کراچی لٹریچر فیسٹول (ایک رپورتاژ)


jamil abbasiجمعہ کے دن ہم سورج کی کرن کے ساتھ بیدار ہوئے۔لشٹم پشٹم تیاری کر کے حیدرآباد سے نکل لیے اور بھاگم بھاگ کراچی لٹریچر فیسٹول میں جا گھسے کہ نوید تھی افتتاحی تقریب میں کلیدی تقاریرفہمیدہ ریاض صاحبہ اور پرویز ہود بھائی کی ہیں…. اب اختیار میں کہاں کہ ناشکرے پن کی صفت اختیار کی جائے اور یوں بھی ناشکرا پن تب کام دیتا ہے جب دعوت شیراز کا بلاوا آیا ہو۔تلاشیاں لے دے کر اندر قدم رنجہ فرمایا تو لپٹن (یاد رہے چائے کا ذکر ہے،یار دوست اپنی تشریحات نہ کریں) کا اسٹال ہمارے لیے سد سکندری بن گیا۔ وجہ تھی اجمل کمال و علی ارقم صاحبان۔ اب ایسے صاحبان کی صحبت چھوڑ کرآگے بڑھنا مجھ سے ممکن نہ رہا ۔ سلام کلام کے بعد اجمل کمال صاحب نے جو چائے کا شغف کر رہے تھے ،چائے سڑکنے کے بارے مجھ سے دریافت کیا جو اس فقیر نے بے نیازی دکھانے کے چکرمیں ناکار کرنے کے بعد کچھ وقت خود کو کوسنے میں گذارنا ضروری سمجھا۔ جب دکھ ذرا کم ہوا تو محترمین کی باتوں کی طرف توجہ دی۔ انہوں نے ذکر کیا کہ کلیدی تقاریر میں ابھی کچھ دیر باقی ہے سو چائے پی کر جانے کے ارادے ہیں۔پس میں نے یہ چند لمحے غنیمت جانے۔ اسی دوران اردو کو مزید اسم مبالغہ کے ساتھ مقدس بنانے کے بارے پر لطف گفتگو چلی اور یہ بھی کہ پاکستان کے اندر اردو ادب میں تقسیم بر صغیر پر تو افسانے اور ناولز لکھے گئے ہیں مگر تقسیم پاکستان پر اب تک اس طرح نہیں لکھا گیا۔اس بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا اور بعد ازاں کشور ناہید صاحبہ کے پروگرام “آباد خرابا” میں میں نے یہ سوال اردو ادب کے نامورین کے سامنے رکھا جس پر اصغر ندیم سید صاحب اور کشور ناہید صاحبہ اور حارث خلیق صاحب نے کلام کیا اور انتظار صاحب کے افسانے شہر فسوں اور مستنصر صاحب کے ناول راکھ کا ذکر ہوا لیکن حارث خلیق صاحب نے اتنا اتفاق فرمایا کہ تقسیم پاکستان اردو ادب میں اس طرح موضوع نہیں بنایا گیا جس طرح کہ حق ہے۔اب آتے ہیں فہمیدہ ریاض اور پرویز ہود بھائی کی تقاریر پر۔دونوں تقاریر قابل تعریف تھیں اور سننے والوں کی طرف سے بہت سراہی گئیں۔ ان میں پاک وہند سماج کی بدلتے بنیادوں، ہماری شدت انگیزی،دہشت گردی،اقلیتوں پر مظالم وعدم برداشت پر کھل کر بات کی گئی۔ اس کے علاوہ پرویز صاحب نے پاک و ہند کی غیر سائنسی سوچ کو بھی ہدف بنایا۔ مجھے ایسی آوازوں نے ایک حوصلہ دیا اور ان آوازوں پر بجتی زوردار تالیوں نے خوشی دی۔ مجھے اچھالگا کہ ایک ادبی محفل میں ادب برائے ادب کے بجائے ادب برائے زندگی زیر بحث آیا…. یہ بہت خوبصورت آغاز تھا۔

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “کراچی لٹریچر فیسٹول (ایک رپورتاژ)

  • 09-02-2016 at 8:37 am
    Permalink

    تقسیم پاکستان پر الطاف فاطمہ کا ناول چلتا مسافر آپ نے نہیں پڑھا ؟

    • 09-02-2016 at 6:25 pm
      Permalink

      بیچاری پروفیسر الطاف فاطمہ صاحبہ
      دستک نہ دو ۔۔۔ اور ۔۔۔ چلتا مسافر جیسے لاجواب شہکار تخلیق کرنے کے باوجود بہت گمنام رہیں۔
      انھیں بھی میڈیا کوریج ملتی تو قرۃ العین اور بانو قدسیہ سے کم نام نہ پاتیں

    • 10-02-2016 at 7:13 pm
      Permalink

      معذرت چاہتا ہوں کہ میں اس ناول سے واقف نہ تھا۔آپ کے توجہ دلانے کا شکریہ

Comments are closed.