سیاست بذات خود عقیدہ ہے


\"\"بھارتی سپریم کورٹ نے بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں کو مذہب،برادری اور ذات پات کے نام پر ووٹ مانگنے سے روک دیا ہے۔ جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کے مطابق بھارت چونکہ سیکولر ملک ہے تو اس کے انتخابی نظام کو بھی سیکولر رہنا چاہیے۔ اس فیصلے کے نظریاتی طور پر ٹھیک یا غلط ہونے کی بحث کو ایک لمحے کے لیے اگر چھوڑ دیا جائے اور صرف اس بات پر غور کیا جائے کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے تو بھارتی معاشرے اور سیاست کو سمجھنے والے افراد میں سے ان افراد کو ڈھونڈنا خاصا مشکل ہو گا جو اس بات پر متفق نہ ہوں کہ اس سے بھارتی الیکشن کا پورا نظام ہی بدل جائے گا اور الیکشن میں ہونے والی قتل و غارت بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ بھارتی الیکشنز میں تمام فوکس ہی برادری اور مذہب کو استعمال کرنے پر ہوتا ہے اور برادری اور مذہب کی حریت قتل و غارت کی بنیادی وجہ ہوتی ہے۔ اس بات سے بھی بہت کم لوگ اختلاف کریں گے کہ بھارت میں اس قانون کا بھی وہی حال ہو گا جو پاکستان میں انتخابی اخراجات کی حد بیس لاکھ مقرر کرنے کا ہوا ہے۔
نظریاتی طور پر اس فیصلے سے بہت سے سولات جنم لیتے ہیں جیسے کہ مذہب اور سیاست کو الگ کرنا کیسے ممکن ہے؟ اسلام کے سیاسی نظام میں مذہب کی جگہ کہاں ہے؟ اور سب سے بڑھ کرسیکولرازم کی تعریف کیا ہے؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے یہ بحث تو نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے مگر منطق کی بنیاد پر ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
تمام جمہوری ممالک میں ووٹر کی عام طور پر دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ ووٹر جو ہمیشہ ایک ہی پارٹی کو ووٹ دیتا ہے۔اس قسم کا ووٹر عام طور پر یا تو مذہب اوربرادری کی بنیاد پر ووٹ دے رہا ہوتا ہے یا پھر کسی سیاسی لیڈر سے اس کا جوانی کا عشق اسے تاحیات اس پارٹی کا اسیر بنا کراسے اپنے لیڈر سے آگے کچھ سوچنے کی مہلت ہی نہیں دیتا۔ دوسرا وہ ووٹر ہے جو اپنی رائے بدلتا رہتا ہے اور اس کے لیے ’سوئنگ ووٹر‘ کی ٹرم استعمال ہوتی ہے۔ اس میں سے کچھ لوگ اپنی رائے حکمرانوں سے مایوس ہو کر بدلتے ہیں اور کچھ لوگ ذہنی طور پر نظریات تبدیل کر چکے ہوتے ہیں اگرچہ ایشیائی ممالک میں اس قسم کے ووٹر کی تعداد کافی کم ہے۔
ان دونوں اقسام کے ووٹرز میں ایک بنیادی مماثلت ہے اور اسے سمجھے بغیر ہم اس نقطے پر کبھی پہنچ ہی نہیں سکتے کہ مذہب اور سیاست کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ ان تمام ووٹرز میں بنیادی مماثلت یہ ہے کہ وہ یہ سوچتے ہیں کہ مجھے کس پارٹی اور کس شخص کو ووٹ دے کر فائدہ ہو گا۔ایک مذہبی سوچ رکھنے والا شخص مذہبی سوچ کے شخص کو ووٹ دیتا ہے کیونکہ ان کی سوچ کی مماثلت کی وجہ سے اس کے فیصلے اس کے لیے بہتر ہو سکتے ہیں۔ برادری، ذات پات اور اپنے گروپ کے آدمی کو ووٹ دینے کے پیچھے بھی یہی سوچ ہوتی ہے۔ جس شخص کو کسی لیڈر سے پیار ہے وہ اس لیے اسے ووٹ دیتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ وہ لیڈر اس کے اور اس کی پوری قوم کے مسئلے حل کرے گا۔اس پوری بحث سے ایک بات جو واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جمہوری معاشروں میں ووٹر مذہب، رنگ، نسل یا برادری کو نہیں اپنے مفادات کو ووٹ دیتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ اس کی سوچ میں اس حد تک فرق ہے کہ اس کے مفادات کا محافظ کون ہو سکتا ہے۔
سیاسیات کی اگر تعریف پڑھی جاے تو اس کے مطابق سیاست اس بات کا علم ہے کہ ایک ملک کے امور کو ایسے انداز میں چلایا جائے کہ اس سے پورے معاشرے کی فلاح ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ سیاست ایسے کسی بھی نظام کو قبول کرتی ہے جس سے معاشرے میں بہتری آے۔ سیکولرازم کی تعریف کا بھی وہی حال ہے جو اسلام میں مسلمان کی تعریف کا۔یعنی ہر شخص خود تو مسلمان اور اس سے اختلاف رکھنے والے سب کافر۔ جیسے اسلام کے سینکڑوں فرقے ہیں ویسے ہی سیکولرازم میں بھی بھانت بھانت کے خیالات ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اس کیس کے فیصلے میں سیکولرازم کی جو تعریف کی ہے اس کے مطابق مذہب کو سیاست اور ملکی امور کے فیصلوں سے الگ رہنا چاہیے جبکہ دوسری طرف بھارتی انتخابی قانون سب کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ ایسا فیصلہ لیں جو ان کو ان کے حق میں بہتر لگے ۔تو سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص کو ایسا لگتا ہے کہ اس کی برادری کا بندہ اس کے لیے بہتر ہے اور قانون اسے اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے لیے بہتر شخص کا انتخاب کرے تو پھر ہم اس بات پر پابندی کیسے لگا سکتے ہیں کہ امیدوار کی طرف سے ووٹر کہ یہ نہ بتایا جائے کہ وہ اس کے لیے اس لیے بہتر انتخاب ہے کیونکہ وہ اس کی برادری کا ہے۔ اس کی مثال ایسے قانون کی ہے جس میں اس بات کی تو عوام کو اجازت دی جائے کہ وہ شراب پی سکتے ہیں مگر شراب بیچنے والے پر پابندی لگا دی جائے۔
جی تو جناب حاصل بحث یہ ہے کہ اگر جمہورہت میں ووٹر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس بنیاد پر چاہے ووٹ دے سکتا ہے تو پھر امیدوار پر نظریاتی طور پر ایسی پابندی غیر اخلاقی اور کچھ حد تک بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی بھی ہے کیونکہ سیکولرازم کے چیمپئن امریکہ میں بھی حالیہ صدارتی الیکشن میں مذہب صدارتی انتخابی مہم کا بنیادی نکتہ رہا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کا ٹرمپ کارڈ بھی یہی تھا۔ اگر سیاست سے مذہب اور برادری کی بنیاد پر ووٹنگ کا کلچر ختم کر کے اہلیت کی بنیاد پر ووٹنگ کلچر کو فروغ دینا ہے تو پھر پہلے معاشرے کی اجتماعی سوچ کو بدلنا پڑے گا اور سیاسی شعور پیدا کرنا پڑے گا کہ سیاست کو کسی عقیدے، برادری اور زات پات کی ضرورت نہیں کیونکہ سیاست بذات خود ایک عقیدہ ہے۔

اسی بارے میں: ۔  جشن نوروز

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “سیاست بذات خود عقیدہ ہے

  • 04-01-2017 at 12:15 am
    Permalink

    برادری یا مذہب کے نام پر ووٹ دینا آپ کا حق مانا جائےگا، لیکن مذہب اور برادری کے نام پر ووٹ مانگنا قانوناً جرم قرار پائےگا۔ لیکن اگر آپ اسکو بھی حق بنانےپر مُصر ہوجائیں اور کوئی تحریک چلائیں تو آپ حق بجانب ہونگے۔ آپ کی تحریک کامیاب ہوجائے تو خوشی سے مذہب کے نام پر ووٹ مانگیے بھی اور دیجیے بھی۔

Comments are closed.