استاد فتح علی خان صاحب انتقال کر گئے


\"\"

آج اسلام آباد میں پٹیالہ گھرانے کے استاد فتح علی خان صاحب انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی تدفین لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں کی جائے گی۔

پٹیالہ گھرانے کی بنیاد علی بخش اور ان کے دوست فتح علی خان نے رکھی تھی۔ ان کے فن گائیکی کو داد تحسین پیش کرتے ہوئے لارڈ ایلگن نے علی بخش کو جرنیل اور فتح علی خان کو کرنیل کا خطاب دیا۔ علی بخش کے بیٹےاستاد اختر حسین خان کے تین بیٹے ہوئے جو دنیائے موسیقی میں استاد امانت علی خان، استاد فتح علی خان اور استاد حامد علی خان کے نام سے مشہور ہیں۔

گوالیار گھرانے کے ایک گائیک کو بھی استاد فتح علی خان کے نام سے جانا جاتا ہے، لہذا شناخت کے اس مخمصے سے بچنے کیلئے پٹیالہ گھرانے کے استاد فتح علی خان کو استاد بڑے فتح علی خان کہا جاتا ہے۔

\"\"استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی نے موسیقی کا فن اپنے والد استاد اختر حسین خان سے سیکھا۔ استاد اختر حسین خان خود تو اتنا زیادہ نام نہیں پیدا کر سکے لیکن انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں پر بہت محنت کی۔ استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی کی پہلی پرفارمنس لاہور 1945ء میں ہوئی جہاں انہیں بہت سراہا گیا، لیکن ان کو زیادہ شہرت تب نصیب ہوئی جب انہوں نے کلکتہ میں ہونے والی آل بنگال میوزک کانفرنس میں حصہ لیا. اس وقت استاد امانت علی خان کی عمر 17 سال اور استاد فتح علی خان کی عمر 14 سال تھی، اس کے بعد اس جوڑی نے کلاسیکی موسیقی کی حلقوں میں بہت مقبولیت حاصل کی، دونوں بھائیوں کی فنی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان نے 1969ء میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔

اسی بارے میں: ۔  پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں : چوہدری نثار

\"\"

استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی خان کی جوڑی 1974ء میں استاد امانت علی خان کی ناگہانی موت سے ٹوٹ گئی۔ یہ وقت استاد فتح علی خان پر بہت کڑا تھا کیونکہ ان دونوں بھائیوں کو موسیقی کی تعلیم باپ نے اس انداز میں دی تھی کہ راگ کی سچائی اور بہلاوے کا حصہ امانت علی خان اور تان پلٹا، لے کاری فتح علی خان کو سکھایا گیا۔ تعلیم کے اس بٹوارے کے پیچھے باپ کی یہ منطق تھی کہ دونوں بھائی گائیکی میں ایک دوسرے کو محتاج رہیں گے، اور شادی ہونے کے بعد بیویوں کی لگائی بجھائی میں آ کر ایک دوسرے کو چھوڑ نہیں پائیں گے۔

استاد فتح علی خان دکھ اور پریشانی کے عالم میں موسیقی چھوڑنے پر اتر آئے تھے لیکن ماں کے کہنے پر انہوں نے دوبارہ اس حصہ پر محنت شروع کر دی جو ان کے بھائی استاد امانت علی خان گایا کرتے تھے، لہذا فتح علی خان کو اپنی گائیکی کے انداز میں کافی تبدیلی کرنے پڑی۔انہوں نے پہلے اپنے چھوٹے بھائی استاد حامد علی خان کے ساتھ جوڑی بنائی، پھر اسے چھوڑ کر اپنے درمیانے بھتیجے اسد امانت علی خان کو ساتھ لیا، لیکن پھر یہ مناسب سمجھا کہ اسد امانت کی جوڑی حامد علی خان کے ساتھ بنا دی جائے اور خود انہوں نے اپنے بڑے بھتیجے امجد امانت علی کو ساتھ لے کر گانا شروع کر دیا۔ امجد امانت گو اپنے باپ کی طرح بہت خوبصورت آواز کے مالک تھے لیکن وہ فنی طور پر بہت ہی پیچھے تھے، لہذا وہ ایک جونیئر حصے دار کے طور گاتے تھے جب کہ استاد امانت علی خان اور استاد فتح علی خان برابر کی جوڑی تھی۔ امجد امانت علی خان کی وفات کے بعد یہ جوڑی بھی ٹوٹ گئی۔ استاد فتح علی خان نے کچھ عرصہ تو اپنے بڑے بیٹے سلطان فتح علی خان کو ساتھ لے کر گایا لیکن بعد میں اپنے چھوٹے بیٹے رستم فتح علی خان کے ساتھ گاتے رہے۔ بعد میں وہ بڑھاپے کی وجہ سے گانے سے کنارہ کشی کر گئے۔

اسی بارے میں: ۔  سکیورٹی صورت حال کا جائزہ: آرمی چیف کی زیر صدارت اجلاس جاری

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔