مذہبی معاشرے کی کہانی


ajmal shabbirاس نے کہا کوئی مذہبی معاشرہ لوگوں کو عقل مند، باشعور، روشن خیال اور فطری روحانی شکل میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ یہ بات تمام مذہبی معاشروں کے مفاد کے خلاف جاتی ہے۔ انسان باشعور اور عقل مند ہو جائے تو مذہبی معاشرے کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ مغربی دنیا کے کچھ معاشروں میں ایسا ہوا ہے کہ انسان اتنا باشعور اور حقیقت پسند ہو گیا ہے کہ اس نے خیالی نظریات کو ہمیشہ کے لئے ترک کردیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر انسان باشعور اور حقیقت پسند ہو جائے تو اس کا استحصال کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ غیر مذہبی انسان ذہین و فطین ہوتا ہے اس لئے اسے نہ زمین پر اور نہ ہی آسمان کا جھانسہ دے کر غلام بنایا جا سکتا ہے۔

سفاری پارک میں آسمان کی نگاہوں میں نگاہیں ڈال کر علی سلمان نے کہا۔ باشعور اور عقل پرست انسان کسی ذہنی، نفسیاتی اور روحانی دباؤ میں بھی نہیں آتے اور نہ ہی وہ زمین پر روبوٹ اور کمپیوٹر کی طرح غلامی کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ غیر مذہبی اور عقل و شعور سے بھرپور انسان اپنی انفرادیت کی پہچان کے لئے مذہبی معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس نے اپنے اردگرد بغاوت کی خوشبو کو پھیلانا ہی ہوتا ہے ، چاہے اسے کسی بھی طرح کی صورت حال کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔ وہ آزادی کے ساتھ  جیئے گا، اور ذہانت اور بصیرت کی روشنی کے ساتھ سفر کرتا جائے گا۔ دوسری طرف مذہبی معاشرے کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ انسان کو آزاد ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا کیونکہ انسان قید سے آزاد ہوگیا تو مذہب کا کاروبار کرنے والوں کا کاروبار بند ہو جائے گا۔ آزاد انسان کے لئے ذہانت اور بغاوت لازم و ملزوم عناصر ہیں۔ ۔ پاکستان کے لوگ قید میں ہیں بلکہ یوں کہنا چایئے کہ پاکستان کے لوگ خود قید ہیں، اس قید سے نکلنا ہے تو انہیں پہلے یہ احساس اور شعور کو تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ مذہبی ںطریات کی وجہ سے اس بحران کا شکار ہیں۔ ہندو معاشرہ، عیسائی معاشرہ، مسلم معاشرہ اور یہودی معاشرہ کوئی بھی مذہبی معاشرہ انسان کو اس کی ذہانت کا استعمال کرنے سے روکتا ہے اس کی وجہ واضح ہے کہ انسان نے ذہانت استعمال کی تو حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی ؟ذہین انسان مذہبی سوسائیٹی کے لئے خطرناک بن جاتے ہیں۔

پاکستان میں وجاہت مسعود، وسعت اللہ خان، جبران ناصر ، مبارک حیدر ، رضا رومی، ڈاکٹر مبارک علی ، پرویز ہود بھائی وغیرہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اس طرح کے انسان مذہبی ظاقتور ملاوں اور جرنیلوں کے ہر قسم کے استحصال اور جبر کے خلاف خطرناک ہوتے ہیں۔ آسمان کی طرف سگریٹ کا دھواں چھوڑتے ہوئے علی سلمان نے کہا پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ مدارس کے ساتھ کالجز اور یونیورسٹیاں بھی مذہبی نظریات پر مبنی سلیبس پڑھانے پر مجبور ہیں۔ اسی وجہ سے ذہیں اور روشن خیال انسان خال خال ہی نظر آتے ہیں ، اسامہ، ابوبکر بغدادی اور نائن الیون کرنے والے کون ہیں اور کہاں سے آئے تھے؟ ملاں عمر ہی مدارس کی پیداوار تھا باقی تو عام تعلیمی مدارس سے پرھ کر نکلے تھے۔ مذہبی انتہا پسندی نے دنیا بھر کو جنگ وجدل میں بدل دیا ہے؟ محمد قطب سے مودودی بھائی تک ؟ ایک پوری کہانی ہے جس کی ایمانداری سے تفتیش اور تحقیق ہونی چایئے باہر سے سب خوبصورت اور دلکش نظر آرہا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ؟

پاکستان میں یونیورسٹیوں کی ڈگریوں کے باوجود انسان کند ذہن ہیں ، کیوں ؟اس کہانی پر کوئی نہیں سوچ رہا؟جب اسکول کا سلیبس جھوٹ پر مبنی ہوگا ، تو جج، جرنیل، پروفیسر ڈاکٹرز سب ملاں عمر ہی ہوں گے صرف ٹائی اور شلوار کا فرق ہوگا؟جن کو بوتل سے باہر نکالنا ہوگا؟جن صرف پاکستان کے مدارس میں بند نہیں ، پاکستان کے اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں میں بھی ملاں عمر جیسے لوگوں کی بہتات ہے؟ پاکستان کی یونیورسٹیاں بھی مدارس ہی ہیں بلکہ یہ نام نہاد تعلیمی ادارے انسانوں کو مدارس سے زیادہ قیدی بنا رہے ہیں ؟ پاکستان کا انسان قیدی ہے تو انہی کی وجہ سے ہے؟ یہ رمضان ننشریات جو ٹی وی پر پورا مہینہ چلتی ہیں اور جن میں ڈاکٹر عامر لیاقت، جنید جمشید اور ڈاکٹر شاہد مسعود جیسے لوگ براجمان ہوتے ہیں یہ کیا تماشا ہے ؟ اس پر غور کرنا ہوگا؟ ٹی وی چینلز کے ااینکرز اوریا مقبول جان جیسے ہیں ؟ یہ کیا ہے ؟ آیک طبقہ مذہب کا پرچار کررہا ہے ؟ دوسرا طبقہ آرمی چیف کی مدح سرائی کررہا ہے ؟ کیا اس طرح سے پاکستان کبھی قید سے آزاد ہوگا؟ یہ وہ سب لوگ ہیں جو سچائی کو چھپاتے ہیں حقیقت کو غیر حقیقی بنا کر دکھاتے ہین ؟ انہی لوگ کی وجہ سے ہم قیدی ہیں بلکہ خود ہی جیل میں ہیں؟ ان لوگوں نے ہمیں، عقیدے، اساطیر اور سازش کے مفروضات میں قید کر رکھا ہے ؟ ان لوگوں کی وجہ سے ہم کنفیوز ہیں اور الجھے ہوئے ہیں اور منافق ہیں ؟ انہی کا کارنامہ ہے کہ ہر طرف قتل وغارت ہے ؟ صرف ملاں عمر نہیں؟ صرف اسامہ نہیں؟ یہ زیادہ خطرناک ہیں؟ عقیدے اور اساطیر کے نمائندے یہ ہیں ؟ یہ شفاف لوگ نہیں۔ ذہانت شفافیت کانام ہے اور یہ تمام کند ذہن کرپٹ ہیں؟ یہ ہر لمحے غبار پھیلاتے ہیں ان کو روکنا ہوگا۔ اگر معاشرے کو آزادی کی طرف لے جانا ہے تو؟ ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اس نے میری طرف مسکراتے ہوئے کہا۔ ہم فرقہ پرست ہونے کے لئے پیدا نہیں ہوئے۔ انسان آرٹ کا بہترین نمونہ ہیں۔ ہمیں آرتسٹ ہونا چایئے، موسیقار ہونا چایئے، ڈانسر ہونا چایئے، گلوکار ہونا چایئے، پینٹر ہونا چایئے، اداکار ہونا چایئے، صرف مسلمان، عیسائی ، ہندو اور یہودی بن کر رہ گئے ہیں ہم۔ علی سلمان کی گفتگو یہاں پر ختم ہوئی۔ ہم دونوں پارک سے نکلے اور اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوگئے۔


Comments

FB Login Required - comments