کیا ہماری یونیورسٹیاں ہمیں دھوکہ دے رہی ہیں؟


\"\"ہمارے دوست بھٹی صاحب نے ایک طویل ہنکارا بھرا، گرما گرم بحث کرتے اساتذہ کے تمتماتے چہروں پر ایک نظر ڈالی اور بولے \” مجھے آپ یہ بتائیں کہ آپ اپنے بچے کو تیراکی سکھانا چاہتے ہیں۔ دو لوگ ہیں جن میں ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ پہلا آرمی کا ریٹائرڈ حوالدار ہے۔ تیراکی کا قومی چیمپئن رہ چکا ہے۔ بے شمار بین الاقوامی مقابلوں میں شریک رہا ہے۔ اب بھی روز دو سے تین گھنٹے سوئمنگ پول میں گزارتا ہے اور تیراکی کی ہر تکنیک سے آگاہی رکھتا ہے۔ اپنی نوجوانی میں انگلش چینل کو تیر کر عبور کر چکا ہے۔ دوسرا شخص ایک محقق ہے۔ اس نے حال ہی میں دو کمال مقالے تحریر کیے ہیں۔ ایک مقالے میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ تیرتے ہوئے اگر بایاں بازو زاویہ حادہ بنائے اور دائیں ٹانگ زاویہ منفرجہ تو اس کا پانی کی اچھال کی قوت پر پڑنے والا اثر کتنے وقت میں تیراک کو سات انچ آگے دھکیلے گا۔ اس محقق نے آج تک کسی پول میں قدم نہیں رکھا لیکن ہر سال سوئمنگ پولز سے جڑے معاشی، سماجی اور مالی محاسن پر کم ازکم ایک مقالہ ضرور تحریر کیا ہے اور یہ کام کوئی دس سال سے جاری ہے۔ اب بتائیے کہ کون آپ کے بچے کو بہتر تیراکی سکھائے گا۔ کس کے زیر نگرانی اس کے ڈوبنے کا چانس زیادہ ہے اور کس کی تربیت کے بعد آپ زیادہ پر اعتماد محسوس کریں گے\”۔ کچھ چہروں پر مسکراہٹ پھیلی اور کچھ پر خشونت گہری ہو گئی۔ مکالمہ اس موڑ پر ختم ہو گیا۔

کچھ عرصہ پہلے ہارورڈ بزنس ریویو میں ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں اس بات پر گفتگو کی گئی تھی کہ ہماری سوشل سائنس کی تعلیم حقیقی سائنس کی ڈگر پر چل نکلی ہے اور یہ ایک انتہائی غلط انتخاب ہے۔ اس میں جو ترکیب استعمال کی گئی وہ \”physics envy\” تھی۔ یعنی سوشل سائنس میں ہر اس طریق کی تقلید ہے جو علم طبعیات میں ایک معیار ہے۔ اور اس وجہ سے کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا والا معاملہ ہو گیا ہے۔ یہ ایک بہت وسیع تناظر والا موضوع ہے اس لیے اس کو سمجھنے کے لیے ہم \”انتظام کاروبار\” یا \”بزنس ایڈمنسٹریشن\” کی تعلیم کی مثال لے لیتے ہیں۔ یہی مثال تقریباً تمام سوشل سائنسز پر منطبق کی جا سکتی ہے۔

بزنس ایڈمنسٹریشن میں داخلہ لینے والے طالب علموں کی اکثریت یا تو اس لیے اس ڈگری کا حصہ بنتی ہے کہ وہ ایک اچھا منتظم یا مینیجر بننے کی تربیت لے سکیں یا پھر وہ اس قابل بن جائیں کہ اپنے کاروبار کا خوش اسلوبی سے آغاز کر سکیں یا کاروبار کرنے کے گر سیکھ سکیں۔ شاذونادر ہی کوئی اس نظریے سے آتا ہے کہ اس نے کاروبار پر کوئی تعلیمی تحقیق کرنی ہے۔ اس ڈگری میں طالب علم بہت سے مختلف مضامین میں تربیت پاتے ہیں۔ ان میں اکاؤنٹنگ، فنانس، اکنامکس، مارکیٹنگ اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ جیسے مضامین خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

ہمارے دوست شاہ جی نے ایک حقیقی مثال سے یہ کہانی ہمیں سمجھائی۔ ہم آپ کو سمجھائے دیتے ہیں۔ فرض کریں کہ آپ کو اکاؤنٹس کے لیے ایک استاد کا تقرر کرنا ہے۔ دو امیدوار ہیں۔ ایک چارٹرڈ ؤاکاؤنٹنٹ یا ACCA  یا ACMA یا CPA  ہے جس نے چار سے پانچ سال اکاؤنٹس اور اس سے متعلقہ مضامین میں سر کھپایا ہے۔ کم ازکم تیس پرچے ان مضامین میں دیے ہیں۔ بیسیوں کمپنیوں کے اکاؤنٹس بنائے ہیں اور اپنے شعبے میں دس سال کا تجربہ رکھتا ہے اس کے مقابلے میں ایک اور امیدوار ہے جس نے MBA کیا ہے اس میں تین مضمون اکاؤنٹس کے پڑھے پھر پی ایچ ڈی کی، اس میں بھی حد تین نہیں تو چار مضامین اکاؤنٹس کے حصے میں آئے۔ پھر اس نے ایک مضمون کے ایک باب کے ایک نکتے کے حوالے سے ایک مقالہ تحریر کیا۔ اس میں جان ماری اور پی ایچ ڈی کر لی۔ صاحب نے کبھی کسی کمپنی کے اکاؤنٹ نہیں بنائے، کبھی آڈٹ نہیں کیا۔ کبھی کاروباری دنیا کے کسی دروازے کے پیچھے نہیں جھانکا۔ ہاں کچھ کمپنیوں کا آن لائن ڈیٹا اکٹھا کر کے اس پر دو تین شماریاتی تجزیے لگا کر چند مقالے چھپوا لیے۔ آپ کا کیا خیال ہے ان میں سے کون طالب علموں کو اکاؤنٹس کی بہتر تعلیم دے سکتا ہے اور کون انہیں حقیقی دنیا کے مسائل سے روشناس کرا سکتا ہے۔ آپ کا جواب جو بھی ہو۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات کے ضوابط کی رو سے دوسرا امیدوار منتخب کر لیا جائے گا اور پہلے امیدوار کو باہر کا رستہ دکھایا جائے گا۔

فنانس کی مثال لے لیجیے۔ وہی MBA یا MS کر کے پی ایچ ڈی کرنے والا امیدوار جس نے لے دے کر پانچ سے چھ مضامین فنانس کے پڑھے ہوں گے۔ باقی مضامین فلسفہ اور تحقیق سے متعلق ہوتے ہیں۔ اور اس کے مقابل ایک CFA  جس نے تین سے چار سال دن رات سوائے فنانس کے کچھ نہیں پڑھا۔ کوئی تیس مختلف زاویوں سے فنانس سے جڑے تصورات، نظریات اور فارمولوں کو کنگھالا۔ ایک انویسمنٹ فرم میں اربوں روپے کے فنڈز کو مارکیٹ میں چلایا۔ فنانس کون بہتر پڑھائے گا۔ جواب غیر متعلق ہے کیونکہ پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہی اس قابل ہے کہ جامعہ اسے ایک پیشکش کرے۔

ہر سال ہائر ایجوکیشن کمیشن ہر شعبے میں بہترین استاد کا اعزاز دیتا ہے۔ جامعاتی سطح پر یہ ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں کہ کس استاد نے اپنا مضمون ایک ندرت اور جدت کے ساتھ پڑھایا۔ کس کے طالب علم مارکیٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کس کی کلاس میں طالب علم شوق سے آتے ہیں۔ کس نے اپنا علم بہترین انداز میں منتقل کیا ہے۔ نہیں جناب، ان میں سے کوئی شے اہمیت نہیں رکھتی۔ بہترین استاد وہ ہے جس نے سال میں سب سے زیادہ تحقیقی مقالے چھاپے ہیں اور عموماً جس کے نام کے ساتھ ڈاکٹر کا ٹھپہ لگا ہے۔

کسی اخبار کو اٹھا کر یونیورسٹی کے اشتہار برائے ملازمت پر نظر ڈالیں تو پتہ لگ جائے گا کہ واحد معیار پی ایچ ڈی ہونا اور تحقیقی مقالے چھپوانا ہے۔ ان دونوں باتوں کا پڑھانے کی صلاحیت سے کیا تعلق ہے، یہ کم ازکم ہمارے پلے تو آج تک نہیں پڑا۔

اب اس تحقیق کی اصل بھی سن لیجیے۔ تحقیق کا مادہ یہ ہے کہ علم کے ذخیرے میں اضافہ کیا جائے، کوئی نئی بات دریافت کی جائے، کوئی اچھوتی کاوش سامنے آئے۔ امپیکٹ فیکٹر ایک معیار ہے جو یہ بتاتا ہے کہ تحقیق کی دنیا میں آپ کے لکھے کا مول کیا ہے۔ سوشل سائنسز میں ہماری جامعات کے ان محققین کے سارے امپیکٹ فیکٹر جمع کر لیں تو بھی علم کیمیا یا طبعیات کے ایک بہتر مقالے کے برابر نہیں بیٹھیں گے۔ اکثریت کا پسندیدہ مشغلہ ایک مقالہ تحریر کر کے اسے ایک غیر ملکی کانفرنس میں بھجوانا ہے جہاں نوے فی صد مقالے ویسے ہی منظور ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ایچ ای سی سے ٹکٹ، رہائش اور خرچے کے پیسے لیجیے اور مزے سے ایک ہفتہ پیرس، استنبول، نیویارک یا روم میں گزاریں۔ سال میں ایسے سینکڑوں ٹرپ لگائے جاتے ہیں لیکن اس بات کا کوئی تجزیہ کہیں موجود نہیں کہ ان کروڑوں کے خرچے سے علم کی دنیا میں کیا حقیقی اضافہ ہوا ہے اور اس سے ان اساتذہ کے طالب علم کیا فیض حاصل کر پائے ہیں۔

ہمارے ایک گہرے دوست ہیں جو ماشاءاللہ خود بھی پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں اور انجینرنگ کی دنیا میں بڑے نامی ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا کہ تم مقالے کیوں نہیں لکھتے۔ میں نے بتایا کہ آٹھ سال قبل ایک لکھا تھا اور امریکہ جا کر پیش بھی کیا تھا پر پھر لگا کہ یہ کوئی وقت کا اچھا استعمال نہیں۔ اس لیے پھر کوشش نہیں کی۔ اس پر وہ پہلے میری جہالت پر ہنسے پھر کہا کہ وقت کون احمق لگاتا ہے۔ اپنے کورس میں طالب علموں کو اسائنمنٹ کے نام پر موضوع دے کر پرچے لکھواؤ پھر مشترکہ مصنف کے طور پر اپنا نام لکھو۔ چھپ سکے تو چھپوا دو نہیں تو کانفرنس اور سیر کے کام آ جائے گا۔ اس کے بعد انہوں نے اس ترکیب سے پیدا کردہ اپنے مقالوں کی تعداد گنوائی جس کی فہرست ہی کئی صفحات پر پھیلی تھی۔ ہم نے انتہائی لالچ سے ان کی تجویز کا جائزہ لیا اور اس پر عمل کا وعدہ بھی کیا پر کئی برس بعد بھی ابھی تک یہ عمل کرنے کی نوبت نہیں آسکی۔ اس میں قصور سراسر ہمارا ہے ورنہ علم کی دنیا میں کچھ درجن مقالے اور بھی جگمگا رہے ہوتے۔

____________

(جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 98 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

2 thoughts on “کیا ہماری یونیورسٹیاں ہمیں دھوکہ دے رہی ہیں؟

  • 03-01-2017 at 11:04 pm
    Permalink

    The more basic question that one should ask is about the meaning and end of education. Business schools are essentially vocational training institutes and the kind of people suitable to teach in these schools are exactly those that the author has hinted at. It is no coincidence that he also happens to be a CFA. There was a time when subjects such as agriculture, law, business etc were not a part of the ivy covered walls of academia and one had to go to a farm, become an apprentice of a business person, or become a law clerk to learn the ropes. University was supposed to provide a liberal, not in the political or social sense of the word, education that was broad based in its aims and objectives. In that environment, research and academic excellence were an integral part of how a university was conceived. Unfortunately, all of that is lost now and all the remains is an obsession with numbers, data, empiricism and utility. CFAs, businessmen and swimmers are indeed the right kind of people in this world.

  • Pingback: یونیورسٹیوں کا آدھا تیتر اور آدھا بٹیر - ہم سب

Comments are closed.