سیکولریت اور الحاد


masood munawarمیں کیا اور میری فکری اوقات اور بصیرت کیا مگر جس قدر تعقل کا مقدور مجھے بہم ہے، اس کے مطابق اشیائ ، مظاہر اور نظریات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے کیونکہ میں روسو کے فرانس میں نہیں بلھے شاہ کے پنجاب میں پیدا ہوا جہاں میرا درس اور میری تعلیم اس طرح آغاز ہوئی۔

بلھیا کیہ جاناں میں کون
نہ میں مومن وچ مسیتاں
نہ میں وچ کفر دتیاں
نہ میں موسیٰ نہ فرعون

سو تاریخی تصوات اور شخصیات اس وقت تک میرے لئے لایعنی ہیں جب تک مجھے یہ پتہ نہ ہو کہ میں کون ہوں اور فکری اعتبار سے کہاں کھڑا ہوں۔ اناج کھا کر جگالی کرنا تو ایک حیوانی عمل ہے جو سب کرتے ہیں مگر یہ میرے گھڑے ہوئے نظریات میری زنجیریں کیوں ہیں۔

میں نے ایک روایتی مذہبی معاشرے میں جنم لیا جہاں میرے بچپن میں سیکولر کا تلفظ تک میرے کان میں نہیں پڑا اور نہ میں الحاد سے آگاہ تھا کیونکہ یہ دونوں تصوات کا منفی پہلو کج عملی کی پیداوار تھا بالکل اسی طرح جیسے کفر، تفرقہ، الحاد اور بدعت کے الفاظ جو دوسرے آپ کو پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔تاہم نیکی کرنے کے لئے نیکی اور بدی کا فرق جاننا ضروری ہے اور اس فرق کو جاننے کیلئے مجھے سب سے پہلے اپنے ہونے کا علم پڑھنا ضروری ہے کیونکہ علم ہی راستہ دکھاتا ہے اور علم ہی گمراہ کرتا ہے، جہاں علم گمراہ کرتا ہے، وہاں بلھے شاہ اپنی کافی الاپتے ہیں:

علموں بس کریں او یار
اکو الف ترے درکار

چنانچہ خود کو جانے بغیر خدا کی ہستی کا انکار، یا خدا کو پہچاننے کے لئے موزوں علمی استعداد کے بغیر الحاد کی دو بنیادیں ہیں، جنہیں میں درخوراعتنا نہیں سمجھتا۔ رہا سیکولریت کا سوال تو اس کا الحاد سے کوئی تعلق نہیں لیکن میرے اردگرد مذہب بیزار قوتوں نے ہنگامہ برپا کر رکھا ہے اور وہ یہ بات سمجھنا ہی نہیں چاہتیں کہ بگڑے ہوئے بچوں کی ذمہ داری گھر پر نہیں ہوتی کہ اگر ایک گھر کے بچے بگڑے ہو ئے ہیں تو گھر کو ہی مسمار کر دیا جائے۔ اور پھر میرا سابقہ جدیدیت سے پڑتا ہے کہ اب مذہب کا فیشن ہی نہیں کمپارٹمنٹلزم کی بات کرو۔ بھائی جون! کمپارٹمنلزم کو اردو میں کیا کہیں گے؟ اے بھائی پنجابی مینٹل ازم تک رہو، خانوں میں مت بٹو۔ نہیں یار جبرو اکراہ نہیں۔ کسی کو مجبور کر کے زبردستی اس سے اعتراف کرنا غیر فطری عمل ہے۔ اس لفظی ترکیب کے استعمال کے لئے معذرت خواہ ہوں حضور! اب اس اجتماعیت کے کارخانے میں انفرادیت کی بانسری بھی تو بنتی ہے۔

کہو کہ مذہب ذاتی معاملہ ہے اگر ذاتی بھی ہے تو یہ برائی اور بے حیائی سے روکنے کا راگ ہے۔ اسے گاو¿، خوب گاو¿، دیکھئے حضور! ہم کثیرالثقافتی اور کثیر اللسانی معاشروں میں رہتے ہیں۔ عربی فارسی، ہندی، انگریزی اور مقامی زبانوں کا چوں چوں کا مربہ ہمارے پراٹھے پر سرسوں کا ساگ ہے اور ہمارے خوشحال گھرانوں میں بریڈ پر لگا ولایتی مکھن ہے۔ زندگی تو مذاہب کا چوراہا ہے۔ چاروں رستوں کا نقطہ آغاز ایک ہے۔ لیکن چوراہا یہ تو نہیں کہتا کہ ہر سڑک پر چاروں شانے چت لیٹو اور ٹکڑوں میں بٹ جاو¿۔ آپ کے پاس سائنسی علوم ہیں ان کے ذریعے اپنا ہونا ثابت کرو۔ اپنی ذہانت استعمال میں لاﺅ مگر انسانی حقوق کا احترام روا رکھو۔ انٹرنیٹ پر بلاتحقیق بھروسہ مت کرو کیونکہ سمعی و بصری کارخانوں میں بہت سا دونمبر مال تیار ہو رہا ہے۔

مذہب زندگی کا آئین ہے مگر مسلمانوں نے اس آئین کی بہتر نقلیں تیار کر رکھی ہیں جو ایک دوسری سے نہیں ملتی۔ اگر یہیں یہ بہتر مارگی لوگ آپس میں اپنے نقطہ آغاز پر یکجا ہو جائیں تو سیکولریت سمجھ میں آ سکتی ہے ورنہ نہیں۔ ہمارے عہد کے ایک بدھ عالم حضرت دلائی لامہ نے کہا کہ مذاہب کے باہمی احترام کا نام سیکولرازم ہے۔ بات دل کو لگتی ہے۔ میں نے بھی یہی پڑھا ہے کہ ”واللہ الذین ہادووانصریٰ والعائبین الاذین آمنو وعملوالصلحت لاخوف علیھم حلاہم یحزلون“ کہ مسلمان، یہودی، عیسائی اور سبائی اگر اللہ کو مان کر نیک اعمال بجا لیتے ہیں تو ان کے لئے کسی خوف یا رنج و غم کا مقام نہیں۔ لیجئے طے ہو گیا کہ آدمی مسلمان، یہودی، عیسائی اور سبائی ہو کر اگر رب کے طے کئے ہوئے راستے پر چلے، رب کا راستہ کون سا، نیک اعمال کا راستہ۔ تو بات صاف ہو گئی۔ رب اگر چاہتا تو سب کو مسلمان پیدا کرتا۔ مگر اس کا طریقہ نہیں بدلتا اور تم اپنی جہالت کا راستہ نہیں بدلتے۔

چنانچہ میرے لئے ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے ”لکم دینکم ولی الدین“ تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے اور یہی سیکولرازم کی تعریف ہے۔ وماتوفیقی اللہ باللہ۔ قرآن کریم کا یہ بیان میرے کانوں میں سیکولریت کا رس گھول رہا ہے۔کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم راہ راست پر ہو۔


Comments

FB Login Required - comments

مسعود منور

(بشکریہ کاروان ناروے)

masood-munawar has 11 posts and counting.See all posts by masood-munawar