بیرونی سازش اور ہم


\"\"ہر محفل و مجلس اور اجتماع کے دوران یہ موضوع لازمی زیر بحث رہتا ہے کہ ملک کی موجودہ بد امنی اور نا مساعدحالات کے پیچھے بیرونی ہاتھ پوری طرح ملوث ہیں۔ جی ہاں بیرونی ہاتھ۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ افہام و تفہیم اور باہمی گٹھ جوڑ کے ذریعے قرضے معاف کروانا کون سی بیرونی سازش تھی! عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کے بعد عوامی مسائل پر تبصرہ کرنے پارلیمان کی طرف جانے سے منع بھی CIA کرتی ہے شاید! تھر کے ریگستانوں اور سندھ کے غریب عوام کی کسمپرسی کی حالت میں موساد کا ہاتھ ہوگا! الیکشن مہم کے دوران جھوٹی تقریریں اور جھوٹے وعدے بھی بیرونی دباؤ کے تحت کئے جاتے ہوں گے۔ اور شاید سادہ لوح عوام کی سادہ دلی کا فائدہ اٹھانے سے لے کر نسلی، صوبائی، لسانی، خاندانی اور فرقہ وارانہ تقسیم بھی بیرونی سازشوں کا شاخسانہ ہو!

بھئی ملکی سطح کے مسائل کو تو رہنے ہی دیں۔ کم تولتے وقت بھی امریکہ کا ہی ہاتھ ہوتا۔ مزدور کی بیٹی کی شادی کا قرضہ سود پر دیتے وقت بھی بیرونی سازش ہوتی۔ امام بارگاہ اور مساجد پر حملوں کے اندر بھی باہر کی دنیا کا کردار ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کفر کے فتوے چرچ کے پادری لگاتے ہیں۔ تجارت کے اندر جھوٹ پر برطانیہ مجبور کرتا ہے۔ جب کہ ملاوٹ اور دھوکے جیسی عادات بھی را ہی کی بدولت ہیں۔

مورخ لکھے گا جب قومیں دنیا کے نظام کو مسخر کرنے اور نئے رازوں کو فاش کرنے میں مصروف تھی تو روئے زمین پر ایک مخلوق ایسی بھی تھی جو امریکہ اور برطانیہ کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور نعرے بازیوں کے اندر سرگرم عمل تھی۔ جہاں ہر بندہ خود کو کامل اور مکمل مان کر ہر دوسرے بندے کی اصلاح کرنے میں اپنی بھر پور صلاحیتیں استعمال کر رہا تھا۔ جب کہ اختلاف رائے کو تو اپنی بے عزتی سمجھا جاتا تھا۔ اپنے کمزور مؤقف کو حق اور درست ثابت کرنے اور لا یعنی نتائج کے حصول کے لئے تہذیب کے آداب کو پس پشت ڈالا جاتا تھا۔ جہاں یہ فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ میلاد منانا ممنوع ہے، مکروہ ہے یا پھر حرام۔ جن کی زندگی کا زیادہ حصہ اسی کے اندر صرف ہوا کہ دوسرے فرقے کے عالم کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں۔ اور مزارات پر جانا درست ہے یا غلط۔ جب کہ کون مردہ اور کون شہید کے مباحثے بھی مکالموں کا حسن بنتے تھے۔

اسی بارے میں: ۔  موبائل فون، بے کار تعلیم اور تجارتی خسارہ

حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ امریکہ، برطانیہ اور دوسرے دشمن ممالک کے خلاف احتجاجی تحریکیں ان ہی کے بنائے ہوئے فیس بک، واٹس ایپ، وائبر اور ٹوئیٹر وغیرہ پر چلائی جاتی تھیں۔ جب کہ ہر بندہ آئی فون سیون رکھنے کا شوقین تھا اور کمپیوٹر سے متعلق معاملات کو حل کرنے کے واسطے امپورٹڈ کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ استعمال کرنا ہر کسی کی خواہش ہوتی تھی۔

معلوم نہیں ہم کس کو دھوکے میں ڈال رہے؟ خود کو یا پھر ان تمام مذکورہ اشیاء کے موجد کو؟ ہم کیا سمجھتے ہیں کہ ان تمام چیزوں کے ایجاد کرنے والے ان تمام منصوبہ بندیوں اور تحریکوں سے با خبر نہیں ہوں گے؟ کیا ان کے پاس ان تحریکوں کو ناکام بنانے کی حکمت عملی نہیں ہوگی؟ وہ دنیا کے اندر صارفین کو یہ چیزیں مہیا کرنے کے بعد ان اشیاء کے اوپر اپنا اختیار کھو چکے ہوں گے؟
نہیں جناب! یہ خام خیالی دل سے نکالنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ دور غیر اقوام کی شراب نوشیوں اور فحاشیوں کو بیان کرنے کی بجائے عملی اقدامات اور دانش مندانہ منصوبوں کا تقاضا کر رہا۔ غیر قوموں کی خرابیاں بیان کرنے سے اپنے مسائل حل نہیں ہو جاتے۔ یہ بات سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارے ان مسائل کا بار بار تذکرہ کرنے سے ان قوموں کے اوپر کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ لہٰذا اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا احساس اور اپنی غلطیوں کو کھرچ مٹانے کی سعی موجودہ دور میں حالات اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔


محمد نعمان کاکا خیل کینگ پوک نیشنل یونیورسٹی جنوبی کوریا میں پی ایچ ڈی ریسرچ سکالر جب کہ یونیورسٹی آف واہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے۔

اسی بارے میں: ۔  بطخ اور عقاب

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔