ٹریل فائیو پر کھڑے چار بے وقوف


\"\"فون کی گھنٹی بجی۔ سکرین پر ہماری دوست حمیرا حسین کا نام جگمگانے لگا۔ وقت بھی علی الصبح کا تھا۔ لیکن حمیرا حسین نے کبھی پہلے بھی وقت کی پروا نہیں کی۔ فون ایک دفعہ بند ہوا اور گھنٹی اگلے ہی لمحے پھر چیخنے لگی۔ اس سے پہلے کہ یہ فون اٹھاؤں میں آپ کا تعارف ان خاتون سے کروا دیتا ہوں۔ حمیرا حسین ایک نہایت پڑھی لکھی، خوش گفتار، خوش شکل اور جابر خاتون کا نام ہے۔ یہاں جابر کا تلازمہ اس لئے لکھا گیا کہ ان خاتون کی یہ جابرانہ خصوصیات صرف اپنے دوستوں کے لئے مخصوص ہیں۔ ورنہ عام جنتا میں تو یہ نہایت تمیز دار اور خوش اخلاق معروف ہیں۔ پورے پاکستان میں کہیں کسی خاتون پر ظلم ہو، کسے بچے کو کسی استاد نے مارا ہو، کسی خاتون کو کسی نے ووٹ ڈالنے سے روکا ہو، کسی معذور بچے کے سکول میں داخلے کا معاملہ ہو، کہیں کوئی درخت کٹ رہا ہو یا پھر انسانی حقوق کی پامالی کا ذکر ہو حمیرا حسین کا فون دوستوں کے کانوں میں چیخنے لگتا ہے۔ ان معاملات میں وہ شدید شدت پسند ہیں۔ کسی کی نہیں سنتیں، خصوصا دوستوں کو ان معاملات میں کچھ کہنے کی اجازت نہیں ہے۔ جو وکیل ہے وہ مقدمہ لڑے، جو بیوروکریٹ ہے وہ شکایت کی فائل پر دستخط کرے، جو استاد ہے وہ طلبہ کو اس کہانی سے سبق دے اور جو ہم سے نکمے ہیں جو صرف لفظ لکھ سکتے ہیں وہ لکھیں، ہر فورم پر لکھیں، بار بار لکھیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ یہ حمیرا حسین کا حکم ہے۔ تعارف کچھ لمبا ہو گیا۔ میں پہلے فون اٹھا لوں پھر بتاتا ہوں آج کا قضیہ کیا ہے، آج شامت کس کی آئی ہے۔ آج احباب کے لئے کیا حکم ہے۔

صاحبو۔ بڑی مشکل سے ایک گھنٹے کے بعد فون بند ہوا ہے۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ خاتون آج اسلام آباد کے معروف جاگنگ ٹریک ٹریل فائیو پر چلی گئیں۔ وہاں ان کی ملاقات اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے دو اہلکاروں عمران اور سید مزمل حسین سے ہو گئی۔ جو ٹریل فائیو پر لوگوں کو کوڑا پھینکے سے منع کر رہے تھے۔ قدرت کے اس شہکار ٹریل کو گندگی اور آلودگی سے محفوظ کر رہے تھے۔ لوگوں کو صفائی اور قدرت کی اس ا مانت کی حفاظت کی نصیحت کر رہے تھے۔ حمیرا حسین فون پر چنگھاڑ رہی تھیں کہ تم ابھی اٹھو، ابھی اٹھو۔ سستی اور کاہلی کے مارو۔ ٹریل فائیو پر پہنچو۔ یہاں چار بے وقوف ٹریل فائیو کی حفاظت کر رہے ہیں۔ یاد رہے ٹریل فائیو پر حمیرا حسین کے ساتھ ان کی دوست اور معروف سماجی کارکن عقیلہ طاہر بھی تھیں۔

اسی بارے میں: ۔  نگرپارکر شہر میں کنویں سوکھ گئے، پانی کا شدید بحران

ایک لکھنے والے کو آپ کوئی بھی کام کہہ سکتے ہیں۔ اگر چاہیں تو لفظوں سے انقلاب لے آئے، محبت کی غمگین داستان سنائے، زمین سے آسمان تک کے قلابے ملائے، برق بن کر حکومت پر گرے، طوفان بن کر حکومت کے پر خچے اڑا دے لیکن بستر سے نکلنا، دسمبر کے مہینے میں اور وہ بھی اسلام آباد کی سردی میں اور مزید یہ کہ صبح صبح۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن کیا کیا جائے۔ فون حمیرا حسین کا تھا، فون بند کرتا تو وہ گھر آکر گھر کی گھنٹی کا دم نکال دیتیں۔ کمرے میں چھپتا تو وہ درواز ہ توڑ دیتیں۔ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ لہذا شرافت اسی میں تھی جیسے کیسے ٹریل فائیو پہنچا جائے۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کا قیام انیس سو اناسی میں عمل میں آیا۔ بنیادی طور پر اس کا مقصد فیڈرل ایریا میں قدرتی وسائل کا تحفظ تجویز کیا گیا۔ یہ حکومت پاکستان کے زیر نگرانی ایک بورڈ ہے جس کا انصرام تین سال پہلے تک کیبنٹ ڈویژن کے سپرد تھا۔ وزارتوں کے کام ایسے ہی ہوتے ہیں کہ جن کے بارے میں کچھ نہ ہی کہا جائے تو بہتر ہے۔ تین سال قبل اسلام آباد کے کچھ عاقل لوگوں نے حکومت سے درخواست کر کے اس بورڈ کو اسلام آباد کے شہریوں کے سپرد کر دیا۔ اس بورڈ میں ان لوگوں کو شامل کیا گیا جو ان قدرت وسائل سے محبت کرتے تھے، ان کی حفاظت کا ہنر جانتے تھے۔ اس بورڈ کی سربراہی معروف دندان ساز ڈاکٹر انیس الرحمان کے سپرد کی گئی۔ ڈاکٹر رحمان کا نام آثار قدیمہ کے تحفط کے لئے کام کرنے والوں کے لئے نیا نہیں ہے۔ یہ وہی خوش شکل ڈاکٹر صاحب ہیں جو ٹی وی کے ایک اشتہار میں لوگوں کو دانتوں سے خون آنے کی وجوہات اور ٹھنڈا گرم لگنے کے اسباب بتاتے ہیں۔

ڈاکٹر انیس الرحمان کا نام بہت ہی قابل احترام نام ہے۔ روہتاس کے قلعے کی بحالی اور تزئین کا کام بھی انہی کے سپرد تھا۔ معذور افراد کی تعلیم اور تربیت کے معاملے میں بھی ڈاکٹر صاحب نے نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں۔ ان کا نام اسلام آباد کے سماجی کاموں میں ہمیشہ سرفہرست رہا ہے۔ ٹریل فائیو پر پہنچ کر جب ڈاکٹر صاحب سے بات ہوئی تو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔ ٹریل فائیو کا ٹریک وہی ٹریک ہے جو جا کر ٹیکسلا سے ملتا ہے۔ یہ سارا پہاڑی سلسلہ گندھارا تہذیب کا علاقہ رہا ہے۔ اس میں اس صدیوں پرانی تہذہب کے بہت سے آثار نظر آتے ہیں۔ اس پہاڑی کو نیشنل پارک کا درجہ دے کر یہاں درختوں کی کٹائی اور جانوروں کا شکار ممنوع کر دیا گیا تھا۔ لیکن ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ مدتوں سے یہاں لکڑی چوری کاکام جاری ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس چوری شدہ مال( لکڑی) کی وڈیوز بھی دکھائیں۔ مزید مسئلہ یہ تھا کہ جو لوگ اس پہاڑی پر پکنک منانے آتے ہیں وہ کوڑا کرکٹ پھینک جاتے ہیں جس سے یہ قدرتی حسن داغدار ہوتا ہے۔ بار بی کیو کے شوقین آگ جلاتے ہیں اور بہت دفعہ یہ آگ قیمتی جنگل کو جلا چکی ہے۔ سگریٹ پینے والے جلتی ماچس درختوں کے دامن میں پھینک دیتے ہیں اور آنا فانا آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ لوگ شاپنگ بیگ رستے میں پھینک دیتے ہیں جس کو کھا کر قیمتی جنگلی جانور ہلاک ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  بوڑھے آنسو نہیں بہاتے ۔۔۔ نیئر مسعود کے قلم سے ترجمہ

انیس سو اناسی کے بعد پہلی دفعہ یہ ہوا کہ اس بورڈ کو منظم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اب اس کے پاس چار ملازم ہیں۔ جو ٹریل فائیوپر ہر آنے جانے والے سے کھانے کا سامان، سگریٹ اور ماچس دھروا لیتے ہیں۔ ہر شخص جو پلاسٹک بیگ میں سامان لے کر ٹریل فائیو کی جانب جا رہا ہوتا ہے اس سے شناختی کارڈ دھروا لیا جاتا ہے تاوقتیکہ کہ وہ خالی شاپنگ بیگ عملے کو نہ دکھا دے۔ بورڈ نے کچھ قد آدم اشتہار بھی بنائے ہیں۔ جو لوگوں کو قدرتی وسائل کی حفاظت کی ترغیب دلاتے ہیں۔ یہاں یہ بات بتانا اہم ہے کہ یہ سب اخراجات اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے چند لوگ اپنی جیب سے کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں انہیں کسی قسم کی حکومتی مالی معاونت حاصل نہیں ہے۔

ہم لوگ ہر وقت سوچتے ہیں، پاناما کیس کا کیا بنے گا؟ زرداری کب واپس آئیں گے؟ عمران خان کامیاب ہو گا یا کہ نہیں؟ لوڈ شیڈنگ ختم ہو گی یا نہیں؟ آئی ایم ایف قرضہ دے گا یا نہیں؟ لیکن سب لوگ یہ نہیں سوچ رہے ہوتے۔ کچھ لوگ ہم سے بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے مسائل پر غور کرتے ہیں۔ معاشرے میں منفیت ختم کرتے ہیں۔ مثبت باتیں کرتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کرتے ہیں۔ بہتری کا سوچتے ہیں۔ قدرتی وسائل سے محبت کرتے ہیں۔ حمیرا حسین اور ڈاکٹر رحمان بھی انہی اچھے لوگوں میں سے ہیں۔ اگر یہ بے وقوف ہیں تو مجھے بھی ان میں شمار کیجئے۔ اب کبھی ٓپ ٹریل فائیوپر چکر لگائیں تو آپ کو وہاں چار نہیں پانچ بے وقوف کھڑے ملیں گے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 95 posts and counting.See all posts by ammar