نوجوانوں کی بڑھتی آبادی، اثاثہ یا ٹائم بم؟


\"\"گزشتہ ہفتوں مجھے ’پاکستان کے مستقبل ‘ کے عنوان سے لندن میں مختلف کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا۔ ان کانفرنسوں کا موضوع ایک طرف تو پاکستان میں تنقیدی فکر اور اظہار رائے کی آزادی کے لئے کم ہوتی گنجایش اور معاشرے کی منسلکہ عسکریت سازی(Militarisation)  تھا۔ دوسری طرف جمہوری استحکام اور ملکی معیشت کی بہتر ہوتی صورتحال زیر بحث آئے۔ شرکاءنے ایک خوشحال اور پُر امن مستقبل کے لئے ریاست کی موجودہ سمت کو بدلنے پر زور دیا۔ اگرچہ یہ کانفرنس بہت مفید اور معلوماتی تھیں لیکن ان کانفرنسوں اور ان جیسے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے دیگر مباحثوں میں ایک اہم نکتہ غائب ہے اور وہ نکتہ ہے،پاکستان میں نوجوانوں کی بڑھتی آبادی اور ان کے ملکی مستقبل کےلئے مضمرات۔

پاکستان کا شمار آبادی کے لحاظ سے دنیا کے نوجوان ترین/ کم عمر ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا دو تہائی حصہ 30 سال سے کم عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ نوجوان، جن کی عمریں 14 اور 30 سال کے درمیان ہیں، کل آبادی کا 30 فیصد ہیں۔ دنیا میں بہت کم ایسے ممالک ہیں جن میں نوجوانوں کا کل آبادی میں تناسب 30 فیصد یا اس سے زیادہ ہو۔ آبادیات کے محققین اور طالبعلموں کی زبان میں ملکی آبادی میں نوجوانوں کے زیادہ تناسب (20فیصد یا اس سے زیادہ) کو\’Youth Bulge\’ کہتے ہیں۔ یوتھ بلج کسی معاشرے کے آبادیاتی تغیر میں ایسے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں ایک ملک بچوں کی شرح اموات\’Infant Mortality Rate\’  کو کم /قابو کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے لیکن شرح افزائش(Fertility Rates) پھر بھی نسبتاً بلند رہتا ہے۔ نتیجتاً بچوں اور نوجوانوں کی آبادی بڑھ جاتی ہے۔

یوتھ بلج کسی ملک کےلئے رحمت اور زحمت دونوں ثابت ہو سکتا ہے۔ یوتھ بلج کسی ملک کے لئے نفع اور نقصان دونوں کا باعث ہو سکتا ہے۔ جس ملک میں یوتھ بلج ہو وہاں محنت کش افراد کی آبادی (Working age population)  میں اضافہ ہو جاتا ہے اور شرح انحصاری کم ہوتا جاتا ہے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد افرادی منڈی (Labour Market)  کا حصہ بن جاتا ہے۔ اب اگر افرادی منڈی ان نئے افراد کو کامیابی سے جذب کر لیتی ہے اور ان نوجوانوں کو بامعنی روزگار مل جاتا ہے تو اس سے فی کس آمدنی بڑھے گی اور معیشت میں بہتری آئے گی۔ آبادیات کے زبان میں اس کو\’Demographic Dividend\’  کہتے ہیں۔ لیکن اگر افرادی منڈی ان نئے نوجوانوں کو معنی خیز اور مفید پیداواری مواقع فراہم کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار \’Under employed\’  رہتی ہے تو پھر یوتھ بلج رحمت کی بجائے زحمت بن جائے گا۔ اور ناخواندہ، غیر ہنر مند اور بے روزگار نوجوانوں کی اکثریت پر مشتمل یوتھ بلج ایک وقتی بم\’Time Bomb\’  بن جائے گا۔

کیا پاکستان کا یوتھ بلج ترقی یا تباہی کا باعث بنے گا؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کےلئے ہمیں پاکستان کے انسانی سرمایہ کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینا چاہئے۔ نوجوانوں کی خواندگی، ہنر اور شہری و سیاسی شعور کا حال ہی میں نوجوانوں کی ترقی کا عالمی انڈیکس شائع ہوا۔ یہ انڈیکس تعلیم، صحت، روزگار اور شہری و سیاسی شرکت /شمولیت کے شعبوں میں نوجوانوں کو میسر مواقعوں کی بنیاد پر ملکوں کی درجہ بندی کرتا ہے۔ دنیا کے 183 ممالک میں سے پاکستان ایک مایوس کن 154ویں پوزیشن پر براجمان ہے۔ پاکستان کی کارکردگی افغانستان کے علاوہ تمام پڑوسی اور علاقائی ممالک جن میں بھارت، ایران، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان وغیرہ شامل ہیں، سے بدتر ہے۔ مزید یہ کہ پچھلے 5 سال میں نوجوانوں کی ترقی کے مجموعی اسکور میں دنیا میں سب سے زیادہ زوال پاکستان کے اسکور میں آیا ہے۔ انڈیکس میں شامل اعدادو شمار کی خامیاں اور طریقہ کار کی پیچیدگیاں مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے اشاریے انسانی ترقی جیسے وسیع اور کثیر الجہتی موضوع پر حرف آخر نہیں ہوتے۔ لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کہ ان کے باوجود انسانی ترقی کے یہ انڈیکس ملکی سطح کی صورتحال کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ نوجوانوں کے عالمی انڈیکس میں پاکستان کی ناقص کارکردگی کی وجہ تعلیم، مالیاتی شمولیت(Financial Inclusion) اور سیاسی شرکت کے شعبوں میں اس کے برے اسکور کی وجہ سے ہے۔ ہمسایہ اور ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں پاکستان خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں پیچھے ہے۔ شعبہ تعلیم میں پاکستان کا اسکور افغانستان کے علاوہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک سے بدتر ہے۔ مثلاً پاکستان کی شرح اندراج برائے سیکنڈری اسکول صرف 42فیصد ہے۔ جبکہ اسکے مقابلے میں جنوبی ایشیا اور Sub-Saharan افریقہ کا شرح اندراج بالترتیب 68 اور 47 فیصد ہے یعنی پاکستان میں سیکنڈری اسکول کا شرح اندراج افریقہ سے بھی کم ہے۔

اگرچہ پاکستان کی ناقص کارکردگی کی متعدد وجوہات ہیں۔ دو وجوہات سب سے اہم ہیں۔ پہلی وجہ پاکستان کی ناقص ترقیاتی اپروچ (Development Approach) ہے۔ ہم نے روایتی طور پر جسمانی انفراسٹرکچر(Physical Infrastructure)   میں سرمایہ کاری کو انسانی اثاثہ کی ترقی پر فوقیت دی ہے۔ تاریخی طور پر ہم نے انسانی سرمایہ کی ترقی کو کبھی ترجیح ہی نہیں دی۔ جی۔ڈی۔پی (GDP) کے تناسب کے طور پر تعلیمی اخراجات کے لحاظ سے پاکستان آج بھی جنوبی ایشیا میں سب سے نچلے درجے پر ہے۔ ہمارے انسانی سرمایہ کی اسی بری حالت کی وجہ سے ہم پائیدار اقتصادی ترقی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اگرچہ کئی بار ملکی سطح پر ہم قلیل مدت کےلئے ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے ہیں مگر اس ترقی اور خوشحالی کو پائیدار بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نوجوانوں کی ترقی کی بری حالت کی دوسری اہم وجہ سیاست سے نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی مایوسی اور بد ظن ہونا ہے۔ اس بدظنی اور عدم دلچسپی نے نہ صرف سیاسیLegitimacy  کے سنگین بحرانوں کو جنم دیا ہے بلکہ نوجوانوں کو سیاسی اور ترقیاتی مباحثوں (Discourse) کے کناروں کی طرف دھکیل دیا ہے۔ کئی انفرادی اور ساختی عوامل نوجوانوں کی سیاسی بد ظنی اور عدم دلچسپی کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان میں نمایاں عوامل یہ ہیں۔ روایتی سیاست سے مایوسی، خاندانی سیاست کا راج اور نئے لوگوں کا سیاست میں داخلے کےلئے رکاوٹیں، شہری ناخواندگی اور نظریاتی سیاست کا زوال۔ اس کے علاوہ طلبا اور مزدوروں کی یونین جو نئی قیادت اور تنقیدی سیاسی سوچ و فکر کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھیں، ان کا زوال بھی اس کا سبب بنا ہے۔

آج بھی پاکستان میں نوجوانوں کو سیاسی طور پر ایک بے بس حلقہ سمجھا جاتا ہے جس کو سیاستدان آرام سے نظر انداز کر سکتے ہیں۔ اگرچہ سیاسی میدان میں پاکستان تحریک انصاف کی دھماکے دار انٹری نے عارضی طور پر نوجوانوں کو سیاسی مباحثے اور میدان کا مرکزی کردار بنایا اور سیاست سے نوجوانوں کی بدظنی کے رجحان کو جزوی طور پر ختم کیا۔ لیکن یہ سیاسی جماعتوں اور قیادت کی نوجوانوں کی طرف سوچ میں کوئی معنی خیز اور نمایاں تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ 18ویں ترمیم نے نوجوانوں کے معاملات کو صوبائی حکومتوں کے سپرد کیا۔ نومبر 2016 تک پنجاب کے علاوہ باقی کوئی صوبہ ابھی تک اپنی Youth Policy ہی تشکیل نہیں دے سکا۔ نوجوانوں کی ترقی کےلئے نئے اسکیم اور پراجیکٹ تو دور کی بات ہے۔

اگر ہم آنے والے برسوں میں بھی موجودہ راستے پر گامزن رہتے ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہمارا یوتھ بلج ایک وقتی بم بن کے ہمیں تباہی کی طرف دھکیل دے۔ بے روزگار، ناخواندہ اور مایوس نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سماجی اور سیاسی عدم استحکام کا ایک بدترین نسخہ ہے۔

ان حالات میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ابھی سارا پانی سر سے نہیں گزرا۔ ہمارے پاس اپنی ترجیحات درست کرنے اور ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا اب بھی وقت ہے۔ ہماری موجودہ آبادیاتی ساخت، جس میں نوجوان آبادی کا بڑا تناسب ہیں، تقریباً مزید تین دھائیوں کے لئے برقرار رہے گا۔

2045 میں شرح انحصاری کم ترین سطح پر پہنچ جائے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ 2045 کے بعد محنت کش افرادی قوت کے تناسب میں کمی اور بوڑھے عمر افراد کے تناسب میں اضافہ ہو گا۔ ان سب اعداد و شمار کا نتیجہ یہ ہے کہ اگلی تین دہائیوں میں نوجوان افرادی قوت کا حصہ بننے والے ہیں۔ ان کو معیاری تعلیم اور اچھے روزگار کے مواقع فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔ خاص طور خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کو یقینی بنانا اہم ہے۔ اگر ہم یہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر یوتھ بلج کے\’Demographic Dividend\’ میں تبدیل ہونے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

رفیع اللہ کاکڑ کی دیگر تحریریں
رفیع اللہ کاکڑ کی دیگر تحریریں

One thought on “نوجوانوں کی بڑھتی آبادی، اثاثہ یا ٹائم بم؟

  • 10-01-2017 at 2:20 am
    Permalink

    …Great job bro this is our main problam …

Comments are closed.