آبی تنازعہ پر ثالثی کا عمل شروع، مارچ یا اپریل میں پاکستان، بھارت مذاکرات ہو سکتے ہیں: امریکہ


\"\"

واشنگٹن (ایجنسیاں) امریکہ نے مارچ کے آخری ہفتہ اور اپریل کے اوائل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات شروع ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی ہے کہ مسائل گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کے ساتھ ساتھ تجارت کو فروغ دینے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت کے ساتھ بات چیت کرنے کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کر رہی ہے۔ واشنگٹن میں برطانیہ سے شائع ہونے والے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی جنوبی ایشیا کی دو نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان کشیدگی اور تنائو کم کرنے اور انہیں میز پر لانے کے لئے درپردہ کوششیں جاری ہیں۔ خطے میں پیچیدہ اور اہم نوعیت کے مسائل ہیں تاہم پہلے خطے میں اعتماد سازی کو بحال کرنے کشیدگی اور تنائو کے ماحول کو کم کرنے اور نزدیک لانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں حکومت بدلنے اور انتطامیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہونے کے باوجود کشمیر کے بارے میں امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ نئی انتظامیہ کی بھی یہی کوشش رہے گی کہ اگر بھارت اور پاکستان کسی تیسرے ملک کو اپنے پیچیدہ اور دیرینہ مسائل حل کرنے کے لئے آگاہ کریں گے تو اس صورت حال میں ثالثی کی جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر دونوں ملکوں کی رضامندی کے بغیر کوئی بھی ملک پاکستان اور بھارت کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا تاہم دونوں ممالک کو اس بات پر آمادہ کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی کہ وہ اپنے مسائل کو پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ ترجمان نے اس بات کا بھی اعتراف کیا پچھلے تین برسوں سے بھارت پاکستان کے مابین تعلقات انتہائی کشیدہ ہوئے ہیں۔ سیاسی قیادتوں نے سنجیدگی کے ساتھ ماحول کو سازگار بنانے کی طرف توجہ نہیں دی۔ دونوں ممالک میں ایسی طاقتیں ہیں جو بہتر تعلقات نہیں چاہتیں تاہم ان طاقتوں کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے دعوت کا انتظار نہ کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری آبی تنازع کا پرامن حل تلاش کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا، دونوں ممالک کے درمیان جاری حالیہ تنازع 2 ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کشن گنگا اور رتلے کی تعمیر کے باعث سامنے آیا، بھارت یہ دونوں پلانٹس دریائے نیلم کے پانی پر تعمیر کررہا ہے، پاکستان کے مطابق سندھ طاس معاہدے میں اس طرح کے پلانٹس کی تعمیر سے متعلق مخصوص دائرہ کار طے ہے اور بھارت کے منصوبے اس طے شدہ دائرہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ٹیلی فون کرکے تنازع کے دوستانہ حل سے متعلق مختلف آپشنز پر بات کرچکے ہیں۔ فون کال کے بعد امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے بھی اسلام آباد میں اسحاق ڈار سے ملاقات میں تبادلہ خیال کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ اور ورلڈ بینک کی جانب سے تنازع کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے پیچھے یہ خدشہ موجود ہے کہ اگر یہ تنازع طول پکڑتا رہا تو نصف صدی سے دونوں ممالک کے آبی تنازع کو حل کرنے والا سندھ طاس معاہدہ متاثر ہوگا۔ واشنگٹن کے سفارتی مبصرین کا خیال ہے کہ چونکہ سندھ طاس معاہدے میں امریکہ کی جانب سے سہولت کار کا کردار ادا کیا گیا تھا لہذا وہ اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ دوسری جانب انڈس واٹر کمشنر نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے معاملے پر کہا ہے کہ ثالثی کیلئے امریکہ کی پیشرفت سے آگاہ ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کے کشن گنگا اور رتلے پن بجلی کے منصوبوں پر تحفظات ہیں، پاکستان اپنے تحفظات سے پہلے ہی عالمی بنک کو آگاہ کر چکا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔