پیاسے کوے اور عقل مند حکمران


zefferایک تھا کوا…. نہیں بہت سے کوے تھے۔ تو کہانی یوں شروع کرتے ہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ وہاں بہت سے کوے تھے۔ سب کوے۔ کوے ہی کوے…. کاں کاں کاں، ان کا نغمہ تھا۔ اپنے بے سرے پن سے ناواقف کوے۔ بس کاں کاں کیے جاتے، اور سمجھتے تھے کہ ان کے گیت، دنیا میں سب سے اچھے ہیں۔ سب سے سریلے ہیں….

پیارے بچو۔ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں، وہ سب کوے تھے، تو اس بات کا تذکرہ کیا، کہ وہ دلیل جیسی بیماری کا شکار ہوں؟ جِسے کاں کاں کرنا آتا ہو، اسے دلیل سے کیا مطلب؟ دلیل تو کم زور اور بودے پن کی علامت ہے۔ یہ کم زور نہ تھے، کیوں کہ ان کا تعلق، پرندوں کی اس نسل سے تھا، جو پرندوں کے بادشاہ کہلاتے ہیں۔

جی ہاں! کم از کم یہ کوے اپنے تئیں، یہی سمجھتے تھے۔ آپ حیران نہ ہوں، کوے جو ہوئے۔ پھر ان کی روحانی تسکین کے لیے بادشاہ کوے اور اس کے وزیروں نے، جھوٹے قِصے گھڑ دئیے تاکہ یہ اپنے اعلا نسل کے ثبوت کے طور پر، کچھ ہیروز کا نام لے سکیں۔ یوں ہیروز زیرو ہوے اور زیروز ہیرو بن گئے۔ قِصے کہانیاں گھڑنے سے سچائیاں نہیں بدل جاتیں، اور کہانیوں سے پیٹ نہیں بھرا جاسکتا۔

ماضی کے نشے میں چور کووں کی نگری میں وہ دن آہی گیا، کہ ان کے یہاں پیاس بڑھ گئی، یا بتایا جاتا ہے، کہ پانی کی کمی ہوگئی۔ سب کے سب کوے پیاسے۔ پیاسے بھی ایسے، کہ ایک قطرہ پانی کے لیے، دوسرے کووں کی، بوٹیاں نوچنے کو تیار، آخری حد کو چھوتے ہوے، پیاسے کوے…. زورآور تو کام یاب تھے مگر ان میں سے کم زوروں نے دوسروں پر الزام تراشی کا ہنر سیکھا۔ کووں کے فِرقے پہلے ہی سے تھے، اب ان کا تضاد ابھر کر سامنے آیا۔ بات اتنی بڑھی کہ کچھ کووں نے دوسرے کووں کو مرتد قرار دے دیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا، کہ جن کووں تک، پانی نہیں پہنچ رہا تھا، انھیں چند قطرے ملنے لگے۔

لیجیے۔ اب یہ آسان نسخہ ہاتھ آگیا۔ جِسے چاہو، کافر قرار دے دو، جہاں جی چاہے پینترا بدل لو۔ اِس جہالت سے فائدہ بادشاہ ہی کو ہوسکتا تھا۔ بادشاہ نے ایسے کووں کی خدمات لیں جن کا اثرورسوخ تھا۔ انھیں ان کے حِصے کا پانی دیا تاکہ عام کووں کے جذبات سے کھیلا جاسکے۔ یوں الزام حکمران کووں سے ہوتے ہوے رعایا کووں تک آپہنچے۔ حتیٰ کہ پڑوسی کوے نے، ہمسائے کوے پر، الزام تراشی شروع کردی، کیوں کہ اس میں، اس کی ذاتی رنجش کو دخل تھا۔ صفائی پیش کرنے والا جھوٹا، اور الزام لگانے والا سچا تھا۔ جس نے پہل کی، وہی کام یاب۔ حکمران کووں نے رعایا کووں کو الجھانے کا فن سیکھ لیا تھا۔ یوں بادشاہ کووں نے اپنی عقل مندی سے، کم پانی کو زیادہ کرلیا۔ لہٰذا وہ چالاکی سے اپنا کاروبار چلانے لگے۔

یہ کوے جتنا عرصہ زندہ رہے۔ کاں کاں کرتے رہے، لیکن بادشاہ کے ساونڈ پروف پیلس میں ایک آواز نہ پہنچی۔ پہنچتی بھی تو اسے معلوم تھا، یہ صرف کاں کاں، کرنے والے عوام ہیں۔ وہ بادشاہ ہی کیا جو کاں کاں سے گھبراجائے؟

نتیجہ: نتیجہ ابھی تک نہیں معلوم ہوسکا۔ آپ اپنی سمجھ کے مطابق، خود اخذ کرلیجیے۔ ہوسکتا ہے یہ صرف کاں کاں ہی ہو۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran