عورت نے بے حیا چلغوزے جنم دیے


\"\"دنیا بےشک مریخ پر پہنچ گئی، سیاروں پر پانی تلاش کیا جا رہا ہے۔ انسان زندگی کی تلاش کے سفر پر رواں ہیں مگر ہماری لیبارٹریوں کا مقابلہ کرنے سے آج بھی قاصر ہیں ۔ ہم جانتے ہیں لالی پاپ کی افادیت اور اس کو کس طرح عورت کی حیا سے مماثلت دینی ہے۔ ہمیں مکمل یقین ہے کہ کیلا اگر بغیر چھلکے کے ہو تو بھی سائنسی رفتار میں عقل والوں سے آگے ہی رہے گا۔ اب ہماری تمدنی اور علمی لیبارٹریوں میں چلغوزے کا اضافہ بھی کردیا گیا ہے۔ جس میں یہ بتایا گیا کہ بغیر چھلکے کے چلغوزہ کیسا لگتا ہے؟ چھلکے والے چلغوزے کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے؟ چلغوزے کے چھلکے میں دراڑ کیسے پڑتی ہے؟

صاحب دانش نے مگر یہ نہیں بتایا کہ کہ سردی میں چلغوزہ کس قدر مہنگا ہے، اوپر سے بغیر چھلکے کا چلغوزہ تو دور سے منہ چڑاتا ہے۔ ٹافی کی پڑیا ہو، لولی پاپ کی گڑیا ہو یا برہنہ کیلا، یہ سب مناظر دیکھنا پردہ نشینوں کے لیے کتنا دشوار ہے۔ میں سمجھ سکتی ہوں یہ اذیت مگر مجھے جون ایلیا کی کہی ہوئی وہ سچی اذیت زیادہ محسوس ہوتی ہے کہ دنیا میں پردے کا پوری طرح نبھانا کبھی ممکن نہیں ہو سکا۔ خیر یہ بات تو کینڈی کرش ٹائپ ہوگئی۔ اصل مسئلہ وہی ہے یعنی چلغوزہ!

میری ننھا سا ذہن بھی آج یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ اگر ہم ایک منٹ کو مردوں کو چلغوزوں سے تشبیہ دیں تو اکثر چلغوزوں کے آگے چھلکے ہی نہیں ہوتے اور بیشتر چلغوزوں پر بدنما خراشیں پڑی ہوتی ہیں۔

حیا کا تماشا اس قدر دھوم سے نکالا جا رہا ہے کہ بے حیا بھی شرمانے لگے ہیں۔

آخر ایسی کیا بات ہے کہ ہمارا ایمان عورت کے چادر نہ اوڑھنے سے خراب ہوسکتا ہے۔ کیا زنان مصر یاد نہیں ہیں جنہوں نے، بیان کیا جاتا ہے، کہ اپنی انگلیاں کاٹ ڈالی تھیں، محو ماہ کنعاں ہو گئی تھیں اور یہ کہ حُسنِ یوسف کو دیکھ کر زلیخا ہوش کھو بیٹھی تھیں۔

اسی بارے میں: ۔  بریسٹ کینسر سے آگہی۔۔۔ فیصل مسجد اسلام آباد گلابی ہو گئی

بازارِ مصر یاد ہو نا ہو، مگر ہم نے گلی محلوں سے پہلے اپنے دماغوں کی شریانوں میں بازار حسن کھولا ہوا ہے جہاں ہم صرف بےحیائی کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔ ہمارے دماغ کس قدر غلاظت سے بھرپور ہیں کہ شلوار اور چھ گز کی چادر سے آزاد ہونے کو تیار ہی نہیں۔ جنسی بلاؤں کا سایہ ہم پر ہر وقت منڈلاتا رہتا ہے۔ ہم نے فطرت سے ایسی ضد باندھی ہے کہ اب فطرت پہلے سے زیادہ ستم ڈھا رہی ہے کیوں کہ وہ اپنا راستہ اور سمت میں نکالنا جانتی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں تاریخ میں پردہ نشینوں نے ہی پردے چاک کئے۔ درس گاہوں کے راستے نامعلوم غلام گردشوں سے ہوتے ہوئے بالا خانوں تک جاتے تھے۔ ہندوستان کے نوابوں اور شہنشاہوں کی طوائفیں اور کنیزوں سے عشق کی داستانیں کوئی اور ہی کہانی سناتی ہیں۔ اگر ہم اپنے معاشرے کی مثال دیں تو بدترین تشدد جسمانی کی بجائے ذہنی ہوتا ہے کیونکہ جسمانی تشدد کا علاج کسی قدر آسان اور ممکن ہے۔ ذہنی تشدد سے پہنچنے والی اذیت اور زخم بعض اوقات نسلوں تک سفر کرتے ہیں۔ اور تشدد کی اس قسم کا جائزہ لیا جائے تو جنسی خط تقسیم کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ عورت واضح طور پر تشدد کی دونوں اقسام کا شکار رہی ہے۔ چاہے وہ قدیم مغربی تاریخ ہو یا مشرقی، عورت بے چارگی کی تصویر بنی رہی۔ مغربی اقوام نے کافی حد تک اپنی تاریخ سے سبق سیکھا اور اس نتیجے پر پہنچیں کہ عورت ایک کمزور جنس نہیں بلکہ مکمل انسان ہے۔ مگر افسوس کہ ہم اپنے معاشرے میں، چاہے مشرق ہو یا مشرق وسطٰی، عورت کو ڈبہ بند، سیل پیک اور مچھر دانی سے ڈھانپنے کے درپے ہیں۔ ترقی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جن ممالک میں عورتیں مکمل یا تقریباَ مکمل فعال ہیں ان کی ترقی کی رفتار زیادہ ہے بہ نسبت ان ممالک کے جو مصنوعی غیرت کی جیل میں پچاس فیصد سے زیادہ آبادی کو قید رکھے بیٹھے ہیں۔ یہ بہت سادہ بات ہے کہ اگر ٹیم کے آدھے کھلاڑی ڈریسنگ روم میں چھپ کے بیٹھے رہیں گے تو ٹیم جیتے گی نہیں بلکہ پٹے گی اور ایسے ہی پٹے گی جیسے ہم آج ہر جگہ پٹ رہے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  تین بوتلوں کے استعارے سے مردانہ اخلاقی تربیت

مزید یہ کہ اقوام متحدہ کا چارٹر کسی خاص نسلی، علاقائی اور مذہبی تعصب کے بغیر انسانی کی بنیادی ترین مہذب سوچ کے پیش نظر ترتیب دیا گیا۔ جس میں عورت کےمقام کا تعین چار بنیادی عناصر کو پرکھنے سے کیا جاتا ہے۔ عورت کا معیشت میں کردار، تعلیم کے حصول میں کامیابی، صحت اور اس کی سیاست میں شرکت۔ اب ذرا یہی پیمانہ لاگو کریں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں زندہ رہنے والے، پچاس فیصد \”چلغوزوں\” پہ، تو پتہ چلتا ہے کہ کسی ایک میں بھی ہم انسان کی بنیاد سوچ اور تہذیب کے معیار پہ پورا نہیں اترتے۔

کس قدر دقیانوسی سوچ ہم پہ مسلط ہے کہ عورت کو انسان کہنا تو درکنار،انسان سے تشبیہ دینے کے لئے بھی یہ مائنڈ سیٹ تیار نہیں۔ یعنی کہ مثال بھی دیتے ہیں تو کہتے ہیں عورت چلغوزہ ہے، ٹافی ہے، لالی پوپ ہے۔ ایسی سوچ کے مالک سے کوئی پوچھے کہ چلغوزے کی کوکھ سے جنم لے کر آپ انسان کیسے بن گئے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “عورت نے بے حیا چلغوزے جنم دیے

  • 04-01-2017 at 6:18 pm
    Permalink

    Appreciate your thoughts

  • 04-01-2017 at 6:38 pm
    Permalink

    Add a comment…کاکڑ صاحب کو بتائیں کہ عورت کو ایک حقیقت سمجھنا شروع کریں اب.. وہ انسان ہے.. اشرف المخلوقات کا ورد کرنے والے عورت کے لئے جانوروں اور پھلوں کی تشبیہات چھوڑ کر اسے اب ایک مکمل انسان کا مقام دیں..

    اسے یہ بھی بتائیں کہ پھل اگر زیادہ دیر چھلکے میں قید رکھے جائیں تو بُو پیدا کرنے لگتے ہیں اور برداشت کے قابل بھی نہیں رہتے..

Comments are closed.