پاکستانی میڈیا کا المیہ


\"\"

اگر آپ کی زندگی میں سکون، شانتی اور خوبصورتی ہے، کاروبار یا ملازمت میں کوئی ٹینشن نہیں، اولاد فرمانبردار ہے، بیوی یا شوہر (whichever is applicable) وفا شعار ہے، ہاتھ میں مناسب پیسے ہیں، خواہشات پوری کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی اور مجموعی طور پر راوی چین ہی چین لکھتا ہے تو کسی حسین شام اپنے بستر پر نیم دراز ہو کر ٹی وی آن کریں اور ریموٹ کنٹرول سے مختلف چینلز پر سیاسی ٹاک شو دیکھنا شروع کریں۔ فقط تین دن تک مسلسل شام سات سے گیارہ بجے تک یہ پروگرام دیکھنے کے بعد آپ کو یقین ہو جائے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال اس قدر مخدوش ہے کہ سیکورٹی گارڈ کے بغیر گھر سے باہر نکلنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے، معیشت اس قدر مخدوش ہو چکی ہے کہ چند ہی دنوں میں ہزار کا نوٹ ردی ہو جائے گا، خارجہ پالیسی اس قدر ناکام ہو چکی ہے کہ کسی وقت بھی پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دے کر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں اور تمام سرکاری ادارے اس قدر تباہ ہو چکے ہیں کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی تو کہیں شنوائی نہیں ہو سکتی۔ سو محض تین دن میں آپ کی کایا کلپ ہو سکتی ہے، آزمائش شرط ہے۔
یہ بحث بڑی دلچسپ ہے کہ پاکستانی میڈیا کے وہ چند عناصر جو آپے سے باہر ہو کرچنگھاڑتے پھنکارتے رہتے ہیں، کیا اُن کا تعلق پروفیشنل صحافیوں کی اُس کلاس سے ہے جو برسہا برس کی محنت کے بعد رپورٹر اور ایڈیٹر وغیرہ کی سیڑھیاں پھلانگ کر اینکر پرسن بنتے ہیں یا پھر جمہوریت کا نوحہ پڑھنے اور نظام کو اُلٹانے کی باتیں کرنے والے اینکرز کا تعلق صحافیوں کی اُس غیر پیشہ کھیپ سے ہے جو کسی صحافتی تربیت اور تجربے کے بغیر دوچار پروگراموں کی کامیاب ریٹنگ لینے کے نتیجے میں راتوں رات میڈیا اسٹار بن جاتے ہیں۔ جید صحافیوں کا موقف یہی ہے کہ میڈیا میں زیادہ تر خرابی کے ذمہ دار اصل میں یہ غیر سنجیدہ اور نان صحافی قسم کے اینکر ہیں جنہوں نے ٹی وی پر تماشا لگا رکھا ہے، انہیں ٹی وی کی چکاچوند نے وہ مقام دے دیا ہے جس کے وہ مستحق نہیں سو ایسی صورتحال میں وہ غیر جمہوری قوتوں کے آلہ کار بن کر اپنا چھابہ لگاتے ہیں اور آمریت کا چورن بیچنا شروع کر دیتے ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے میڈیا کو بدنام کر رکھا ہے اور اخلاقیات کی تمام حدود اور سیلف سنسر شپ کے ضابطوں کی دھجیاں اڑائی ہوئی ہیں۔ بظاہر اس موقف میں بڑی جان نظر آتی ہے کیونکہ سکہ بند صحافیوں کی اکثریت بہرحال اپنی تربیت اور تجربے کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے دائرہ کار میں رہ کر اور بڑی بہادری سے اپنا فریضہ انجام دیتی ہے اور بلاشبہ پاکستان جیسے ملک میں یہ کوئی آسان کام نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے اِن دوستوں کا یہ موقف حقیقت پر مبنی نہیں کیونکہ اگر آپ ان تمام اینکرز اور تجزیہ نگاروں کی فہرست بنائیں جو نظام الٹانے کی ترغیب دیتے ہیں اور روزانہ شام غریباں برپا کرتے ہیں تو معلوم ہوگا کہ زیادہ تر وہ ہیں جنہیں جید اور پروفیشنل صحافیوں کی کیٹیگری میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ آپ کاغذ پنسل ہاتھ میں پکڑیں اور ایک ایک کرکے پروگرام دیکھتے جائیں اور تمام تجزیہ نگاروں کے نام لکھتے جائیں، ممکن ہے اکا دکا ایسے نکل آئیں جو غیر پیشہ صحافی کے درجے میں آتے ہوں مگر اُن کا کیا کیجئے گا جو نوّے کی دہائی سے صحافت میں ہیں، اخبارات کے چیف رپورٹر اور مدیر رہ چکے ہیں اور آج انہی media ethicsکے پرخچے اڑا رہے ہیں جن کے ایک زمانے میں وہ سب سے بڑے پرچارک تھے۔ لیکن ساتھ ہی وہ پروفیشنل صحافی بھی ہیں جو بلا خوف و خطر نہایت ذمہ دارانہ انداز میں صحافت کر رہے ہیں، یقیناً یہ ہمارا سرمایہ ہیں۔
ہمارے میڈیا کے اس وقت تین مسائل ہیں۔ پہلا، کٹ تھروٹ کمپیٹیشن۔ سرمایہ داری کے اس نظام میں پروفیشنل صحافیوں کا مقابلہ اُن نوجوانوں سے ہے جو سیٹھ کے کہنے پر ریٹنگ کے لئے دہشت گردی میں مرنے والے بچے کی ماں سے یہ سوال بھی کر سکتے ہیں کہ آ پ اس وقت کیسا محسوس کر رہی ہیں! جب ریٹنگ کے لئے یہ نوجوان تماش بین قسم کے سیاست دانوں سے سولو انٹرویو کرتے ہیں اور اُ ن سے مغلظات اگلواتے ہیں تو لامحالہ جید صحافیوں کو بھی یہ کرنا پڑتا ہے جو بہرحال کوئی جواز نہیں کیونکہ بہت سے سینئر اینکرز نے یہ روش نہیں اپنائی اور اس کے باوجود اُن کا پروگرام دیکھا جاتا ہے۔ دوسرا المیہ ان لوگوں کا یہ ہے کہ پاکستان میں جب چینلز کی بھرمار ہوئی اور میڈیا کی طاقت میں اضافہ ہوا تو کچھ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہو گئی کہ وہ حکومتیں گرا اور بنا سکتے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے پروگراموں اور کالموں میں حکومت وقت کو یوں مشورے دیئے جیسے وزیر اعظم آئین کے تحت صدر کو مشورہ دیتا ہے جسے ماننا ضروری ہو۔ ان کا خیال تھا کہ اگر کسی نے اب حکومت کرنی ہے تو ہم سے مل کر اور پوچھ کر کرے ورنہ چلنے نہیں دیں گے،یہ غلط فہمی انہیں مہنگی پڑ گئی، حکومتیں ایسے نہیں چلا کرتیں، نتیجہ اس روش کا یہ نکلا کہ ان صحافیوں نے بھی انا کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہی راہ اپنا لی جو نان پروفیشنلز نے اپنا رکھی تھی اور اُن کا قبلہ درست کرتے کرتے اپنا قبلہ بھی بھول گئے۔ میڈیا کا تیسرا المیہ شہرت پسندی ہے۔ ہمارے چند بہترین تجزیہ نگار بھی وہ بیانیہ اپنا رہے ہیں جو بظاہر عوام میں مقبول ہوتا ہے جس میں نظام کو لتاڑا جاتا ہے، جمہوریت کو جعلی کہہ کر تمام خرابیو ں کی جڑ قرار دیا جاتا ہے اور پھر اسے الٹانے کی تدبیریں بتائی جاتی ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے کچھ حضرات اپنی ’’غیر جانبداری‘‘ قائم رکھنے پر بھی مصر نظر آتے ہیں اور پھر اس چکر میں وہ تمام سیاست دانوں کو بالترتیب گالیاں دیتے ہیں تاکہ غیر جانبداری کا تمغہ ان کے گلے میں ڈالا جا سکے۔ نظریات کی جنگ میں کوئی غیرجانبدار نہیں رہ سکتا، ہر باشعور انسان کی کوئی نہ کوئی پوزیشن ہوتی ہے، غیر جانبدار صرف کوئی بھینس ہو سکتی ہے، اور ہمارے یہ تجزیہ نگار بہرحال بھینس سے تو زیادہ با شعور ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  عبدالباسط نے بھارتی افسر کوپاکستانی صحافیوں سے بات چیت سے روکنے پر جھاڑ پلادی

(بشکریہ روزنامہ جنگ)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 150 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada