سیکولر ازم کیا ہے (آخری قسط)


 

wajahatجمہوری حکومت کے بغیرسیکولر ریاست اپنے مقاصد پورے نہیں کر سکتی۔

سیکولر ازم اور جمہوریت باہم لازم و ملزوم ہیں۔ جمہوریت سیکولر ریاست ہی میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف جمہوری نظام کے بغیر سیکولر ریاست اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتی۔ جمہوریت انتظامِ حکومت میں شہریوں کی باضابطہ اور موثر شرکت کے طریقہ کار کا نام ہے۔ جمہوریت کے بنیادی مفروضات میں شہریوں کی مساوات، جمہور کی حاکمیت ، قانون کی بالادستی ، جواب دہ حکومت اور آزادی اظہار شامل ہے۔ جمہوریت کے یہ بنیادی فکری تصورات سیکولر ازم کا بھی حصہ ہے۔

دراصل سیکولر ازم ریاست اور معاشرے کے مابین معاہدہ عمرانی کا تصور ہے جب کہ جمہوریت آزاد سیاسی عمل اور جوابدہ حکومت کے ذریعے سیکولر ریاست کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کا طریقہ کار ہے۔ سیکولر ازم اور جمہوریت میں حد فاصل قائم کرنا ممکن نہیں۔

محض ایک مذہبی گروہ کی بالادستی سے نجات حاصل کرنا سیکولر ریاست کا حتمی مقصد نہیں کیونکہ انسانی تاریخ میں ایسے تجربات کئے گئے ہیں جب انسانوں نے مذہبی پیشواﺅں کی بالادستی سے آزادی کا اعلان کیا مگر جمہوری نطام حکومت قائم نہ کر سکے ۔ چنانچہ یہ معاشرے معروف معنوں میں سیکولر کہلانے کے باوجود بدترین آمریتوں کا شکار ہو گئے۔ مذہبی پاپائیت اور فسطائیت میں حد فاصل جمہوریت ہے ۔ جمہوریت کی عدم موجودگی میں بادشاہت ہو، پاپائیت ہو یا فسطائیت، انسانوں کی آزادی، امن اور ترقی کا خواب پورا نہیں ہوتا ۔

سیکولر ریاست معاشرتی تنوع میں ہم آہنگی کی جستجو کرتی ہے۔

دنیا کا کوئی معاشرہ مکمل طور پر یک رنگ نہیں ہو سکتا۔ ہر معاشرے میں نسل، زبان، عقائد، سیاسی خیالات، معاشی طبقات وغیرہ کے حوالے سے مختلف گروہ پائے جاتے ہیں۔ سیکولر ریاست عقل اور انصاف کے اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تمام معاشرتی اکائیوں کے مفادات کا تحفظ بھی کرتی ہے اور مختلف معاشرتی اکائیوں میں باہم احترام اور رواداری پر مبنی تعلقات کی کوشش بھی کرتی ہے ۔

اگر معاشرے میں موجود مختلف وحدتوں کے وجود کو مصنوعی طریقے سے جھٹلایا جائے یا اُنہیں مٹانے کی کوشش کی جائے یا اُن کا استحصال کیا جائے تو ریاست اور معاشرے کا دستوری اور نامیاتی تعلق مجروح ہوتا ہے چنانچہ سیکولر ریاست مختلف معاشرتی اکائیوں کا وجود تسلیم کرتے ہوئے ایسے اجتماعی مکالمے اور بندوبست کی سعی کرتی ہے جس میں یہ اکائیاں اپنے مفادات اور تشخص کا تحفظ کرتے ہوئے رواداری کے ماحول میں ترقی کے راستے پر گامزن ہو سکیں۔

سیکولر ریاست فکری آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔

سیکولر ازم ایک ایسا نظام حکومت ہے جو انسان کی آزادی ، ذمہ داری اور صلاحیت پر اعتماد کرتا ہے ۔ انسان کے امکان پر اس اعتماد کا تقاضا ہے کہ سیکولر ریاست کے تمام شہریوں کو فکر، تحقیق اور اظہار کی آزادی دی جائے۔ سیکولر ریاست کے تمام شہریوں کو حق ہوتا ہے کہ وہ تاریخ ، علمی سرمائے ، نظریات اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں بھرپور آزادی اور توانائی کے ساتھ نئی نئی راہیں تلاش کریں۔ یہ فکری آزادی سیکولر ریاست کے شہریوں کا بنیادی استحقاق بھی ہے اور ان کی متاع عزیز بھی۔

سیکو لر ازم کے اقداری نصب العین کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے میں محرومی ختم کی جائے اور انسانوں کو بھوک سے آزادی دلائی جائے۔ محرومی اور احتیاج سے نجات ہی انسانی ترقی کی معراج ہے۔

تمام شہریوں کے معیار زندگی میں مسلسل بہتری اور انسانی ترقی کا خواب بھی ایسی فکری آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ البتہ سیکولر ریاست اپنے شہریوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ فکری آزادی کی آڑ میں دوسرے شہریوں کی دل آزاری ، بدامنی اور تفرقہ نہ پھیلائیں۔سیکولر ریاست میں ایک ہی قدر کو استقلال ہے یعنی مسلسل تبدیلی اور دائم تغیر ۔ ترمیم ، ارتقا، تبدیلی اور ایجاد سے پیداوار تخلیق اور مختلف معاشرتی قوتوں میں اشتراک و تعاون کا ہر لحظہ بدلتا تانا بانا سیکولر ریاست میں انسانی ترقی کے دروازے کھولتا ہے۔

معاشرے میں سیکولر اقدار کی ترویج کے بغیر سیکولر ریاست کامیاب نہیں ہو سکتی ۔

سیکولر ریاست محض چند قوانین ، دستوری ضمانتوں اور اداروں کی تشکیل کا نام نہیں۔ سیکولرازم کی حقیقی روح مساوات، آزادی ، رواداری ، احترامِ علم اور تکثیریت پر مبنی فکری اسلوب کا نام ہے جسے معاشرے میں فروغ دئیے بغیر سیکولر ازم کی انتظامی ہیئت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ سیکولر معاشرے کی یہ انتظامی ہیئت چار بنیادی ستونوں پر استوار کی جاتی ہے۔ (الف)دستور، (ب) ادارے ، (ج) پالیسیاں اور (د) قوانین ۔ ان چار اصولوں کو مستحکم کئے بغیر معاشرے میں چار بنیادی خواب پورے نہیں ہو سکتے یعنی مساوات، آزادی، تکثیریت اور رواداری ۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “سیکولر ازم کیا ہے (آخری قسط)

  • 27-02-2016 at 3:12 pm
    Permalink

    In any case Pakistan is not going to be a theocratic State to be ruled by priests with a divine mission. We have many non-Muslims—Hindus, Christians, and Parsis — but they are all Pakistanis. They will enjoy the same rights and privileges as any other citizens and will play their rightful part in the affairs of Pakistan.

Comments are closed.