عورت کے ڈیٹ کرنے کا حق – جائز یا ناجائز؟


\"\"آج 4 جنوری 2017 ہے۔ تین روز قبل ہم اور ہمارے کچھ بچپن کے دوست جن میں لبرل اور مذہبی ساتھی شامل تھے نے 31 دسمبر کی رات ایک باربی کیو پارٹی کا اہتمام کیا جس کا مقصد نئے سال کو خوش آمدید کہنا تھا۔ یہ سلسلہ کئی سالوں سے ہے۔ میرے ان دوستوں میں سے دو دوست جوڑے ایسے بھی ہیں جنہوں نے کالج کے دور سے یونیورسٹی تک آپس میں ڈیٹنگ کی اور آج کل خوش و خرم شادی شدہ جوڑے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ میں اپنی ذاتی زندگی کی تفصیلات آپ کو کیوں سنا رہی ہوں۔ تو قصہ یوں ہے کہ آج صبح ہی صبح’ ہم سب\’ پر ایک تحریر \’آج کل کی لڑکیاں؛ ڈیٹنگ اور ماں باپ کو دھوکہ\’ نظر سے گزرا۔ پڑھ کر احساس ہوا میں 4 جنوری 1901 یا اس سے بھی قبل میں زندہ ہوں۔ پہلی نظر میں مضمون کا عنوان دیکھ کر یوں لگا کہ اس میں ماں باپ اور بچیوں کے لیے کوئی مفید صلاح یا مشورے ہوں گے۔ مثلاً لڑکیوں کی ڈیٹنگ یا محبت کو ماں با پ کی انا کے لئے جھٹکا نہ سمجھا جائے یا والدین کو بچوں سے دوستی کرنی چاہئے تا کہ اگر بچیوں کو محبت یا ڈیٹنگ کی ضرورت پڑے تو انہیں جھوٹ بول کر نہیں بلکہ سچ بول کر صحیح ساتھی تلاش کرنے میں مدد ملے وغیرہ۔

عورت کا ڈیٹ کرنا بہت سی دوسری گھسی پٹی روایات کی طرح ہے جس کو خوامخواہ ماں باپ کی عزت سے نتھی کر کے لڑکیوں کو مجرم اور والدین کو جابر اور مظلوم بنا دیا ہے۔ ویسے تو موضوع ہی جنسی تعصب پر مبنی ہے یعنی لڑکیوں کی ڈیٹنگ پر اعتراض ہے اور ماں باپ کی عزت صرف لڑکیوں کی ڈیٹ کرنے سے خراب ہوتی ہے۔ کیا لڑکوں کو ڈیٹ کرنے کی ازلی آزادی ہے؟ \’آج کل کی لڑکیاں\’ کیا ہے؟ یعنی پرانی لڑکیاں ڈیٹنگ نہیں کرتی تھیں یا دھوکہ نہیں دیتی تھیں؟ یہ دونوں ہی کام ہماری پچھلی نسل میں بھی بدرجہ اتم موجود تھے۔ بجائے اس کے کہ آپ اپنی تاریخی منافقتوں پر سے پردہ اٹھائیں آپ آج بھی غلط یعنی لڑ کی کی ڈیٹ کو والدین کی عزت سے نتھی کرنا کو صحیح اور صحیح یعنی لڑکیوں کی محبت یا ڈیٹ کرنے کے حق کو تسلیم کرنے کو غلط کہنے پر مصر ہیں۔ محبت ہونا یا کرنا ایک فطری عمل ہے بالکل ایسے جیسے ہوا، پانی، خوراک اور رہائش ضروری ہیں محبت بھی ایک ضرو رت ہے۔

محبت اور ڈیٹنگ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہو سکتی ہے جتنی انسان کی کیونکہ اس جذبے کے بغیر مرد عورت کبھی ایک دوسرے کے قریب نہ آتے اور اتنے انسان جو آج نظر آتے ہیں نہ ہوتے۔ لڑکیاں آج کل کی ہوں یا کسی بھی زمانے کی ڈیٹنگ اور محبت ہر زمانے میں رہی۔ اب اصل مسئلہ دھوکہ دینا یا جھوٹ بولنے کا ہے تو جھوٹ یا دھوکہ کی ضرورت ایک جائز کام کے لئے کیوں پڑتی ہے؟ یہ والدین کو سوچنا پڑے گا۔

ڈیٹنگ کرنے والے نوجوان جن میں بیشتر سسٹم سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں جن میں اتنی بصیرت تو ہوتی ہے کہ اگر دل دماغ سے ان کو اس بات کا یقین کہ یہ غلط ہے تو وہ یہ ہرگز نہ کریں۔ اصل میں یہ فطرت ہے جو  قائل کرتی ہے کہ وہ ڈیٹنگ کر سکتے ہیں۔ اس کی مثال بالکل ایسے ہے جیسے آپ شدید گرمی میں نتھیاگلی کا پلان بنائیں لیکن اگر آپ کو یقین ہو کہ وہاں درجہ حرارت 38 یا 42 سینٹی گریڈ ہو گا تو آپ وہاں کبھی نہیں جائیں گے۔ والدین کو ممکن ہے اس لیے نہیں بتا پاتے کہ وہ فیملی لائف میں مسائل نہیں چاہتے۔

مذکور مضمون پڑھتے ہوئے یہ احساس بھی ہوا کہ لکھاری نے موضوع کا ارتباط تعلیم، محبت اور معاشرہ سے بنایا ہے تو ذرا بتائیے کہ وہ تعلیم کیسی جس میں محبت کرنا اپنی یا والدین کی ہتک سمجھا جائے یا پھر محبت کے بغیر کیسا معاشرہ ہو گا جہاں ایک فطری عمل کو روک کر غیر فطری تقاضے کئے جائیں؟ محبت نے دنیا کے عظیم ادب کو جنم دیا۔ کیا ایسا ہوا ہو گا کہ مارلو، شکسپئر، عصمت چغتائی اور منٹو جیسے ادیبوں اور ورڈز ورتھ، شیلی، میر اور غالب جیسے شعرا نے محبت کے بغیر ہی ادب تخلیق کر لیا ہو؟ آپ کو اگر مشورہ دینا ہی ہے تو والدین کو باشعور کیجئے۔ لڑکیوں کی کونسلنگ کریں۔ ان کو اس فطری جذبے سے نہ روکیں اور انہیں احساس جرم میں مبتلا نہ کریں اور نہ ہی والدین کی حوصلہ افزائی کریں کہ اگر وہ قدغنیں لگاتے ہیں تو یہ کوئی صحت مند رویہ ہے۔

صحت مند رویہ یہ ہے کہ محبت کریں اور ذمہ داری قبول کریں۔ جھوٹ نہ بولیں، نہ خود سے نہ دوسروں سے۔ نوجوانوں کو محبت کی اقدار اور اس کے تقاضے سکھائیں۔

اور آخر میں ایک سوال کہ عورت کے پاس کیا چوائس ہے؟ کہ وہ اپنے حق کا مطالبہ کرے اور اس پر عمل کرے یا فرسودہ روایات کی پاسداری کرے؟

محبت دکھ دا دارو اے
محبت مونجھ دا مکھ اے
محبت دکھ بھلیندی اے
محبت کر کے دیکھو ہا
محبت ہولا پھل کریندی اے


آج کی لڑکیاں: ڈیٹنگ اور ماں باپ کو دھوکہ

انہیں مسئلہ عورتوں کے ‘ڈیٹ’ کرنے سے نہیں ‘اختیار’ سے ہے

عورت کے ڈیٹ کرنے کا حق – جائز یا ناجائز؟

ماں باپ کو بتا کر ڈیٹ پر جائیے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

7 thoughts on “عورت کے ڈیٹ کرنے کا حق – جائز یا ناجائز؟

  • 05-01-2017 at 2:06 am
    Permalink

    آپ ایک دفعہ رات کو اکیلے ہی باھر گھوم لیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا اپنے اس ڈیٹ والے معا شرے کا لیکن آپ نھیں نکلیں گی کیونکہ آپ کے اندر کی عورت آپ کو منع کرے گی… کیوں کہ اللہ نے ھر عورت کو ایسا ھی بنایا ھے. لیکن بعض عورتیں معلوم نہیں کیا بننے کے چکر میں اپنی اصل پھچان کو بھلا کر معاشرے میں ایک عجیب سا کردار ادا کرنی چارھی ھیں…………. تعلیمی ادارے علم حاصل کرنے کے لیے ھیں جسے ھر مسلمان مرد اور عورت پر فرض کیا گیا ہے………….ان تعلیمی اداروں کو آپ ایک چراہ گاہ کیوں بنانا چارھی ھیں جھاں انسان نما جانور اپنا منہ مارتے رھیں اور آپ چارہ ھوں.

  • 05-01-2017 at 12:00 pm
    Permalink

    اگر ڈیٹنگ واقعی اتنی اچھی ہے تو جو مرد حضرات اس کی فیور میں ہیں وہ اپنی بہنوں بیٹیوں کو اجازت دے دیں کہ وہ ڈیٹ پر جاسکتا ہیں ۔۔۔۔ رہی فطرت کی بات تو فطرت انسانی میں غیرت ہے اور وہ غیرت کبھی بھی گوارا نہیں کرتی کہ انسان اپنی عورتوں کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھے ۔۔۔۔۔۔ یہ فطرت ہے ۔۔۔۔۔ لیکن جس گناہ کو آپ نے فطرت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہ شیطانی فطرت ہے جو بالآخر گناہ کبیرہ کی طرف لے جاتی ہے۔ اور انسان کو پستیوں میں دھکیل دیتی ہے۔ ۔۔۔۔ اسلام کا غیر محرم کے بنیادی اصول اور تصور کے پیچھے اسی غیرت انسانی کا عنصر ہے۔ جو انسان کی خلقی فطرت میں شامل ہے۔

  • 05-01-2017 at 5:24 pm
    Permalink

    انسان پر زندگی میں دو قیود ہوتی ہیں ایک سماجی یا معاشرتی اور دوسری مذہبی۔ جہاں تک معاشرتی قیود کا تعلق ہے تو جسطرح معاشرہ آگے بڑھ رہا ہے اور مذہب سے دور جارہاہے، مرد اور عورت کا آزادانہ اختلاط کوئی دور کی بات نہیں اور عنقریب یہ ایک معمول کی بات بن جائے گی۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے اس نے قیامت تک کیلئےمرد اور عورت کی حدود کا تعین کردیاہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جہاں نامحرم مرد اور عورت تنہا ہوں وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ صرف خدا کا خوف ہی ہے جو مرد اور عورت کو کسی ناجائز کام سے روک سکتا ہے اور اگر انسان خوفِ خدا سے عاری ہوجائے تو پھر معاشرے کے خوف کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ اسی طرح ہر بالغ انسان خود اپنے اعمال کا جوابدہ ہے کوئی کسی دوسرے پر داروغہ نہیں یہاں تک کہ نبی پاک ﷺ کو بھی اللہ تعالی نے واضح طور پر فرمایا کہ آپﷺ کا کام ٖصرف کھول کھول کر بیان کردینا ہے اور آپ ﷺ کسی پر مصیطر یعنی داروغہ نہیں۔

  • 05-01-2017 at 10:31 pm
    Permalink

    Wao great. The author of this article must read Manton once. Manton has wrote many of such Tru love stories that ended up in “pain Bharti hogae” and no one accepted that kid. If it’s a good thing then love must happens in each street and date should b there in every next door. I am worried that person is not liberal it’s disrespect of liberalism. If it was liberalism then I should have read one sentence guiding women that before dating man please make sure that man is a good human being.
    I dated many girls in college or university life but none of them is my wife . And I am happiest married husband and I am happiest father and I feel I was not pure man and I did wrong and just wrong . That is darkest part of my life.

  • 06-01-2017 at 12:03 pm
    Permalink

    میں کیا کہوں لبرل خواتین و حضرات کے بارے میں ۔۔۔

  • 07-01-2017 at 1:20 pm
    Permalink

    AOA,
    With lot of due respect, how can you justify wrong thing and how can you impose your views on the society??? Did Islam allow us to go out with unknown for knowing?? How many take it positive??? Sorry Liberalism is one negative thought which is leading against Islam and culture.

  • 11-01-2017 at 1:49 am
    Permalink

    محترمہ آپکی سوچ و فکر مجهے مغربی لگتی ہے- اگر آپ کلمہ گوہ ہیں اور اسلام کو کچه حیثیت دینا چاہتی ہیں تو اپنے کالم ہر زرا غور کیجئے…..
    جس طرح کا خیالات کا اظہار آپنے کیا کہ ڈیٹ کا حق عورت کو دیا جائے شاید اسی حق کے نتیجے میں مغرب میں ایک لڑکی سکول لائف میں ہی ماں بن جاتی ہے- آپکی اس سوچ و فکر کی اسلام میں کوئی اجازت نہیں کیونکہ اسلام میں دو غیر محرموں کا اختلاط گناہ ہے- ایسی اعلی فکروں کو اپنے گهروں پر ہی نافز کیجئے معاشرے کو بے جا گمراہی کی طرف لے جانے کیلئے قلم کی روشنائی ضائع مت کیجئے –

Comments are closed.