چار جنوری لب سی لینے کا دن ہے۔۔۔


 اسے مرے آج چھ سال ہو گئے، چھ سال ایک طویل عرصہ ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں گستاخ تھا، کچھ لوگوں نے کہا، محتاط لہجہ اختیار نہیں کیا۔ کچھ نے کہا، ناحق مارا گیا۔ اس کا قاتل اسی کے لوگوں کا دلدار ہے۔ ان ہی کا جن کے بیچ اس نے زندگی گزاری۔ ایک معاملہ سامنے آیا، اسے لگا وہ عورت مظلوم ہے اور اس کے خلاف اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے،ایک سبق وہ بھول چکا تھا کہ مظلوم کا ساتھ دینا جرم ہے۔ اسے عبرت کا نشان بنا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ جو کوئی اس مثال سے نہیں سیکھ سکا شیر بچوں نے ایک اور مثال سے معاملہ واضح کر دیا۔

راشد رحمان کو جانتے ہیں آپ؟ وہ ایک پسماندہ علاقے کے ہر مظلوم کی آواز تھا۔ جنید حفیظ نام کے ایک صاحب میڈیکل چھوڑ کر لٹریچر کے رسیا ہو گئے، فل برائٹ سکالر شپ پہ باہر بھی گئے۔ بس یہی ان کی غلطی تھی، باہر چلے گئے تھے تو واپس کیوں آ گئے؟ یونیورسٹی پالیٹیکس کو ایسا رنگ دیا گیا کہ جنید حفیظ آج تک جیل میں ہے۔ جو بوجھ سب نے اٹھانے سے انکار کر دیا وہ جنید کے بوڑھے والدین کو دیکھ کر راشد رحمان نے اٹھا لیا۔ اپنے کئے کی سزا ہر کوئی بھگتتا ہے سو راشد رحمان کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ انہیں اپنی کرموں کی سزا بھگتنا پڑی۔ ظالموں نے سر میں گولیاں ماریں تاکہ پیغام درست طریقے سے پہنچ جائے کہ ہمیں دماغ اور سوچنے سے نفرت ہے۔ پھر دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ اسی گلی میں قتل کے بعد ڈھول ڈھمکا بھی ہوا تاکہ جشن منایا جا سکے۔ آج ان لوگوں کے پاس وہ ایک آواز بھی نہیں رہی جس پہ وہ فخر کر سکیں۔

شہباز بھٹی کو بھول گئے ہیں ؟ شمع شہزاد کو بھول گئے ہیں ؟ یوحنا آباد کے سامنے جلائے جانے والے دو نوجوانوں کو بھول گئے ہیں؟ چلیں نبیل مسیح کا نام سنا ہے آپ لوگوں نے ؟ جنید جمشید کو جانتے ہیں؟ شان تاثیر اور عمران خان سے واقف ہیں؟ اگر نہیں جانتے تو خیر ہے آپ کے آرام میں کوئی خلل نہیں ڈال رہی، مگر ان میں سے ایک کو بھی جانتے ہیں، ایک بھی واقعے کا یا انسان کا احساس ہے تو آپ اس تکلیف کو سمجھ سکتے ہیں کہ چند بدتمیز نوجوان ایئر پورٹ پہ کسی پر حملہ آور ہو جائیں تو وہ کیسا تکلیف دہ منظر ہو گا۔ ایک افواہ پہ لوگ اکٹھے ہو جائیں اور بستیاں جلا ڈالیں بلکہ انسان بھی جلا ڈالیں تو ایسے لوگوں کے سامنے انسانیت بھی ہاتھ جوڑتی ہو گی کہ یار بس کر دو، یہ کس راہ پہ چل رہے ہو تم لوگ۔

بوسیدہ اوراق مسجد میں دے دیتے ہیں، جگہ نہیں تھی تو امام مسجد نے لڑکے کو بولا یہ جلا دو ہم انہیں کیسے سنبھالیں گے۔ بس پکڑے گئے اور توہین کا مقدمہ ان کا منتظر تھا۔ ایک مسیحی کے موبائل میں خانہ کعبہ کی تصویر سے لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھے تو اس پہ مقدمہ ہو گیا۔ پینافلیکس زمین پہ بچھا کر سونے والے غریبوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس پہ کچھ مقدس لکھا ہوا ہے جس کی توہین ہو رہی ہے۔ کہیں شرابیوں کی لڑائی، کہیں ذاتی رنجش، کہیں جائیداد کا تنازعہ تو کہیں رقم کا لین دین، حقیقت کو چھپانے کی خاطر فسانے کا رنگ دیتے ہیں اور وہ ایسے خطرناک رنگ ہیں کہ پھر خون کی ہولی سے کم پر بات نہیں رکتی۔

التجا ہے، خواہش ہے، درخواست ہے یا بلاوجہ سمجھانے کی خواہش ہے کہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں، اس نئے سال میں اس بات کا احساس کریں کہ یہ آگ ہے جو آپ کے اپنے گھر میں بھی لگ سکتی ہے اور آپ کا کوئی پیارا بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ایسی کسی آگ کو ہوا مت دیں، اپنی گفتگو سے اس پہ مٹی کا تیل نہ ڈالیں، ورنہ کم از کم اتنا ضرور یاد رکھیں کہ آگ پھیلتی ہے تو بلاتفریق سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، اس کا ایندھن کوئی بھی کبھی بھی بن سکتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسے معاملات میں خاموش رہنا چاہیئے تو پھر آپ خاموشی سے انشا جی کو پڑھیں، لب سی لیں، خاموش رہیں۔

کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ — کچھ نہ کہو، خاموش رہو

اے لوگو خاموش رہو — ہاں اے لوگو، خاموش رہو

سچ اچھا، پر اس کے جلو میں، زہر کا ہے اک پیالا بھی

پاگل ہو ؟ کیوں ناحق کو سقراط بنو، خاموش رہو

حق اچھا پر اس کے لئے کوئی اور مرے تو اور اچھا

تم بھی کوئی منصور ہو جو سولی پہ چڑھو؟ خاموش رہو

ان کا یہ کہنا سورج ہی دھرتی کے پھیرے کرتا ہے

سر آنکھوں پر، سورج ہی کو گھومنے دو، خاموش رہو

مجلس میں کچھ حبس ہے اور زنجیر کا آہن چبھتا ہے

پھر سوچو، ہاں پھر سوچو، ہاں پھر سوچو، خاموش رہو

گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں من میں کیا کیا موسم ہیں

اس بگیا کے بھید نہ کھولو، سیر کرو، خاموش رہو

آنکھیں موند منارے بیٹھو، من کے رکھو بند کواڑ

انشا جی، لو دھاگا لو اور لب سی لو، خاموش رہو


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “چار جنوری لب سی لینے کا دن ہے۔۔۔

  • 10-01-2017 at 4:10 pm
    Permalink

    بہت خوب محترمہ رامش فاطمہ!
    یک طرفہ رخ بڑی خوبصورتی سے دکھایا ہے آپ نے. یا تو آپ بہت بھولی ہیں یا پھر اسی مافیااشرافیہ کا حصہ.
    ویسے بائی دا وے آئی بی سی اردو میں شائع ہونے والی فرحان جمالوی کی تحریر بھی پڑھ لیں.
    اگر آپ کو لگتا ہے کہ ان لوگوں ہمدردیاں صرف پبلسٹی سٹنٹ نہیں ہوتی ہیں تو آپ جیسی بھولی خاتون کو میرا سلام.
    دل اور وہ بھی غریب اور مجبور کے لئے؟؟؟
    کس کوچے میں ڈھونڈ رہی ہیں آپ؟
    ویری گڈ

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *