معیشت تصادم نہیں چاہتی


\"\"وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے علاقائی ترقی کیلئے معاشی شعبہ میں تعاون، احترام اور پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر تتعلقات استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ باتیں انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں کہی ہیں۔ اس اجلاس میں وزیر خزانہ ، وزیر داخلہ کے علاوہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے شرکت کی۔ وزیراعظم کے امور خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ بھارت کے ساتھ تصادم کی صورتحال میں وزیراعظم پاکستان کی طرف سے یہ پیغام حکومت کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے کہ مذاکرات کے ذریعے متنازعہ امور کو حل کیا جائے۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت پاکستان کے ساتھ تصادم کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں بھارت نے پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان کو سفارتی لحاظ سے تنہا کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم دنیا کے بیشتر ممالک اگرچہ بھارت کے معاشی حجم کی وجہ سے اس کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں لیکن بھارت کا یہ موقف عام طور سے قبول نہیں کیا جاتا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے سارا قصور پاکستان پر عائد کیا جا سکتا ہے۔ نہ ہی دنیا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کو نظر انداز کر سکتی ہے۔ گزشتہ برس کی آخری ششماہی کے دوران مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی جدوجہد آزادی سے بدحواس ہو کر بھارت نے مسائل حل کرنے کی بجائے الزام تراشی اور کشیدگی بڑھانے پر زور دیا ہے۔

اس جارحانہ انداز سفارت و سیاست کے باوجود پاکستان نے مسلسل بردباری اور حوصلہ مندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ حتیٰ کہ جب گزشتہ ماہ کے شروع میں افغانستان میں امن و ترقیاتی منصوبوں کےلئے امرتسر میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس منعقد ہوئی تو پاکستان نے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کی قیادت میں وفد اس کانفرنس میں شرکت کےلئے بھیجا تھا۔ خیر سگالی کے اس جذبہ کا احترام کرنے کی بجائے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے خلاف جارحانہ انداز گفتگو اختیار کیا اور افغانستان کے علاوہ خطے کے تمام مسائل کی جڑ پاکستان کو قرار دینے کی کوشش کی۔ اس موقع پر بھی سرتاج عزیز نے واضح کیا تھا کہ مسائل کی ذمہ داری کسی ایک ملک پر ڈال کر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔ اس حوالے سے مل جل کر کام کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف سفارتی جنگ جوئی اور عملی تخریب کاری سے گریز کرنا سودمند ہوگا۔ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر مداخلت کرنے اور اپنے علاقوں میں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک اور اس مقصد کےلئے مسلح جدوجہد کرنے والے عناصر کی مدد کرتا ہے۔ جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت نے افغانستان میں پاکستان کے خلاف محاذ بنایا ہوا ہے اور اس راستے سے تخریب کاروں کو پاکستان روانہ کیا جاتا ہے۔

عالمی سطح پر اس بات کا ادراک موجود ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کی اکثریت بھارتی تسلط کے خلاف ہے اور اس وادی کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دینے کی پالیسی کو مسترد کرتی ہے۔ جولائی 2016 میں حریت پسند نوجوان لیڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والی تحریک کشمیری عوام کی اپنی تحریک تھی۔ اس میں پاکستان کی مداخلت کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن ستمبر میں اوڑی فوجی کیمپ پر حملہ کو عذر بنا کر بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا تھا اور سرحدوں پر صورتحال سنگین ہو گئی تھی۔ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں میں کئی درجن شہری باشندے اور فوجی جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بھارتی رائے عامہ کی تشفی کےلئے پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔ پاکستان نے اس دعویٰ کو مسترد کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ اس قسم کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ بھارت جھوٹا پروپیگنڈا کرکے اپنے عوام میں پاکستان دشمن جذبات کو ہوا دینے کی پالیسی پر عمل کر رہا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  ہماری صحافت زوال پذیر ہے!

اس کے علاوہ وزیراعظم نریندر مودی نے سندھ طاس معاہدہ کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیان دے کر صورتحال پیچیدہ اور سنگین بنانے کی کوشش کی ہے۔ وہ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ بھارت اس معاہدہ کو منسوخ کرکے دریاؤں کا زیادہ پانی بھارتی علاقے میں استعمال کرے گا۔ پاکستانی حصے کے دریاؤں پر ڈیم بنانے کے منصوبوں پر پاکستان نے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔ ورلڈ بینک اس معاہدہ کا ضامن ہے اور بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو ختم نہیں کر سکتا۔ لیکن دریا چونکہ بھارتی زیر انتظام علاقوں سے پاکستان کی طرف بہتے ہیں ، اس لئے وہ کسی بھی مرحلے پر پاکستان کےلئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا اندیشہ دنیا بھر کےلئے خطرے کی گھنٹی کے مترادف ہے۔ اب امریکہ نے سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحت کروانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

 اس دوران پاکستان اور چین کی طرف سے بھارت کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ چین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک کھلا منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد متعدد ملکوں کو باہم ملا کر سب کی بھلائی اور معاشی ترقی کےلئے نئے راستے تلاش کرنا ہے۔ اس منصوبہ کی اہمیت کے پیش نظر وسطی ایشیا کے کئی ممالک کے علاوہ سعودی عرب ، ایران اور روس بھی اس میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ علاقائی مواصلت کے ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بن کر بھارت اپنی تجارت کو بے حد فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اسی لئے بھارتی میڈیا نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سی پیک میں شرکت کی دعوت کو قبول کر لے۔ بھارتی حکومت نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ نئی دہلی اس حوالے سے واشنگٹن میں اس ماہ رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا منتظر ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ خارجہ پالیسیوں کے علاوہ دفاعی اور تجارتی حکمت عملی تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بھارت گزشتہ دہائی کے دوران بحر ہند اور بحر جنوبی چین میں چین کے خلاف تجارتی اور اسٹریٹجک حکمت عملی میں امریکہ کا مضبوط حلیف بن کر سامنے آیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ چین کی تجارتی حکمت عملی کے خلاف سخت رویہ رکھتے ہیں لیکن وہ یہ اشارے بھی دیتے رہے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں امریکہ توسیع پسندانہ پالیسیوں کو ترک کرکے امریکہ کی معاشی ترقی پر توجہ مبذول کرے گا۔ اگر صدر بننے کے بعد ٹرمپ اپنے اس دعوے کی تکمیل کی طرف بڑھتے ہیں تو بھارتی حکومت کو امریکہ کی طرف سے ویسی سرپرستی حاصل نہیں ہوگی جو گزشتہ چند برس میں دیکھنے میں آئی ہے۔ مودی سرکار ٹرمپ کی پالیسیوں کی روشنی میں ہی علاقے میں تعاون کے حوالے سے پالیسی ترتیب دے گی۔ اگر امریکہ بدستور بھارت کو چین کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کا درجہ دیتے ہوئے، تعاون و امداد کا سلسہ جاری رکھتا ہے تو بھارت بھی چین کے اشتراک سے بننے والے سی پیک منصوبے میں شامل ہونے کی بجائے، اسے ناکام بنانے کےلئے امریکی حکمت عملی کا حصہ بنے گا۔ بصورت دیگر اسے علاقے میں رونما ہونے والی اقتصادی تبدیلیوں کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔

اسی بارے میں: ۔  جنرل راحیل کی یقین دہانی، سی پیک اور جہادی گروہ

اس حوالے سے پاکستان کی پالیسی واضح ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کا تازہ بیان بھی ماضی قریب میں اختیار کئے گئے موقف کا تسلسل ہے۔ سی پیک پر اختلافات کے باوجود پاکستان کی سب سیاسی جماعتیں اسے پاکستان کی معیشت اور مستقبل کیےلئے فیصلہ کن سمجھتی ہیں۔ اسی طرح چین کےلئے بھی یہ مواصلاتی روٹ اس کے معاشی احیا اور بیرونی تجارت کےلئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ اور بھارت نے اگر اس منصوبہ کو ناکام بنانے کےلئے تخربی ہتھکنڈے اختیار کئے تو پاکستان اور چین کو پوری قوت سے ان کا جواب دینا پڑے گا۔ تاہم امریکہ میں ٹرمپ کی قیادت میں کارپوریٹ لیڈر اقتدار سنبھالنے والے ہیں۔ یہ طبقہ تصادم اور تخریب کاری کی بجائے تعاون اور مصالحت کے ذریعے آگے بڑھنے پر یقین رکھتا ہے۔ اس لئے یہ قیاس کرنا ممکن نہیں ہے کہ ٹرمپ کے دور حکومت میں امریکہ چین یا کسی بھی بیرونی طاقت کے خلاف عملی عسکری اقدامات کرنے کی پالیسی اختیار کرے گا۔ البتہ امریکہ چینی برآمدات پر محاصل میں اضافہ کی صورت میں دباؤ میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس صورت میں سی پیک کی تکمیل چینی تجارت اور برآمدات کےلئے مزید اہمیت اختیار کر جائے گی۔

اس تناظر میں نواز شریف کا بیان اور حکومت کی پالیسی حقیقت پسندانہ ہے۔ وہ تنازعات کو بڑھانے کی بجائے، اسے حل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ تاہم بھارت ابھی تک بدلتے ہوئے حالات میں پاکستان کی ضرورت اور کردار کو سمجھنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ 31 دسمبر کو بھارتی افواج کی کمان روایت سے گریز کرتے ہوئے اور دو سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کرکے جنرل بیپن راوت کے حوالے کی گئی ہے۔ یہ بھی بھارتی فوج کی روایت کے برعکس ہے کہ بھارتی فوج کے نئے سربراہ نے کمان سنبھالنے کے بعد انٹرویو اور بیان دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ گزشتہ تین روز کے دوران جنرل راوت نے پاکستان میں مزید سرجیکل اسٹرائیکس کرنے کے علاوہ چین اور پاکستان سے بیک وقت جنگ کرنے کی بھارتی صلاحیت کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ بیانات وقت کے تقاضوں اور تیزی سے تبدیل ہوتے علاقائی اور عالمی اشاریوں کے برعکس ہیں۔ سیاسی لیڈر اپنے حامیوں کی تشفی کےلئے تو ایسے بیان دیتے رہتے ہیں، لیکن فوج کے سربراہ کی طرف سے جنگ اور طاقت کے اظہار کی باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا۔ امید کرنی چاہئے کہ یہ بے وقت بیان جنرل راوت نے اچانک ترقی ملنے پر خوشی اور احسان مندی کے اظہار کےلئے دیئے ہیں۔ 12 لاکھ فوج کے سربراہ کے طور پر انہیں علم ہونا چاہئے کہ اب دنیا جنگوں اور مسلح تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی تباہ کاری میں بے پناہ اضافہ کی وجہ سے اب مسلح تصادم صرف تباہی کا پیغام ہو سکتا ہے۔

واشنگٹن میں دو ہفتے بعد ہونے والی تبدیلی کے بعد دنیا کی سیاست میں بے چینی اور اضطراب کا خاتمہ ممکن ہے۔ تب ہی بھارت کو بھی مسلسل تصادم اور الزام تراشی کی پالیسی کی بجائے مسائل کے مصالحانہ حل کےلئے راستے تلاش کرنے کی ضرورت محسوس ہوگی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 683 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali