الطاف حسین خطاب کریں گے



\"\"متحدہ قومی موومنٹ جسے الیکٹرانک میڈیا پر آج کل ایم کیو ایم لندن کے نام سے جانا جاتا ہے کے کنوینر ندیم نصرت نے ایک ٹیلی فونک پریس کانفرنس کے دوران یہ بتایا کہ رواں ماہ کی اکیس تاریخ کو ان کی جماعت یعنی متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر اچانک نمودار ہونے والی پارٹی پاکستان قومی موومنٹ کے اشتراک سے کراچی میں استحکامِ پاکستان ریلی نکالی جائے گی۔ اس ریلی سے قائد ایم کیو ایم الطاف حسین خطاب کریں گے۔ یہ تو کنوینر ایم کیو ایم کا بیان تھا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رواں سال کے آغاز میں ہی الطاف حسین کی پاکستانی سیاست میں واپسی کی خبر کیا واقعی اہم خبر ہے اور اس کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں۔ 2013 ءکے عام انتخابات کے بعد سے ایم کیو ایم مسلسل مسائل سے دوچار ہے۔ گذشتہ تین برسوں کے دوران ایم کیو ایم کو چھاپوں، گرفتاریوں اور دورانِ حراست کارکنوں کی ہلاکت جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ گذشتہ برس 22 اگست کو لگائے جانے والے پاکستان مخالف نعروں کے نتیجے میں ایم کیو ایم کے دفاتر کو مسمار کیا گیا اور متعدد رہنماوں و کارکنوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ 22 اگست کی رات ہر محب وطن پاکستانی کے لئے ایک تکلیف دہ رات تھی۔ خصوصاَ کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں کی عوام کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا تھا۔ دوسرے ہی روز ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے چند رفقا کی ڈرامائی انداز میں رہائی اور قیادت سے لاتعلقی کے اعلان کے بعد ایک نئی ایم کیو ایم وجود میں آگئی۔ جو فاروق ستار کے بقول وہی پرانی ایم کیو ایم ہے اور وہ ایم کیو ایم پاکستان کے نام سے رجسٹرڈ ہے جسے ایم کیو ایم کے بانی نے فاروق ستار پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی تنظیم کو ان کے نام پر رجسٹرڈ کروایا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی باپ اپنی زندگی میں ہی اپنی جائیداد کسی سمجھ دار بیٹے کے نام کردیتا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کتنے سمجھ دار ہیں اور کتنے ناسمجھ ہیں اس بات کا فیصلہ شاید رواں برس ہی ہوجائے گا اور آئندہ برس عام انتخابات میں عوام کا فیصلہ بھی آجائے گا۔ کوئی سائنس دان اگر حب الوطنی کو پرکھنے کا آلہ ایجاد کرلیتا تو اس کی فروخت شاید ہمارے ملک میں سب سے زیادہ ہوتی۔ کون کافر، کون مسلمان، کون غدار، کون محب وطن یہ سوالات ہمارے پسندیدہ سوالات ہیں۔ یہ سوالات جو بھی اٹھاتا ہے ان کے جواب بھی وہ خود ہی دے دیتا ہے کسی سے پوچھنے کی زحمت بھی نہیں کرتا۔ ندیم نصرت کا مذکورہ پریس کانفرنس کے لئے کراچی کی بجائے اسلام آباد کا نتخاب بھی ایک اہم سوال ہے۔ اس پریس کانفرنس کے وقت اور مقام کو بھی مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ قبل ہی تبدیل کردیا گیا تھا۔ ایم کیو ایم کے موقف کے مطابق مطلوبہ مقام پر پریس کانفرنس کی اجازت نہیں دی جارہی تھی جس کی وجہ سے اس کا وقت اور مقام تبدیل کیا گیا۔ یہ بات غور طلب ہے کہ اسلام آباد میں کی جانے والی پریس کانفرنس میں استحکامِ پاکستان ریلی کا اعلان کیا گیا جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کے طاقتور حلقوں کی ایم کیو ایم سے متعلق حکمتِ عملی تبدیل ہونے جارہی ہے۔

الطاف حسین کراچی کی ایک سیاسی حقیقت کا نام ہے۔ ایسی حقیقت جو سات سمندر پار ہونے کے باوجود آج بھی کراچی میں کبھی بھی کہیں بھی ظاہر ہوجاتی ہے۔ جس کا مظاہرہ گذشتہ ماہ کراچی کے لیاقت علی خان چوک پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں لہرائے جانے والے جھنڈے سے بھی کیا گیا تھا اور فاروق ستار کی ایم کیو ایم پاکستان کے جلسے میں الطاف حسین کے حق میں لگنے والے نعرے بھی یہ اشارہ دے رہے تھے کہ محض سٹیج پر موجود افراد بانی ایم کیو ایم سے لاتعلق ہیں جبکہ حاضرینِ جلسہ تعلق کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان مخالف نعرے بھی لگتے رہے ہیں اور بدقسمتی سے یہ ملک دو لخت بھی ہوا۔ پاکستان مخالف بیانات اور ریاستی اداروں کے لئے نازیبا الفاظ کا استعمال بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کی جانب سے ہوتا رہا ہے۔ کالعدم تنظیمیں ریاست کے اندر ریاست کا کردار ادا کرتی رہیں۔ بہت سے لوگ استدلال کے ساتھ پاکستان مخالف بیانات پر قائم بھی رہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص یا جماعت اپنی غلطی پر نادم ہے اور آج بھی اپنے آپ کو پاکستانی ثابت کرتے ہوئے استحکامِ پاکستان ریلی نکالنے کا اعلان کر رہا ہے اور طاقتور حلقے اس معاملے پر محض خاموشی بھی اختیار کرلیتے ہیں تو کراچی کی سیاست میں یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔