قانونِ توہین مذہب کا پھندا اورشان تاثیر کی گردن


\"\"ایک سیکیورٹی گارڈ جسے گورنر پنجاب کی حفاظت پہ مامور کیا گیا تھا، اسی نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے سینے میں برسٹ اتاردیا۔ یہ ایک مقدمہ تھا جو اس محافظ نے خود اپنی بارگاہ عدل میں قائم کیا، خود فیصلہ سنایا اورخود اس فیصلے پر عمل درامد بھی کیا۔ دن دہاڑے کیے گئے جرم کے اس ارتکاب کو ممتاز قادری نے بخوشی قبول کیا۔ اصرار یہ ہے کہ ممتاز قادری نامی اس مجرم کو قاتل نہ پکارا جائے، اور یہ کہ اس کو پھانسی دینا گزشتہ برس کی سب سے بڑی زیادتی تھی۔

مرحوم سلمان تاثیر کا احساس یہ تھا کہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار ہماری مسیحی بہن آسیہ بی بی کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295 سی کا ناجائز استعمال ہو رہا ہے۔ چونکہ اس قانون کا ہمیشہ سے ناجائز استعمال ہوتا آیا ہے اس بنیاد پر سلمان تاثیر نے اسے کالا قانون کہا۔ قانون کو کالا قانون کہنے کے سبب سلمان تاثیر اہانتِ مذہب کے مرتکب قرار دیے گئے۔ دو سوال اٹھتے ہیں

1۔ ایک قانون کو کالا قانون کہہ دینے سے کوئی اہانتِ مذہب کا مرتکب ہوجاتا ہے؟

2۔ سلمان تاثیر کا اس قانون کو غلط قانون کہنا حقیقت پر مبنی تھا کہ نہیں۔؟

پہلے سوال پر تو خیر ہم کیا عرض کریں گے، جسٹس (ر) حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب سے رہنمائی لیتے ہیں کہ بیچ اس مسئلے کے وہ کیا فرماتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے ممتاز قادری کی پھانسی کے تین روز بعد بخاری کا درس دیتے ہوئے ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں سلمان تاثیر کیس کے حوالے سے جو گفتگو فرمائی وہ فلم کے فیتے پر محفوظ ہے۔ انہوں نے فرمایا

’’سلمان تاثیر نے جو لفظ کالا قانون کہا تھا وہ موقوف اس بات پر ہے کہ خود سلمان تاثیر کی اس سے مراد کیا ہے۔ سلمان تاثیر کے کہے کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔

الف: ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اہانتِ رسول سرے سے کوئی جرم ہی نہیں ہے۔ اگر یہ مطلب ہے تو پھر آپ سلمان تاثیر کو اہانتِ رسول کا مرتکب کہہ سکتے ہیں

ب: دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اہانت رسول جرم تو ہے، مگر اس کی سزا موت نہیں ہونی چاہیئے۔ اگر سلمان تاثیر کا مطلب یہی تھا تو وہ اہانتِ رسول کے مرتکب قرار نہیں دیے جا سکتے۔ اس واسطے کہ خود فقہہ حنفی بھی توہین مذہب کی سزا قتل نہیں سمجھتی

ج: تیسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے آئین میں توہین مذہب کا جو قانون دیا گیا ہے، اس میں کچھ ایسا سقم ہے کہ لوگ اس کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ اگر سلمان تاثیر کی مراد یہی تھی تو بھی وہ گستاخیِ رسول کے مرتکب قرار نہیں دیے جا سکتے۔

اب ان مختلف احتمالات میں سے سلمان تاثیر کی مراد کیا تھی یہ تو خود سلمان تاثیر ہی بتا سکتے ہیں۔ مجھے چونکہ اس واقعے کا ٹھیک طرح سے علم نہیں تو مجھے نہیں خبر کہ اس کے پہلو کیا ہیں‘‘

چلیے ہم مفتی تقی عثمانی صاحب کے اس عذر کو قبول کرتے ہیں کہ انہیں واقعے کا علم نہیں، چنانچہ وہ جانتے نہیں کہ سلمان تاثیر کی مراد اس سے کیا تھی۔ اس باب میں ہم مفتی تقی صاحب کی مدد کیے دیتے ہیں۔ بظاہرتو ایسا لگتا ہے جیسے اس پورے وقوعے میں سلمان تاثیر نے صرف ایک جملہ کہا۔ اس جملے سے پہلے گویا وہ سو رہے تھے اور اس جملے کے بعد وہ قوتِ گویائی سے محروم ہوچکے تھے۔ سچ یہ ہے کہ آسیہ مسیح سے ملاقات کے دوران کہے گئے ’’کالا قانون‘‘ والے جملے کے بعد انہوں نے اکیس سے زائد ٹی وی پروگرامات میں اس مصرعے کی تشریح میں پوری پوری غزلیں کہیں۔ جہاں جہاں ان کی مفصل گفتگو نشر ہوئی ان میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور مقامی ذرائع ابلاغ شامل ہیں۔ مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ہم ان کی گفتگو کا ایک ٹکڑا قارئین کی پیش گاہی میں رکھتے ہیں۔ یہ گفتگو انہوں نے نجی ٹی وی پر میزبان مہربخاری کے سوال کے جواب میں کی۔ سوال تھا کہ کیا آپ اہانت رسول کے حق میں ہیں۔؟ جواب ملاحظہ ہو

’’نعوذبااللہ نہ تو کوئی اس طرح سوچ سکتا ہے نہ اس طرف کسی کی سوچ جا بھی سکتی ہے۔ ہم تو ایک قانون کے بارے میں بات کر رہے ہیں کہ اگر اس کے اثرات غلط ہیں یا اس کو غلط استعمال کیا جارہا ہے تو بھئی اس پر نظر ثانی کی جائے۔ یہاں سارے مسلمان ہیں اگر کوئی مسلمان (رسالت مآب کے بارے میں) کوئی ایسی بات کرے تو وہ تو پاگل ہوگا۔ وہ تو مینٹل کیس ہوگا۔ آپ کیوں ایسا تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے میں کوئی توہین مذہب کے حق میں ہوں۔ میں بالکل نہیں ہوں۔ میں ضیا الحق کے قانون کے بارے میں بات کر رہا ہوں، اس کے اثرات ایسے ہیں کہ اس پر نظر ثانی کرنی چاہیئے‘‘

 سلمان تاثیر ہی کیا، اس قانون کی مخالفت کرنے والے ہم جیسے سبھی پاکستانی شہری یہی موقف رکھتے ہیں۔ اس موقف کا اظہار بیسیوں بار سلمان تاثیر نے کیا۔ سات اکتوبر 2015 کو جسٹس سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے یکم اکتوبر دوہزار گیارہ کو ممتاز قادری کو سنائی جانے والی سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اٹھائیس اکتوبر دو ہزار پندرہ کی سماعت میں جسٹس سعید کھوسہ نے فرمایا

’’قانون توہین مذہب میں تبدیلی یا اصلاح کا مطالبہ کرنا غلط نہیں ہے۔ اس بات کو سمجھنا چاہیئے کہ اس کا مقصد نامزد فرد کے خلاف اس قانون کے غلط استعمال سے روکنا ہے‘‘

کیا فاضل جج کے ریمارکس کسی بھی طور غیر آئینی غیر قانونی یا غیر منطقی ہیں۔؟ اور کیا سلمان تاثیر نے اس کے سوا کچھ فرمایا تھا۔؟ سب جانتے ہیں کہ شہرِ محرومِ تماشہ میں آئینے بیچنے والے نے کیا صدا لگائی تھی، مگر مشکل یہ ہے کہ عقابوں کا نشیمن پنڈی کے زاغوں کے تصرف میں آجائے تو وہاں کسی درویشِ خُم خانہِ الست کا نعرہِ مستانہ کوئی نہیں سنتا۔ اگر سنتے ہیں تو مفتی تقی عثمانی صاحب سے ایک شکوہ کرتا چلوں۔؟ آپ نے اپنی گفتگو میں مزید کہا

’’اب احتمال جو بھی ہو، لیکن اس میں شک نہیں کہ کہ اس شخص (ممتاز قادری) کا جذبہ بڑا نیک تھا۔ جذبہ تو یہی تھا کہ رسول ﷺ کی شان میں گستاخی ہوئی ہے لہذا میں اس کا بدلہ لوں گا۔ نیک جذبے کی وجہ سے اس شخص (ممتاز قادری) کے حق میں بھی نیک گمان رکھنا چاہیئے‘‘

اندازہ کرنا چاہیئے کہ جن علما کو اعتدال پسندی اور معقولیت کے درجے پر گمان کیا جاتا ہے وہ درس گاہوں میں بیٹھے طالب علموں کو کیا پڑھا اور سکھا رہے ہیں۔ یعنی محترم مفتی صاحب ہمیں یہ بتارہے ہیں کہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر اختر منشی اور اس کے گروہ نے جنید جمشید پر جو تشدد کیا تھا، اس تشدد کا اس لیے احترام کیا جائے کہ اختر منشی کا جذبہ نیک تھا۔ اور جذبہ یہ تھا کہ چونکہ جنید جمشید نے حضرت عائشہ کی شان میں گستاخی کی ہے، لہذا مجھے اس کا بدلہ لینا ہے۔ کیا مفتی صاحب نے اس کے علاوہ کچھ بیان کیا؟ اگر ہاں، تو خدارا میری رہنمائی کیجیے۔

یاد ہوگا کہ کالم کے آغاز پر سوال دو اٹھے تھے۔ ایک کی بات ہوگئی، دوسرے کی طرف آتے ہیں۔ سوال تھا کہ کیا سلمان تاثیر کا قانون توہین مذہب پر سوال اٹھانا حقیقت پر مبنی ہے کہ نہیں۔؟

ہمارا معاملہ جذباتی ہے اور ہماری ٹریفک یک رویہ ہے۔ ہم اذیت پسند ہوگئے ہیں۔ ہمارے دل رحم کے احساس سے عاری ہوگئے ہیں۔ علم کے نام پر ازبر کیے ہوئے نفرت انگیز انشائیوں نے ہماری آنکھوں میں خون اتار دیا ہے۔ قسم ہے اس وقت کی کہ جب سچ نے سلمان تاثیر کی زبان کا سہارا لیا تھا، ہمارا اجتماعی مزاج ظلم کی پوجا پر آیا ہے۔ ہم فرد جرم عائد کرتے ہیں، اپنے ہی اصول پامال کر کے کسی غریب کی جان لے لینا چاہتے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ اس ملک میں مذہب پر اصرار کرنے والے شہریوں کی اکثریت فقہ حنفی کی پیروی کرتی ہے۔ فقہ حنفی نے اہانت رسول کا مسئلہ ہمیشہ ارتداد کے باب میں بیان کیا ہے۔ گوکہ ارتداد کے حنفی تصور سے بھی ہم متفق نہیں، لیکن ایک حنفی پیروکار کو تو سوچنا چاہیئے کہ ارتداد کا کسی غیر مسلم سے کیا تعلق ہے۔ پھر یہ کہ فقہ حنفی ایک غیر مسلم گستاخِ رسول کی سزا قتل کیوں قرار نہیں دیتی؟ فقہ حنفی کیوں اصرار کرتی ہے کہ گستاخِ رسول اگر غیر مسلم ہے تو جج اپنی صوابدید پر سزا دے گا، اور یہ کہ سزا قتل کی ہر گز نہیں ہوگی۔ کوئی ابنِ مریم امام ابوحنیفہ کے پیکرخاکی میں روح پھونک کر پاکستان میں لاکھڑا کرے، تو بتلایئے دو سو پچانوے سی سے متعلق امام کا نقطہ نظر کیا سلمان تاثیر سے مختلف ہوگا۔ اگر نہیں ہوگا، اور ظاہر ہے کہ نہیں ہوگا، تو کیا کسی غیرت مند محافظ کی داڑھ امام کے لیے بھی گرم ہوگی۔؟ فقہ حنفی نے قتل کی سزا کو اس صورت میں لاگو رکھا ہے کہ جب توہین مذہب کا ارتکاب مسلمان نے کیا ہو۔ اس کلیے کو سامنے رکھیے، اور پھر ہمارے اخلاقی دیوالیہ پن کا جائزہ لینے کے لیے کچھ دیر میرے ساتھ مل کر رمشا مسیح کیس کے صفحات کھنگالیے۔ جانتا ہوں کہ بات طول پکڑ رہی ہے مگر کیا حرج ہے کہ اگر تاریخ کے دفتر میں اپنے حصے کی گواہی ہم ثبت کرتے چلیں۔

دوہزار بارہ کا سن ہے۔ ایک مسجد کا پیش امام مولوی خالد جدون نے الزام عائد کرتا ہے کہ رمشا نامی مسیحی لڑکی نے قرآن کے اوراق جلائے ہیں۔ کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں آیا۔ توہین مذہب کے مقدمے کے اندراج کے لیے گواہوں کی کبھی کمی نہیں پڑی۔ مولوی خالد جدون کو بھی گواہ مل گئے۔ خدا کا کرنا ہوا کہ خالد جدون کے قریبی ساتھی حافظ زبیر چلا آیا۔ حافظ زبیر نے جج کے روبرو بیان دیا

’’میں نے بقائمی ہوش و حواس اپنی ان دو آنکھوں سے دیکھا کہ مولوی خالد جدون نے کچھ جلے ہوئے اوراق میں خود اپنے ہاتھوں سے قرآن کے کچھ اوراق شامل کیے اور اسے بنیاد بناکر کچھ دوستوں کی مدد سے رمشا مسیح پر مقدمہ دائر کردیا‘‘

مولوی خالد جدون کے اپنے ہی قریبی ساتھی، جو حافظ قرآن تھا، کی اس گواہی کے بعد دل پر ہاتھ رکھ کر بتلایئے کہ گستاخیِ رسول کا مرتکب کون ہوا۔؟ مولوی خالد جدون ہوا نا؟ مولوی خالد جدون گرفتار ہوگیا۔ رمشا مسیح تو بری ہوچکی تھی، خالد جدون بھی چھ ماہ بعد بری ہوگیا۔ اب المیہ یہ ہے کہ فرزاندانِ توحید سوال اٹھاتے ہیں کہ رمشا مسیح کو عدالتوں نے زندہ کیوں چھوڑ دیا۔ حیران ہوں کہ یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ مولوی خالد جدون کو کیوں زندہ چھوڑ دیا گیا۔ یعنی انصاف کے تقاضے اپنی جگہ مگر کیا یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ فقہ حنفی پر اصرار کرنے والے اپنے مزاج میں داعش اور القاعدہ کے پیروکار کیوں بن جاتے ہیں؟ بس آپ نے خون بہانا ہے چاہے اس کے لیے امام ابو حنیفہ کو کوفہ کے کسی اجنبی قلعے میں بند کرنا پڑے۔؟ شاہانِ عرب کی خوشنودی کے لیے ابن تیمیہ کے مسلک پہ بنائے گئے جنرل ضیا کے قانون کو آپ صحیفہ آسمانی سمجھتے ہیں، سمجھتے رہیئے، مگر اتنا بتلادیں کہ فطرت کا کون سا درجہ اس شق کی تائید کرسکتا ہے کہ اگر ایک احمدی کسی مسلمان سے ملتے وقت ’’السلام علیکم‘‘ کہے تو اسے تین سال جیل ہوگی۔ کیا اسے اسلامی تعلیم کہ سکیں گے؟

بہرِ خدا، کچھ دیر رکیے۔ اطمینان کا سانس لیجیے۔ ہیجان سے باہر آیئے۔ کچھ گرد وپیش کا جائزہ لیجیے۔ دیکھیے کہ آپ کی غیرت ایمانی نے کتنی ماوں کو رلادیا ہے۔ انیس سو اٹھاسی سے اب تک توہین قرآن کے ڈیڑھ ہزار مقدمے قائم ہوچکے ہیں۔ توہین مذہب کے چار سو چوالیس مقدمے درج ہوچکے ہیں۔ ان میں دو سو اٹھاون مسلمانوں کے خلاف، ایک سو چودہ مسیحیوں کے خلاف، ستاون احمدیوں اور چار ہندووں کے خلاف درج ہوگئے ہیں۔ صرف انیس سو نوے سے اب تک باون افراد اسی الزام کی بنیاد پر ماورائے عدالت قتل کر دیے گئے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم سفاک ہوگئے ہیں۔ ہم الزام کا پھندا پہننے کے لیے اپنی گردن پیش کرتے ہیں مگر عدالت میں حال دل سنانے کی مہلت تو عطا کیجیے۔ کہنے کا حق تو عنایت کیجیے۔

آپ کی فقہ کہتی ہے کہ قتل کی سزا مسلم گستاخ کو ملے گی۔ اسے بھی اپنی بات سے رجوع کرنے کے لیے تین دن دیے جائیں گے۔ رجوع کرلے تو اس کا رستہ چھوڑ دیا جائے گا۔ آسیہ مسح غیر مسلم ہے، پھر اس نے کیمرے کی آنکھ کے سامنے الزام کو مسترد کیا۔ کہا کہ میں رسالت مآب کی اہانت کا تصور نہیں کر سکتی۔ مگر فقیہانِ شہر قمیص اتار کے کہتے ہیں کہ جج آسیہ کو لٹکانے کا حکم صادر کرے ورنہ ہم کفن باندھ کے نکلے ہیں۔ جنید حفیظ کا کیس جلتا انگارہ بن جاتا ہے۔ کوئی وکیل اسے اپنے ہتھیلی پہ رکھنا نہیں چاہتا۔ ملتان کا راشد رحمان جیسا انسان دوست یہ کیس لڑتا ہے۔ جج سماعت کو اگلی تاریخ تک ملتوی کرتا ہے تو مخالف وکیل جج کے سامنے کہتا ہے ’’اگلی سماعت پر راشد رحمن آئیں گے تو سماعت ہوگی نا‘‘۔ اگلی پیشی سے پہلے چیمبر میں گھس کر راشد رحمن کے سینے میں گولیاں اتاردی جاتی ہیں۔ جسٹس عارف اقبال بھٹی رحمت مسیح اور سلامت مسیح پر عائد توہین مذہب کے مقدمے کی سماعت فرماتے ہیں۔ مدعیوں کے پاس مطلوبہ ثبوت وشواہد نہیں ہوتے تو وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیمبر میں گھس کر جسٹس عارف اقبال بھٹی کو ہی خون میں تڑپا دیتے ہیں۔ منصور مسیح توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ہوتا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے لیے آتا ہے تو لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں اسے قتل کردیا جاتا ہے۔ تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم۔ یہ داستانِ الم کہاں تک سنائی جائے۔ دامن فریاد کہاں پھیلایا جائے۔

اب کے نشانے پہ شان تاثیر ہیں۔ جہاں عمران خان کی گردن ناپی جائے وہاں شان تاثیر جیسے ایرے غیرے پچ کلیان کیا بیچتے ہیں۔ شان تاثیر کا جرم کیا ہے۔ اس نے ایک بات کہی ہے

’’جنرل ضیا کا یہ قانون غیر انسانی قانون ہے‘‘

اس قانون کے گرد گھومتی ہوئی خونریز تاریخ پر ایک نظر کیجیے۔ پھر انصاف سے بتلایئے کہ شان تاثیر نامی نوجوان نے غلط کیا کہا ہے؟ امکان بہت کم سہی، ایک گمان کر لینے میں حرج ہی کیا ہے کہ شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “قانونِ توہین مذہب کا پھندا اورشان تاثیر کی گردن

  • 04-01-2017 at 3:38 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر فرنود صاحب ۔ سدا خوش رہیں

  • 05-01-2017 at 11:29 pm
    Permalink

    Maza agyaparh k
    Kia kren ab jism k bal khray nai hoty zulm ki dastanen parh k. Ab to koi awaz SUNY jismen shiddat pasandi ki dhaar na ho ya insaniat kelie Dard ho to khushi or Herat s jism k Bal khry hojaty hen

  • 09-01-2017 at 12:26 pm
    Permalink

    Good column

Comments are closed.