا تھا۔ ویسے ہی مر گیا۔ یوسف کامران بھی سعودی عرب گیا کسی امریکی کمپنی میں، جو تیل نکالتی تھی، اس کی بھی لاش آئی وہاں سے، وہ بھی مر گیا۔

شاکر تو لوگوں کو مفت بنا بنا کر بھی تصویریں بہت دے دیتا تھا۔ دوستوں کے گھروں میں اس کی بہت سی تصویریں تھیں۔ ایک دن میں نے کہا یار تم جو میرے اتنے اچھے دوست ہو، مجھے کچھ بنا کر کیوں نہیں دیتے۔ کہنے لگا تم کیا اپنے گلے میں لٹکاؤ گے۔ میں بہت ہنسا، ٹھیک ہی تو کہتا تھا، پہلے گھر بناؤں تو اس میں تصویریں بھی ٹانگوں۔

ایک دور تھا جب میں اپنے بارے میں بہت زیادہ لاپرواہ ہو گیا تھا۔ مصروفیات شام سے شروع ہوتیں، رات پڑتی تو کہیں بھی سو جاتا، ہو سکتا ہے ان دنوں میں مر جاتا۔ ویسے میں بھی تبھی مر جاتا تو اچھا ہوتا۔ مجھے ایک عورت نے باہر نکالا تھا ان حالات سے ۔۔۔

ڈار صاحب وہی عورت جو آپ کی کتاب تنہائی میں ہے؟ یار عورت تو ایک ہی ہوتی ہے۔ ہر جگہ ایک ہی عورت ہے، وہ بھی ایک ہی تھی۔ تو وہ عورت چوں کہ مجھے زندگی کی طرف لائی تو میں زیادہ دلچسپی لینے لگا، ورنہ میں مر کھپ جاتا کب کا۔

ڈار صاحب کشور آپا کی باتیں ابھی شاکر صاحب کے قصے میں ہوئیں، وہ اس دور میں بھی ایسے ہی ذرا سخت مزاج ہوتی تھیں؟ بے ساختہ ہنسنے لگے، نہیں یہ کیا بات کہہ دی، کبھی ملے بھی ہیں آپ ان سے؟ عرض کیا، جی جی دو تین بار مختلف کانفرنسوں میں دیکھا، جا کے سلام کیا اور کچھ دیر بات کی۔ پوچھنے لگے، تو پھر کیا دیکھا آپ نے؟ ڈار صاحب بس وہ ذرا ایڈمینیسٹریٹر لگتی ہیں رعب داب والی، کسی کے بولنے کا وقت ختم ہوا تو اسے اسٹیج کے سامنے سے ہی ٹوک دیا، یا کبھی پینل میں بیٹھے بیٹھے ہی کسی کو سیدھا کر دیا، دو ٹوک بات، لگی لپٹی رکھے بغیر کر دی، بس یہ دیکھا۔ تھوڑا ہنسے، کہا ہاں، وہ جب اس زمانے میں جاب کرتی تھیں تو ان کے آنے سے پہلے دفتر کے چپڑاسی، مالی سب لوگ بالکل سیدھے تیر اپنی اپنی جگہ پر موجود ہوتے تھے، وہ آ کر اندر چلی جاتیں تو ان سب کی جان میں جان آتی تھی۔

امانت علی سے تو ملاقات رہتی تھی نا آپ کی؟ ہاں وہ تو بہت خوب صورت آدمی تھا، بس وہ ناراض بہت جلدی ہو جاتا تھا۔ ایک دو شوق اس کے میرے ملتے تھے تو ہم بھی مل لیتے تھے۔ ایک بار پھر وہ کسی بات پر ناراض ہو گیا تو میں نے منایا اسے۔ وہ جب پیسوں کی ضرورت میں ہوتا تو ریڈیو پر جا کر غزلیں گا آتا تھا، ایک سے ایک کمال غزل گائی اس نے وہاں، پھر وہ بھی بیمار ہو گیا۔ اسے لڑکیوں سے بھی دل لگی رہتی تھی۔ ریڈیو پر جونیر آرٹسٹ اس کو بے وقوف بناتی تھیں وہ خوشی خوشی بنتا رہتا تھا۔ بیمار ہونے کے بعد ایک دن ریڈیو سٹیشن کے باہر ملا، بالکل پیلا رنگ، وہ سرخیاں سب غائب تھیں، میں نے پوچھا یار یہ کیا ہوا، کب ہوا، کہنے لگا بس ہو گیا، اب جانے دو۔ پھر وہ مر گیا۔

صادقین کے ذکر پر ایکدم ہنسے، سنانے لگے، یار وہ ہنس مکھ آدمی تھا، بولتا بھی تھا، یاروں سے گپ بھی لگاتا تھا، کوئی سامنے سے گزر بھی جاتا تو اسے رباعی سوجھ جاتی تھی، پتہ نہیں روز کتنی رباعیاں کہتا تھا، وہ جب لاہور آیا ادھر میوزیم کی چھت پر میورل بنانے، تو وہاں ان دنوں میں فرش پر یا بوتلیں ہوتی تھیں یا پینٹ کے ڈبے ہوتے تھے۔ کھاتا کچھ بھی نہیں تھا بس پیتا جاتا اور کام کرتا رہتا، بہت کام کرتا تھا اور باتیں بھی اسی طرح بہت کرتا۔ اس سے کم عرصے رہی، ہمارا ایک مشترکہ دوست ہوتا تھا، جب وہ آ جاتا تو ہم سب اکٹھے بیٹھ جاتے، وہ بھی اب تو مر ہی گیا ہو گا۔

 انتظار حسین، انور جلال شمزہ، اے حمید، صادقین، شاکر علی، چغتائی، ناصر کاظمی، یوسف کامران، کشور ناہید، مصطفی زیدی، مسعود اشعر، اکرام اللہ، شاہد حمید، م ح لطیفی، انیس ناگی، نفیس خلیلی اور نہ جانے کس کس کا ذکر ہوا۔ ان سب کے سنگھی ساتھی زاہد ڈار اب ریڈنگز آتے ہیں تو نئے دوستوں میں بیٹھے ملتے ہیں۔ دلاور، ثمریز، عمیر غنی، رمشا، صابر، حسنین یا اور بہت سے دوسروں میں سے کوئی بھی ہوتا ہے تو وہ ان سے بات کر لیتے ہیں، چائے پیتے رہتے ہیں، کوئی کتاب پڑھتے ہیں یا سگریٹ ہی پی لیتے ہیں۔ ہاں محمود الحسن، اکرام اللہ اور شاہد صاحب اب بھی کبھی شام میں یہاں آتے ہیں تو ڈار صاحب کی محفل سج جاتی ہے۔

پڑھنا پہلے ہی کم کر دیا تھا، اب بہت دقت ہوتی ہے پڑھنے میں، تو کوشش کرتے ہیں کہ پڑھنا کم ہو۔ انتظار صاحب کے بعد زاہد ڈار بس اب ڈار سے بچھڑی کونج ہیں، عمر میں کم تھے تو خمیازہ بھگتتے ہیں۔ حلیہ آج بھی وہی ہے جیسے انتظار صاحب نے لکھا تھا، “اور یہ جو عین وسط کی میز پر ایک شخص اٹنگا سا پائجامہ اور قمیص پہنے اکیلا بیٹھا ہے اور آنکھوں سے کتاب لگا رکھی ہے۔ وہ بھلا زاہد ڈار کے سوا کون ہو سکتا ہے۔ سخت اکل کھرا۔ گنے چنے دوستوں کے سوا کوئی مخلوق میز پر آن بیٹھے تو اسے فورا اٹھا دیتا ہے، وہ نہ اٹھے تو خود اٹھ جاتا ہے، باہر جا کر فٹ پاتھ پر کھڑا ہو جاتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ کب وہ میز سے ٹلے اور وہ واپس جا کر اپنی نشست سنبھالے۔”

اب والے زاہد ڈار میں کچھ فرق ہو گیا ہے۔ بس اب زاہد ڈار بیٹھا رہتا ہے۔ جو بھی آتا ہے زاہد ڈار دیکھتا رہتا ہے۔ کوئی بات کرے تو جواب دیتا ہے ورنہ چائے پیتا ہے اور خاموش بیٹھا رہتا ہے۔ فٹ پاتھ تک اس وقت جاتا ہے جب سگریٹ پینی ہو۔ زاہد ڈار اب بوڑھا ہو چکا ہے!

پس نوشت: یہ قصہ صرف یاداشت کے سہارے مرتب ہوا ہے۔ دو چار مرتبہ کی بیٹھکوں کا احوال ہے۔ کوئی بھی زمانی یا مکانی غلطی در آئے، قوی امکان ہے۔ ایسا کچھ بھی ہونے کی صورت میں فقیر معذرت خواہ ہے۔ ایک توضیح یہ کہ محترم زاہد ڈار کی سیاہ و سفید فیچر تصویر عزیز محترم عمیر غنی کے ذوق عکاسی کا نمونہ ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 166 posts and counting.See all posts by husnain

5 thoughts on “کتابوں اور یادوں میں گھرا ایک بوڑھا آدمی

  • 03-01-2017 at 10:58 pm
    Permalink

    Thanks for sharing these memories. Zahid Dar’s poems will be discovered and appreciated by many generations.

    Reply
    • 06-01-2017 at 8:26 pm
      Permalink

      Certainly! and thank you so much for appreciation sir.

      Reply
  • 05-01-2017 at 3:51 am
    Permalink

    “ایک معمولی آدمی”

    سچ پوچھو تو دھرتی مجھ کو بھاتی ہے۔
    انسانوں کی باتوں سے تو لالچ کی بو آتی ہے۔
    سچ پوچھو تو میں کوئی انسان نہیں،
    دنیا کی تہذیب و ترقی پر میرا ایمان نہیں۔
    غفلت ہو،
    یا اس جیون کو موت کہو،
    موت بھلی۔
    ایسی بستی کی گلی گلی
    چاند ستاروں سے بہتر ہے،
    سچ پوچھو تو طوفانوں میں چکّر کھاتی ناوٴ مجھکو غیرآباد کناروں سے بہتر ہے۔
    (جون ۱۹۵۹)

    (زاہد ڈار، درد کا شہر۔)

    Reply
  • 11-01-2017 at 4:52 am
    Permalink

    محترم حسنین جمال، سب سے پہلے زاہد ڈار سے یہ قلمی ملاقات کرانے کا شکریہ ۔ زاہد ڈار سے وابستہ میری سب کھٹی مٹھی یادیں تازہ ہو گئیں ۔ اورخاص کر مجھے سنہ نومبر انیس سو اکیاسی اور پھر دسمبر سنہ انیس سو ترانوے کی وہ شامیں یاد آگئیں جو میں نے اُن کے ساتھ پاک ٹی ہاؤس کے اسی میز پر گزاری تھیں جس کا ذکر انتظار حیسن صاحب نے بھی اپنی تحریر میں کیا ہے ۔ پہلی ملاقات میں زاہد ڈار نے مجھے اپنی نظموں کی کتاب ’’آنکھ میں سمدر ‘‘ عطا کی جو وہ میرے لیے نجانے کہاں سے لائے تھے کیونکہ یہ کتاب ، دہلی سے شائع ہوئی تھی اور لاہور میں نایاب تھی ۔ پھر دوسری بار انہوں نے مجھے اپنی کتاب ’’ تنہائی ‘‘ عطا کی لیکن مجھے دیتے دیتے رک گئے اور پوچھا تمھارے پاس قلم ہے ۔ میں نے اپنا قلم دیا تو اس پرصرف اپنا لکھا، ’’ نصر ملک کے لئے، زاہد ڈار ۱۹۹۳، اور بس! پھر کتاب کھول کر اس میں سے اپنی ایک طویل نظم ’’ لفظوں کا سلسلہ ‘‘ دکھاتے ہوئے کہنے لگے اس میں چند سطریں شائع ہونے سے رہ گئی ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور پھر انہوں نے کتاب کے صفحہ نمبر ۱۲۳ پر نطم کی ایک سطر ۔۔۔۔۔۔۔ ’’اس کا خدا جدا ، میرا خدا جدا ہے ‘‘ کے آگے اپنی ہاتھ تین سطریں لکھ دیں ، ‘‘ میرے لیے رو یارو // لڑکی کا خوبصورت // ننگا بدن خدا ہے ‘‘ اور یہ کہہ کر مجھے کتاب تھما دی کہ اب نظم مکمل ہوئی ہے، پڑھنا ضرور! میں نے ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تین سطروں کا ذرا اونچی آواز میں پڑھا اور کہا کہ ’’ یہ نظم ہی نہیں کائینات کی تکمیل بھی ہےُُ، کچھ نہ بولے لیکن چہرے پر وہ روایتی مسکراہٹ شوخ ہو گئی اور عینک کے شیشوں کے پیچھے آنکھوں کی چمک تیز ہو گی ۔ حسنین جمال تمھاری تحریر پڑھ کر میری آنکھیں نمناک ہو گئیں ہیں، زاہد ڈار کو پاس رکھنا میں اُن سے پھر ملاقات کے لیے آنے والا ہوں !

    Reply
  • 11-01-2017 at 4:57 am
    Permalink

    محترم حسنین جمال، سب سے پہلے زاہد ڈار سے یہ قلمی ملاقات کرانے کا شکریہ ۔ زاہد ڈار سے وابستہ میری سب کھٹی مٹھی یادیں تازہ ہو گئیں ۔ اورخاص کر مجھے سنہ نومبر انیس سو اکیاسی اور پھر دسمبر سنہ انیس سو ترانوے کی وہ شامیں یاد آگئیں جو میں نے اُن کے ساتھ پاک ٹی ہاؤس کے اسی میز پر گزاری تھیں جس کا ذکر انتظار حیسن صاحب نے بھی اپنی تحریر میں کیا ہے ۔ پہلی ملاقات میں زاہد ڈار نے مجھے اپنی نظموں کی کتاب ’’آنکھ میں سمندر‘‘ عطا کی جو وہ میرے لیے نجانے کہاں سے لائے تھے کیونکہ یہ کتاب ، دہلی سے شائع ہوئی تھی اور لاہور میں نایاب تھی ۔ پھر دوسری بار انہوں نے مجھے اپنی کتاب ’’ تنہائی ‘‘ عطا کی لیکن مجھے دیتے دیتے رک گئے اور پوچھا تمھارے پاس قلم ہے ۔ میں نے اپنا قلم دیا تو اس پرصرف اپنا لکھا، ’’ نصر ملک کے لئے، زاہد ڈار ۱۹۹۳‘‘ ، اور بس! پھراچانک کتاب کھول کر اس میں سے اپنی ایک طویل نظم ’’ لفظوں کا سلسلہ ‘‘ دکھاتے ہوئے کہنے لگے اس میں چند سطریں شائع ہونے سے رہ گئی ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور پھر انہوں نے کتاب کے صفحہ نمبر ۱۲۳ پر نطم کی ایک سطر ۔۔۔۔۔۔۔ ’’اس کا خدا جداہے ، میرا خدا جدا ہے ‘‘ کے آگے اپنے ہاتھ سے تین سطریں لکھ دیں ، ‘‘ میرے لیے تو یارو // لڑکی کا خوبصورت // ننگا بدن خدا ہے ‘‘ اور یہ کہہ کر مجھے کتاب تھما دی کہ اب نظم مکمل ہوئی ہے، پڑھنا ضرور! میں نے ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تین سطروں کو ذرا اونچی آواز میں پڑھا اور کہا کہ ’’ یہ نظم ہی نہیں کائینات کی تکمیل بھی ہے‘‘، کچھ نہ بولے لیکن چہرے پر وہ مسکراہٹ شوخ ہو گئی اور عینک کے شیشوں کے پیچھے آنکھوں کی چمک تیز ہو گی ۔ حسنین جمال تمھاری تحریر پڑھ کر میری آنکھیں نمناک ہو گئیں ہیں، زاہد ڈار کو پاس رکھنا میں اُن سے پھر ملاقات کے لیے آنے والا ہوں !

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *