50 سال بعد راولپنڈی کی کتابوں سے جان چھوٹ گئی


\"\"لڑکپن کا ہر اتوار صدر راولپنڈی میں گزرا۔ تین روپے ویگن والے کو کرایہ دیا اور سیروز سینما اتر گئے۔ جی پی او چوک سے کتابیں دیکھنا شروع کرتے تھے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کوئی ایک بھی ایسا کامیاب دن فہرست میں نہیں ہے جب تمام سٹالز پر حاضری دے سکے ہوں ۔ وجہ یہ ہے کہ یہ کتاب بازار بہت ہی پھیلا ہوا ہوتا تھا۔ جی پی او چوک، حیدر روڈ، بینک روڈ مسجد اور جی ٹی ایس اڈے تک ہر طرف صرف کتابیں ہی کتابیں نظر آتیں۔

پورا دن یوں صرف ہوتا کہ ہم کتابیں خریدنے سے زیادہ پڑھنے جاتے اور مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کسی سٹال والے نے منع کیا ہو۔ ہاں آپ \’\’رنگ برنگے رسالے\’\’ دیکھنا شروع کرتے تو یقیننا سٹال والے منع کرتے تھےکہ خریدنا ہے تو خریدوں۔۔۔ چسکے نہ لو۔

میں جب لاہور گیا تو سنا کہ انار کلی اور گورنمنٹ کالج کے پاس بھی ایسا کوئی کتاب بازار لگتا ہے ۔ سچ پوچھیں اور ہمارے لاہوری دوست تھوڑی دیر کے لیے لاہور کی اندھی محبت ایک طرف رکھیں تو بتاؤں کہ صدر پنڈی کے بازار کا \"\" دسواں حصہ بھی لاہور کے کتاب بازار کو نہیں کہا جا سکتا۔

دس بجے صدر پہنچتے اورعصر کی اذانوں کی آواز سنائی دیتی تو معلوم ہوتا آدھے سٹال بھی نہیں دیکھ پائے۔ نایاب کتاب بھی اس قدر سستی کہ جتنا مبالغہ کیا جائے، کم ہے۔ بچوں کی کتابوں کا تو خیر انبار لگا ہوتا۔ ڈائجسٹ، جاسوسی ناولز، عالمی ادب اورسیاسیات و تاریخ کی کتابوں کے ڈھیر تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سٹال والے نے اگر پانچ سو کتابیں فٹ پاتھ پر لگائی ہوئیں ہیں تو کم و بیش اتنی ہی کتابیں اس کے پاس پڑی بند بوریوں میں پڑی ہوتیں۔

اب سننے میں آیا ہے کہ اس کتاب کھپ کو ختم کیا جا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ ایک مناسب بات ہے جس کے کئی فائدے ہیں جن میں سب سے بہترین فائدہ تو یہ ہے کہ اب ہم گاڑیوں کو شوں کر کے صدر سے گزرا کریں گے۔ ٹریفک نہیں پھنسے گی۔ ویسے بھی میری یہ بہت پرانی حسرت تھی کہ میرے پاس گاڑی ہوتی اور میں صدر بازار سے چھٹی والے دن شوں کر کے گزرتا اور صدر میں یہ کچرا نظر نہ آتا۔

اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو راولپنڈی صدر سے کتابوں کے ہر ہفتے لگنے والے اس انبار کو ختم کرنا ہو گا۔\"\"

دنیا کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم میں سے کچھ لوگ پرانی کتابوں کی دیمک بنے ہوئے ہیں۔

 صدر کو چاہے ہر طرف سے سڑکیں لگتی ہوں ۔۔

چاہے آپ صدر میں ٹریفک کو چھٹی والے دن بند کر کے اس کو کتاب پارک کا نام دے سکتے ہوں،

چاہے صدر کے اس چھوٹے سے علاقے میں گاڑیوں کا داخلہ ممنوع کرنے سے کسی کا راستہ طویل نہ ہوتا ہو،

چاہے چھٹی والے دن صدر کی سو فی صد دکانیں بند ہوتی ہوں اور خریداری کے لیے آنے والوں کا کوئی امکان نہ ہو

 لیکن ۔۔۔ اور ایک بڑا لیکن پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ۔۔۔

کیا میں صدر سے شوں کر کہ گاڑی گزارنے کا لطف لے سکتا ہوں؟

اس ذہین و فطین صاحب بہادر کو سلام جس نے میرے حصول لطف کے لیے راہ ہموار کی۔۔۔ بلکہ راستہ صاف کیا!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 109 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik