جسم فروشی خدمت یا غلامی کی صورت؟


\"\"عرض کرتا ہوں، جسم فروشی؛ ”خدمت“ یعنی سروس نہیں، کہ یہ غلامی کی ایک شکل ہے۔ مملکتوں کا نظام سنبھالنے والوں نے اس بابت طے کیا، کہ بنی آدم جنس نہیں جس کی خرید و فروخت کی جائے۔ حتا کہ کوئی شخص اپنے آپ کو فروخت کرنے کا مجاز نہیں۔ جدید دُنیا میں غلامی ممنوع قرار دی جا چکی ہے۔ ہو سکتا ہے انسان جس ارتقائی عمل سے گذر رہا ہے، تو آنے والے کل غلامی کو ایک بار پھر مباح قرار دے دیا جائے۔ کل کے بارے میں کوئی پیش گوئی تو کی جا سکتی ہے، لیکن پیش گوئی کے حتمی ہونے کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں، جب تک کہ آنے والا پل نہ آ جائے۔ اس پیش گوئی کی بنیاد یہ ہے، کہ آج کی دنیا کی کئی ریاستوں میں جسم فروشی جو غلامی کی ایک شکل ہے کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔

کاغذ پر بنائے گئے نقشوں اور اصل عمارت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ایک دُنیا وہ ہے جو دکھائی جاتی ہے، اور دوسری وہ جو وجود رکھتی ہے، لیکن اس کو تسلیم نہیں کیا جاتا، گر چہ وہ ہوتی ہے۔ اس کو زیرِ زمین دُنیا کا عنوان دیا جاتا ہے۔ جیسے اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، جسم فروشی کا دھندا۔ کئی ریاستیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں، کہ جسم فروشی جیسے دھندے کو تسلیم کر کے اس کے لیے قانون سازی کی جائے۔ دھندا کرنے والے/ والیاں کسی ضابطے میں لائے جائیں، تا کہ معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو کم سے کم سطح پر لایا جا سکے؛ پھر ”کاروبار“ سے منسلک کارکنوں سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ بہت سی ریاستیں ایسی بھی ہیں، جو جسم فروشی کو ابھی غیر قانونی مانتی ہیں۔ کئی تسلیم نہ کرنے کے باوجود اس کے خلاف تادیبی کارروائی سے کنارا کیے رہتی ہیں، جیسے بعض ریاستیں غیر قانونی تارکین وطن کے وجود سے با خبر ہوتی ہیں، لیکن ”مفادات“ کے تحت نظر انداز کرتی ہیں۔ ایسے ممالک بھی ہیں، جہاں اس فعل کے مرتکب کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ جہاں جسم فروشی کو شہری کا حق ہی تسلیم نہیں کیا جاتا، تو ریاست کی طرف سے اس دھندے کے اصول کا سوال کیسے پیدا ہو! زیر زمین دُنیا کے اپنے اصول ہوتے ہیں، انھی اصولوں پہ یہ کاروبار چلتا رہتا ہے۔ وہاں ریاست اس ”کاروبار“ پہ ٹیکس نہیں لگاتی، گویا متعلقہ افراد کا استحقاق صفر درجے پہ ہوتا ہے۔ سو جہاں یہ حرام ہے، وہاں اس جرم کی سزا تفویض کی جاتی ہے۔

دور غلامی میں غلاموں کے بھی کچھ حقوق تھے، لیکن اتنے نہیں جتنے ایک آزاد شہری کے۔ غلامی کی مخالفت میں اٹھنے والی تحریکوں کا ماٹو ہی یہ تھا، کہ سب انسان، سب شہری یک ساں درجے کے حق دار ہیں، کسی کو غلام بنا کر اس کی آزادی کا حق چھیننا قبیح فعل ہے۔ جیسا کہ کہا گیا، کوئی شخص اپنے آپ کو بھی کسی دوسرے کے ہاتھ نہیں بیچ سکتا۔ یہ ایسا ہی ہے، کہ کوئی اپنی جان لینے کا مجاز نہیں، یہ کہ کر کہ جان اس کی اپنی ہے، وہ لے سکتا ہے۔ خود کشی جرم ہے۔ غلامی ممنوع ہوئی، غلامی کی حالت عارضی ہو، یا مستقل۔ جسم فروشی، ”آدمی“ کو جنس کے درجے پر لے آنا ہے۔ جو غلامی سے نفرت کرتے ہیں، جسم فروشی کے دھندے سے نفرت نہ کریں، تو عجب ہے۔

تجارت؛ جسے قانونی تحفظ حاصل ہو۔ تاجر، آجر، اور آجیر کے مابین حقوق و فرائض واضح کیے جائیں۔ تاجر کے حقوق ہیں، کہ اس کے ادارے کے ملازمین وقت کی پابندی کریں، دل جمعی سے، مکمل صلاحیت سے اپنا فرض ادا کریں، ملازم کے کچھ حقوق ہیں، جو تاجر کے فرائض بن جاتے ہیں۔ ریاستی قوانین کے تحت تاجر اپنی ذمہ داریوں کی پاس داری کرے۔ فریقین کے مابین تنازع ہو، تو ریاستی ادارے ثالث کا کردار ادا کریں۔ عدلیہ ریاستی قوانین کو مد نظر رکھتے اپنا فیصلہ دے گی۔ یہی اس کا فرض ہے۔ جہاں‌ جسم کا دھندا قانونی ہے، وہاں بھی اس میں یہ سقم ہے، کہ لین دین کس شئے کا ہوا؟ حقوق و فرائض کیا ہیں؟ ”طوائف“، ”کسبی“، ”بیسوا“، یا انگریزی کی سہولت سے معزز کرتے ”سیکس ورکر“ کی تعریف یوں کی جاتی ہے، کہ جو مال کے بدلے اپنے جسم کو بھاڑے پر دے۔ معروف لفظوں میں جسے ”طوائف“ کہا جاتا ہے، وہ عورت کے روپ میں ہوتی ہے۔ (مرد بھی ”طوائف“ ہو سکتا ہے) وہ رقم کے عوض اپنا جسم پیش کرتی ہے۔ نکتہ اہم ہے، ”رقم کے بدلے۔ “ جسم کے بدلے، جسم پیش کرنے والا/ والی طوائف کی تعریف پر پورا نہیں اُترتا۔ چوں کہ سودے میں ”رقم“ کی ”مال“ کی شرط ہے، دونوں اجسام کو ایک دوسرے کی تسکین کی شرط نہیں۔ رقم دینے والے کی تسکین معنی رکھتی ہے، کہ طوائف نے یہ رقم خریدار کو تسکین پہنچانے کے لیے لی۔ بدلے میں طوائف کی تسکین نہیں ہوئی، تو صارف کے فرائض میں یہ شامل نہیں، وہ جنس کو جسمانی یا روحانی تسکین دے۔ ہاں طے شدہ قیمت مقرر وقت پر ادا کرنا اس کا فرض ہے، وہ ایسا نہیں کرتا، تو مجرم ہے۔

اسی طرح طوائف سودا طے کرے، رقم وصول کرے، اور پھر سودے سے انکار کر دے، کہ اس کا اراداہ تبدیل ہو گیا ہے، ایسے ”ارادے“ کا اختیار اسے سودے سے پہلے تو ہے، یا صارف کی طرف سے کوئی بے اصولی ہوئی تب بھی، لیکن بنا کسی عذر کے ’ارادہ“ بدلنے کا اختیار دکان دار کے پاس کیسے ہو گیا، جب کہ وہ صارف سے قیمت لے چکا؟ اب ”ارادہ“ تو خریدار کا ہوا۔ جہاں ”سیکس ورکر“ کے استحقاق کا باب ہے، وہیں کہیں صارف کے حقوق کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ”طوائف“ قیمت وصول کر کے، یعنی معاہدہ ہو جانے کے بعد، ”موڈ“ کی آڑ نہیں لے سکتی۔ کیوں کہ اس نے اپنے جسم کے پیسے پکڑے ہیں، اپنے موڈ کے نہیں۔ موڈ نہیں ہے، تو دھندے پر نہ بیٹھے۔ اب وہ ”جنس“ ہے، اور ”جنس“ کا موڈ نہیں دیکھا جاتا۔ ایسے میں خریدار اپنی ”جنس“ جس کی قیمت طے کر کے ادا کر چکا، تو استحقاق اس کا ہوا۔ جسم فروشی ”خدمت“ (Service) ہے؟ اگر یہ تسکین جسم فروش نے بھی حاصل کی، تو اسے بھی فاعل کو ”قیمت“ دینی چاہیے۔ کیوں کہ فاعل نے مفعول کی ”خدمت“ کی۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔

جسم فروشی کی بات ہوئی؛ غلامی کا ذکر ہوا۔ زنا کی بحث نہیں، کہ اس سے بات موضوع سے ہٹ جائے گی۔ زنا بالجبر کی بحث ہے، کہ سارا فسانہ اسی کے لیے سنایا گیا۔ زنا بالجبر؛ اس کے لیے انگریزی میں جو لفظ ہے، وہ اردو میں مستعمل ہے، ”Rape۔ “ کوئی بھی ریاست ہو، جہاں جسم فروشی کو تسلیم کیا جاتا ہے، یا قانونی تحفظ حاصل نہیں، وہاں ”جنس“، ”صارف“ پر Rape کا دعوا دائر کرے، دلیل یہ ہو، کہ میں نے رقم وصول کی یعنی سودا طے پا گیا، لیکن بعد میں میرا ارادہ بدل گیا، میں نے قیمت چکا دی، اس لیے صارف نے زبردستی ”جنس“ ہتھیائی، یہ دعوا ایسا ہی ہے، جیسے ایک دکان دار کہے، میں نے ”گل دان“ کی قیمت طے کی، خریدار نے ادا کی، لیکن بعد میں میرا ارادہ بدل گیا، اب خریدار زبردستی وہ ”گل دان“ لے گیا، اس لیے خریدار پہ ڈکیتی کا مقدمہ بنایا جائے۔
غلامی کا دھندا قبیح ہے، وہ جسم فروشی کی صورت ہی کیوں نہ لیے ہو۔ جسم فروشی ”خدمت“ کے زمرے میں نہیں آتی۔ اس داستان سے کسی کو اختلاف ہو، تمثیلوں پر معترض ہوں، لیکن شاید یہ بات آپ سمجھ پائیں، کہ ”بنی آدم“ کو ”جنس“ کے درجے تک لانا کیوں معیوب ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 170 posts and counting.See all posts by zeffer-imran