بھٹو شہید کی برسی پر چند سوالات



\"\"بھٹو شہید کی بیسویں برسی میرے لیے امید اور رجائیت کا پیغام لے کر آئی ہے۔ امید کا یہ پیغام مجھے جناب مجیب الرحمن شامی کی اس تحریر سے ملا ہے جو انہوں نے آج کے دن کی مناسبت سے شائع کی ہے۔ شامی صاحب ان صحافیوں میں سے ایک ہیں جن کے ہاں بھٹو صاحب کے بارے میں تلخی کا جواز موجود ہے۔ شامی صاحب کو بھی بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار میں آزادی رائے کے ”جرم“ میں قید و بند کے مراحل سے گزرنا پڑا تھا۔ اس لیے قدرتی طور پر وہ بھٹو صاحب سے شدید نفرت میں مبتلا صحافیوں کے گروہ میں نمایاں رہے ہیں۔ بھٹو صاحب اپنی افتاد طبع سے مجبور ہو کر بعض اوقات انتقام کے جدبات سے اندھے ہو جایا کرتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ انتقام کا نشانہ بننے والے بھی ان کی خوبیوں کی تحسین سے دیوانگی کی حد تک انکاری ہو جایا کرتے تھے۔ اندھی محبت اور احمقانہ نفرت کی ان دو انتہاﺅں پر کھڑے دوستوں اور دشمنوں کے جذباتی رویہ نے اب تک قومی سطح پر بھٹو صاحب کے فکری اور سیاسی کمالات کو درست تناظر میں سمجھنے کی فضا پیدا نہیں ہونے دی۔ شامی صاحب کی تحریر بعنوان ”بھٹو مرحوم کی یاد میں“ پڑھ کر مجھے خوشی ہوئی۔ شامی صاحب کا یہ متوازن اور عادلانہ اندازِ نظر بھٹو شہید ہی نہیں بلکہ ضیاءالحق شہید ہر دو کے ادوار حکومت کا کھوٹا کھرا پرکھنے میں عام ہو جائے تو ہم اپنی تاریخ کو سمجھنے کے قابل بھی ہو سکیں گے اور ماصی قریب کی تاریخی غلطیوں کو بار بار دہرانے سے بھی بچ جائیں گے۔ شامی صاحب کیا خوب لکھا ہے کہ:
” آج جب کہ وہ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں میں سوچتا ہوں کہ ان کی ذات پر تنازع کھڑا کرنے کی کوئی ضرور ت نہیں۔ وہ اپنی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ اپنے رب کے حضور پیش ہو چکے ہیں۔ بہت سے واقعات کی شہادت ہے کہ ان کے سینے میں ایک ”مسلم قوم پرست“ کا دل دھڑکتا تھا۔ وہ کشمیر کو حاصل کرنے کے لیے بے تاب تھے۔ بھارت سے ہزار سال تک جنگ بھی لڑنا چاہتے تھے۔ پاکستان دو لخت ہوا تو ان کی بے تدبیری کا بھی اس میں دخل تھا۔ اسے تجزیے یا انداز کی غلطی بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بہرحال نئے پاکستان کو مستحکم کرنے میں ان کی ذات کام آئی۔ وہ مغربی پاکستان کے تمام صوبوں میں مقبول تھے۔ ان کی جڑیں پشاور سے لے کر کراچی تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ان کی بدولت علیحدگی پسندوں کے حوصلے پست ہوئے اور علاقائی قیادتیں سمٹنے پر مجبور ہوئیں۔ انہوں نے 73ءکے دستور کی بنیاد اتفاق رائے کو بنایا اور ایک ماہر سیاست دان کے طور پر پتے کھیل کر جماعت اسلامی سے لے کر نیشنل عوامی پارٹی تک کے دستخط حاصل کر لیے۔“
بھٹو شہید کے سیاسی تدبر اور سیاسی عمل پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے جناب مجیب الرحمن شامی اعتراف کرتے ہیں کہ:
”بھٹو صاحب کا ایک اور کارنامہ ایٹمی پروگرام کا آغاز تھا۔ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی سائنسدانوں کو ایٹم بم بنانے کا ہدف دیا اور اس کے لیے آسمان سے تارے توڑ کر لائے۔ شملہ معاہدہ بھی ان کا کمال تھا۔ انتہائی کٹھن اور مشکل حالات میں وہ کشمیر سے دستبرداری کا اعلان کرنے پر تیار نہیںہوئے ۔کشمیر کی متنازعہ حیثیت برقرار رہی۔“
اس غیر جانبدارانہ اور بے لاگ تجزیے کو پڑھ کر میرے ذہن میں جو پہلا سوال پیدا ہوا وہ یہ ہے کہ جس شخص نے ہماری قومی زندگی میں انتہائی نامساعد حالات میں بھی اتنے بہت سے کارنامے سرانجام دیئے ہیں اسے دار و رسن کے مراحل سے کیو ں گزرنا پڑا؟…. چلئے اگر ہم غلطی سے ایسا کر بیٹھے تھے تو آج اس کی شہادت پر بیس برس گزرنے کے بعد بھی ہمارے قومی پریس میں اس کی شحصیت اور کارناموں پر مضامین اشتہارات کی صورت میں کیوں شائع ہوئے ہیں؟ کیا ہمارے بڑے بڑے اور بے حد و حساب امیر اخبارات اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ ہمارے اس قومی ہیرو کی یاد میں کرائے کے سپاہی کی بجائے قومی ضمیر کے ایثار پیشہ نگہبان کا کردار سرانجام دیں؟
ان سوالات سے بڑا اور تلخ تر سوال یہ ہے کہ جس شخص کو مجیب الرحمن شامی کے سے نامور اسلام پسند نے بھی ”مسلمان قوم پرست“ تسلیم کیا ہے اسے اقتدار سے ہٹانے کی خاطر اسلام کے نام پر تحریک کیوں چلائی گئی؟…. پھر اسے صرف اقتدار ہی سے نہیں بلکہ زندگی سے بھی رخصت کر دینے کے بعد نظام مصطفی کے نفاذ کی وہ تحریک ہمارے قومی منظر سے غائب کیوں ہو گئی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے دینی اور سیاسی رہنما جان بوجھ کر یا بے جانے بوجھے غیروں کے مفادات کی آبیاری کی دھن میں اپنے قومی اور ملی مفادات کو پامال کرنے میں سرگرم عمل تھے اور شاعر کے اس قول کو سچ کر دکھانے میں کوشاں:
اب صاحب انصاف ہے خود طالب انصاف
مہر اس کی ہے، میزان بدست دگراں ہے
(فیض)
بھٹو شہید ہمارے ان دانشوروں میں سرِفہرست تھے جنہیں آزادی کے موہوم ہونے کا شدید احساس تھا اور وہ پاکستان ہی نہیں تیسری دنیا کے بہت سے ملکوں کی موہوم آزادی کو ظاہر کی آنکھ سے نظر نہ آنے والی زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتے تھے اور صرف دیکھتے ہی نہیں تھے بلکہ انہیں توڑ پھینکنے میں سرگرمِ عمل تھے۔ ان کی کتاب بعنوان ”فریب آزادی “ (The myth of independence)اس موضوع پر اہم ترین سیاسی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج بھارت اور پاکستان جن نظر نہ آنے والی زنجیروں میں اسیر کر کے مداکرات کی میز پر لا بٹھائے گئے ہیں، ان کا خیال کرتا ہوں تو جی چاہتا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو سمیت اپنے تمام سیاستدانوںسے التجا کروں کہ وہ ایک مرتبہ پھر یہ کتاب پڑھ ڈالیں اور زیادہ نہیں تو اس کے صرف ایک فقرے کا مطلب سمجھ لیں۔ بھٹو شہید نے پاکستان پر بھارت کی بالادستی تسلیم کرنے کے لیے امریکی دباﺅ کے حوالے سے کہہ رکھا ہے کہ:
”دباﺅ ایک کیڑا ہے اسے آپ آگے بڑھ کر پاﺅں کے نیچے کچل سکتے ہیں لیکن اگر آپ دباﺅ کے اس کیڑے کے سامنے ٹھٹھک کر کھڑے ہو گئے تو پھر یہی حقیر کیڑا راکشس (Monster) بن جائے گا۔“
ذرا غور کیجئے اور بتائیے کہ اگر اس وقت ہم اس کیڑے سے ٹھٹھک کر کھڑے ہو گئے ہیں تو پھر اس کا انجام کیا ہوگا؟

اسی بارے میں: ۔  آبشار: نئے ناولوں کی صف بندی


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔