فاٹا میں آئینی اصلاحات اور گو ایف سی آر گو


\"\"اس میں ذرا بھی مبالغہ نہیں کہ پاکستان کے قبائیلی علاقے فاٹا کے 27000 ہزار مربع کلومیٹر زمین پر بسنے والوں لاکھوں انسانوں کو دوسرے پاکستانیوں کی طرح بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ وہاں پر اب تک نہ تو کوئی یونیورسٹی بنائی گئی ہے اور نہ ہی پشاور، اسلام آباد یا کراچی کی طرز پر بڑے بڑے کاروباری مراکز قائم ہیں۔ فاٹا میں پاکستان کے ترقی یافتہ شہروں لاہور اور سیالکوٹ کی طرح جدید بینکاری کا کوئی نظام ہے اور نہ ہی کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل کے لوگوں کی طرح وہاں کے باسیوں کو موجودہ دور کی جدید ٹیکنالوجی تک کوئی رسائی ہے۔ فاٹا جس کو اکثر پاکستانی علاقہ غیر بھی کہتے ہیں میں پاکستان کے زیر انتطام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی طرز پر بلدیاتی یا صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق بھی ابھی تک نہیں دیا گیا ہے بلکہ وہاں پر ابھی تک برطانوی تسلط کے دور سے نافذ کالا قانون ایف سی آر رائج ہے، جس کے تحت سارے فیصلے ایک سرکاری افیسر پولیٹیکل ایجنٹ ہی کرتا ہے۔ اس خطہ زمین کے عوام پولیٹیکل ایجنٹ کو بے تاج بادشاہ کے نام سے پکارتے ہیں کیونکہ ستر سال قبل برطانوی راج کے حکمران وائسرائے کی طرح اس بے تاج بادشاہ کا کوئی حکم ٹالنا قانون سے بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ گویا فاٹا بمثل ایک قیدخانہ ہے جہاں ایک مطلق العنان حاکم کے حکم کے بغیر کوئی سانس بھی نہیں لیتا۔ اب جب کہ فاٹا کی نئی نسل، سیاسی رہنما، طلبا اور دیگر پیشہ ور کالے قانون کے اس سڑے ہوئے قیدخانے سے نکلنا چاہتے ہیں تو حیران کن طور پر کچھ دولت مند اور اقتدار سے ہمیشہ کے لئے جڑے رہنے والے پشتون رہنما اس تبدیلی کو ماننے کے لئے تیار نظر نہیں آتے اور سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ پاکستان کے کسی ایک ادارے، کسی حکومت، سیاسی و عسکری رہنماؤں اور کسی مورخ یا دانشور کے پاس دینے کو یہ جواب نہیں کہ فاٹا میں موجود پشتونوں کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں روا رکھا گیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ فاٹا میں کوئی بھی سیاسی یا آئینی تبدیلی لانے سے پہلے وہاں کے عوام کی رائے لی جائے۔ میرے ساتھ ایک انٹرویو میں مولانا کا کہنا تھا کہ وہ فاٹا میں آئینی اصلاحات کے مخالف ہیں نہ ہی وہ کسی صوبے میں انضمام کے خلاف، لیکن چاہتے ہیں کہ جو بھی فیصلہ ہو اس سے پہلے وہاں کےلوگوں سے ان کی رائے پوچھی جائے۔ مگر مولانا کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ فاٹا کے بارے میں کوئی فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ پارلیمان سے تصادم اختیار کرنا نہیں چاہیں گے۔ وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ وہ فاٹا میں آئینی اصلاحات کے مخالف ہیں۔

وزیراعظم نوازشریف کے خارجہ امور کے مشیر اور امور فاٹا کے ماہر سرتاج عزیز نے فاٹا میں آئینی اصلاحات کے بارے ایک رپورٹ تیار کی ہے جو حکومت کو پیش کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف سی آر قانون کو فوری طور پر ختم کیا جائے، وہاں پر عدالتی نظام قائم کیا جائے اور تعمیر نو، بحالی اور ترقی کے ایک جامعہ پانچ سالہ منصوبہ بندی کے بعد فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے۔

مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران قبائلی عوام، طلبا، وکلاء، ملکان اور وہاں کے منتخب ممبران سے فاٹا ہی میں ملاقاتوں، مباحثوں اور مکالموں کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔ سرتاج عزیز نے میرے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ فاٹا میں وہ جہاں بھی پہنچتے لوگ ان کا استقبال گو ایف سی آر گو کے فلک شگاف نعروں سے کرتے۔ سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ وہاں پر بسنے والے لوگ پاکستان کے دیگر شہریوں کی طرح کے آئینی اور انسانی حقوق کے حق دار ہیں۔ ان کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ پاکستانی ریاست کا دستور و آئین فاٹا میں بھی نافذ کیا جائے اور اگر اس طرح نہ کیا گیا تو اب تلک دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو کوششیں کی گئی ہیں وہ رائیگاں چلی جائیں گی۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے قوم پرست رہنماؤں کا فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے موقف بھی مذہبی رہنما مولانا فضل الرحمٰن صاحب ہی کی طرح ہے جو کہتے ہیں کہ کسی بھی آئینی تبدیلی سے پہلے عوام سے ضرور پوچھا جائے کہ وہ اصل میں کیا چاہتے ہیں۔ وا‎ئس آف امریکہ کی پشتو شاخ ڈیوہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں پارٹی سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ تبدیلی کا اختیار عوام کی بجائے کچھ لوگوں کے پاس نہیں ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کی رائے پورے قبائلی عوام کی رائے نہیں ہوسکتی بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر ایجنسی سے 200 لوگوں کو بلایا جائے اور اگر یہ ممکن نہیں تو پھر وہاں پر استصواب رائے سے فیصلہ کیا جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ریفرنڈم یا استصواب رائے میں فاٹا کے عوام سے کیا پوچھا جانا چاہیئے تو اچکزئی صاحب کا کہنا تھا کہ 1: کیا قبائلی عوام الگ صوبہ چاہتے ہیں؟ 2: یا وہ دوسرے کسی صوبے میں انضمام چاہتے ہیں ؟

مشیرخارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ وہاں کے لوگوں کا سب سے بڑا اور اہم مطالبہ اس وقت یہی ہے کہ ان کو پاکستان کے دوسرے شہریوں کی طرح کے حقوق دئیے جائیں، کسی صوبے میں انضمام کا منصوبہ پانچ سال کی مدت میں پورا ہوسکے گا۔

فاٹا کے مستقبل اور ان دو جماعتوں کے فاٹا کے انضمام کی مخالفت کے بارے میں باجوڑ ایجنسی سے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)کے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان کا کہنا ہے کہ محمودخان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمٰن ذاتی مفادات کے لئے لاکھوں پشتونوں کی تقدیر سے کھیل رہے ہیں اور وہاں پر آئینی تبدیلی کو روکنے کے لئے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ شہاب الدین خان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کا خود آئینی تبدیلی کے بارے میں موقف بے ربط رہا ہے، وہ کبھی کہتے ہیں کہ ریفرنڈم کرایا جائے تو کبھی کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے کنونشن میں فیصلہ کیا جائیں۔ شہاب الدین خان نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب پارلیمینٹ اور سینٹ میں سرتاج عزیز کی تجاویز پر بحث کی جا رہی تھی تو اس وقت مولانا خاموش بیٹھے رہے۔ شہاب الدین خان نے محمود خان اچکزئی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ تو کبھی کسی آئی ڈی پی سے ملے ہیں اور نہ ہی کبھی فاٹا میں کسی کے جنازے میں شرکت کے لئے گئے، یہاں تک کہ فاٹا کے کسی ایک مکان پر ان کی پارٹی کا پرچم تک نہیں۔ انہوں نے کہا اچکزئی صاحب کو وہاں پر بسنے والے لوگوں کی مشکلات کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں۔۔ اچکزئی بھی مولانا کی طرح باتیں کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ان کو اپنا صوبہ دیا جائے تو کبھی کہتے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن سے لے کر اباسین تک ایک عظیم پشتون صوبہ بنایا جائے۔

 فاٹا کے طلبا تنظیم فاٹا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صدر شوکت عزیز نے ایک انٹرویو میں مجھے بتایا کہ کو گزشتہ دنوں ان کو ایک تقریب ميں گو ایف سی آر کے نعرے لگانے کے بعد گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا تھا۔ شوکت عزیز پوچھتے ہیں کہ جو آئینی اور قانونی حقوق گلگت بلتستان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے بچوں کو دئیے گئے ہیں کیا ویسے ہی حقوق فاٹا کے بچوں کو نہیں ملنے چاہئے؟ طلبا تنظیم کے صدر نے اعادہ کیا کہ وہ فاٹا میں آئینی اصلاحات کی راہ میں کھڑے مفاد پرستوں کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے اور اپنے حقوق لے کر رہیں گے۔

اس وقت پارلیمنٹ کے ایوان بالا وزیریں دونوں میں سرتاج عزیز کی رپورٹ و تجاویز پر بحث مکمل ہوچکی ہے اور مسلم لیگ ن کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر بڑے اور چھوٹے سیاسی پارٹیوں نے آئینی اصلاحات و تجاویز کو منظور کرلیا ہے۔

پاکستان میں آئنیی ترامیم اور حقوق مانگنے کی تاریخ کے روشنی میں یہ کہنا بے حد مشکل ہے کہ فاٹا میں آئینی اصلاحات کب اور کیسے مکمل ہوں گے مگر نابغہ روزگار شاعر خوشحال خان خٹک نے چار سو سال قبل جو دعا مانگی تھی خدا کرے کہ وہ اکیسوی صدی عیسوي میں پوری ہو۔

جو میرے خاندان اور عوام پر ڈھائے گئے ہیں

نہ ہو کبھی ایسے ظلم کسی ہندو ومسلمان پر

ـــــــــــــــــــــــــ

رحمان بونیری ایک جرنلسٹ ہیں اور وائس آف امریکہ ڈیوہ ریڈیو کے لئے واشنگٹن میں بلاگ لکھتے ہیں۔ ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ @rahmanbunairee ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

رحمان بونیری کی دیگر تحریریں
رحمان بونیری کی دیگر تحریریں