انہیں مسئلہ عورتوں کے ‘ڈیٹ’ کرنے سے نہیں ‘اختیار’ سے ہے


لڑکی کے لئے رشتہ آ رہا ہے۔ اچھا سا میک اپ کر کے مناسب لباس زیب تن کر کے لڑکی کو لڑکے والوں کے سامنے بٹھایا جاتا ہے۔ لڑکے کی والدہ، بہن، چاچی، پھوپھی وغیرہ لڑکی کی شکل صورت اور خد و خال کا اچھی طرح جائزہ لیتی ہیں۔ اس سے بات چیت بھی کی جاتی ہے تاکہ تعین کیا جا سکے کہ دانتوں وغیرہ کا سائز مناسب ہے یا نہیں۔ بعض مرتبہ لڑکا بھی اس معائنے کی ٹیم کا ممبر ہوتا ہے۔ اگر رشتہ طے ہو جائے تو شادی اور جہیز وغیرہ جیسے معاملات بعد میں طے کر لئے جاتے ہیں۔ اگر نہیں، تو لڑکی کی اس نمائش کا سلسلہ دہرایا جاتا ہے۔ نیا دن، نیا رشتہ، نئے لوگ۔ بس لڑکی کو سج دھج کے ویسے ہی بیٹھنا ہوتا ہے۔

ایک لڑکا لڑکی ایک دوسرے سے مختلف وجوہات کے سبب متاثر ہوتے ہیں اور ملنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ لڑکی کو ملاقات کے بعد لڑکے کا مزاج اپنے مطابق نہیں لگتا اور وہ اس سے پھر نہیں ملتی۔ کچھ عرصے بعد اس کی ملاقات کسی اور سے ہوتی ہے اور وہ اس کو “ڈیٹ” کرتی ہے۔ مگر تھوڑے عرصے بعد اسے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان ایک سا جذبہ نہیں ہے، لہٰذا اس سے تعلق منقطع کر دیتی ہے۔ اسی طرح سلسلہ جاری رہتا ہے اور اپنے معیار پر اترنے والے شخص کی تلاش میں لڑکی مختلف لوگوں کو ڈیٹ کرتی ہے۔

مندرجہ بالا امثال میں ہم سفر کی تلاش کے دو طریقے بیان ہیں۔ مگر معاشرے کی نظر میں پہلا طریقہ جائز ہے جب کہ دوسرا بالکل غیر اخلاقی۔ افسوس مجھے اس بات کا ہے کہ دنیا میں بھوک اور افلاس جیسے مسائل کے ہوتے ہوئے بھی لوگوں کے پاس فرصت اور طاقت ہے کہ انسان کی ذاتی سرگرمیوں کو زیر بحث لائیں۔ مگر ایک ایسا ملک کہ جس کے دارالحکومت میں کالعدم تنظیموں کو کھلے عام سرگرمیوں کی اجازت دی جاتی ہو جب کہ اسی ملک کے سب سے بڑے شہر کا مینڈیٹ رکھنے والی سیکولر سیاسی تنظیم کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر قدغن ہو، ایسے ملک کے عوام اگر ذہنی انتشار و خلفشار کا شکار ہو کر باقاعدہ ہذیان بکنے لگیں تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ جب انسان حقیقی مسائل کو حل کرنا تو دور، ان کو سمجھنے تک سے قاصر ہو، ایسے میں وہ اپنی توجہ غیر ضروری امور پر مرکوز کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں کبھی بھی کہیں بھی بم دھماکہ ہو جاتا ہے اور بحیثیت عوام ہم اس قدر بےبس اور بیکار ہیں کہ اداروں کی نااہلی کے خلاف چوں تک نہیں کر پاتے۔ ایسے میں بعض لوگ دوسروں کی ذاتی زندگی پر تبصروں کو اپنا شیوہ بنا لیتے ہیں۔ کیا کریں، مہنگائی، کرپشن اور احساس عدم تحفظ کی مایوسی کہیں نہ کہیں تو نکالنی ہے۔ ایسی ہی فرسٹریشن کا عکس نظر آیا جب طیبہ مصطفیٰ کا ڈیٹنگ کلچر کے حوالے سے نہایت سطحی سا تجزیہ ہم سب کی ویب سائٹ پر نظر سے گزرا۔

سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ تھی کہ موصوفہ نے والدین کی ‘عزت ڈبونے’ والی لڑکیوں کو تو خاصہ برا بھلا کہا مگر ان لڑکوں پر کوئی تبصرہ نہ کیا جن کے ساتھ یہ ‘آج کی لڑکیاں’ ڈیٹ پر جاتی ہیں۔ محترمہ کی تحریر کے عنوان سے لے کر اختتام تک صرف ان لڑکیوں پر بات کی گئی ہے جو ایسی ‘غیر اخلاقی’ سرگرمیوں میں ملوث ہوتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ سوچ ہے کہ خاندانوں کی، بالخصوص مردوں کی، غیرت اور عزت و آبرو کا انحصار عورتوں کی رومینٹک سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔ بڑا ہی عجیب تصور ہے اس غیرت کا۔ اس سوچ کے اعتبار سے غالباً میرے والد صاحب کی غیرت اور عزت کا مرکز میرے جسم کے زیریں حصے میں پایا جاتا ہے۔

یہ سوچ نہ صرف انسانی آزادی کی عین خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ کھلی عورت دشمنی ہے۔ جہاں یہ ‘غیرت برگیڈ’ اخلاقیات اور مذہب کی بات کرتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے مذہب اور اخلاقیات آئے ہی صرف عورت کے لئے ہوں۔ یہاں مقصد ہرگز یہ نہیں کی مردوں کی ذاتی آزادی کو بھی سلب کر لیا جائے۔ محض دہرے معیار اور منافقت کی نشاندہی کرنے کی سعی کی ہے۔ شروع میں دی ہوئی امثال سے بھی واضح ہے کہ مسئلہ عورت کی نمائش کرنے یا اسے لڑکے کے سامنے پیش کرنے کا نہیں۔ مسئلہ دراصل وہاں ہے جہاں عورت یہ عمل خود اپنی مرضی سے کرے۔ معاشرے کی اصل دشمنی ہی عورت کے ‘اختیار’ سے ہے۔

زندگی کے لئے ہم سفر چننا ہم سب کا ذاتی فعل ہے جس کے لئے ہم کسی غیرت کے ٹھیکہ دار کو جوابدہ نہیں۔ اس غیرت برگیڈ کی نظر میں محبت کی اجازت صرف شادی کے بعد ہے۔ ان کے مطابق محبت کرنے کے لئے بھی نکاح نامے کی صورت میں ریاست سے اجازت لی جانی چاہئے۔ اگر بالفرض میرا شادی کے ایسے سطحی سے تصور پر یقین نہیں ہے تو کسی کو حق نہیں کہ میری رومینٹک زندگی میں مداخلت یا کسی قسم کا تبصرہ کرے۔

کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ہمارا معاشرہ ہر آئے دن کے بم دھماکوں میں نہتے معصوموں کی قتل و غارت پر تو خاموش رہتا ہے، مگر محبت جیسے حسین جذبے پر قدغن لگانے میں زور و شور سے آگے آگے رہتا ہے۔ طیبہ صاحبہ سے گزارش ہے کہ فضول تجزیے لکھ کر اپنی غیر ذمہ دارانہ کم علمی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اپنی توانایاں ملک کے بچوں کو دہشتگردوں سے بچانے میں صرف کریں۔ یقین کیجیئے، ہر روز غیرت کے نام پر قتل ہونے والی عورتوں کی خبریں چھپتی ہیں۔ خدارا، ایک مظلوم طبقے پر مزید مظالم کا سامان اپنی جاہلانہ سوچ سے مت پیدا کیجیئے۔ کل کو آپ کا بلاگ پڑھ کے کوئی ‘غیرت مند’ بھائی اٹھ کر اپنی بہن کو ڈیٹ پر جانے کی وجہ سے قتل کر دے، تو آدھی ذمہ داری آپ کی بھی بنتی ہو گی۔ رحم کی اپیل ہے آپ جیسی تمام سوچوں سے!


آج کی لڑکیاں: ڈیٹنگ اور ماں باپ کو دھوکہ


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “انہیں مسئلہ عورتوں کے ‘ڈیٹ’ کرنے سے نہیں ‘اختیار’ سے ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *