پاکستان کے ننھے منے غلام


\"\"پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی تو ایک عام سا قصہ ہے۔ اور ہم بے انصافی اور غیر انسانی رویوں کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ اب کوئی واقعہ بھی ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پچھلے ہفتے اسلام آباد کے ایک ایڈیشنل سیشن جج کے یہاں ایک دس برس کی نوکرانی پر تشدد کے واقعے کو میڈیا نے خواب اچھالا اور اب ماشاالله پاکستان کے چیف جسٹس نے بھی اس کا نوٹس لے لیا ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اس از خود نوٹس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ لیکن ماضی کی روایات کو سامنے رکھا جائے تو آپ اور میں ہم سب جانتے ہیں، \” میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں \”۔

پاکستانی میڈیا کے چند حلقوں کے لئے ایک جج صاحب کے گھر میں تشدد ہونا ایک سنسنی خیز خبر سے زیادہ کچھ نہیں، خصوصاً جب سپریم کورٹ میاں نواز شریف کی کرپشن اور نا اہلیت کے مقدمات سن رہی ہے تو ایک نسبتاً جونئیر ڈسٹرکٹ جج کے یہاں تشدد کا واقعہ ایک اچھی سرخی کا کام دیتی ہے۔ سچ جانیے تو ہمارے اجتماعی رویوں پر اس واقعے سے کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ جیسا کہ ہمارے علم میں ہے کہ پاکستان کی خوش حال مڈل کلاس چھوٹے چھوٹے بچوں کو نوکر بنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی بلکہ تعلیم یافتہ اور جسے انگریزی میں upwardly mobile طبقہ کہا جاتا ہے وہاں بھی آپ کو ننھے ننھے بچے کام کاج کرتے دکھائی دیں گے۔ چائلڈ لیبر تو ویسے بھی مغرب زدہ لوگوں اور این جی اوز کی بنائی ہوئی ایک بناوٹی کہانی ہے اور بچوں کے حقوق پر آواز اٹھانے والے اکثر بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے پر کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جب کہ یہ ننھے منے پھول جیسے بچے اور بچیاں تو خالصتاً پاکستانی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ اور یہ مت بھولیے کہ ہمارے دیہی سکولوں میں چھوٹے بچے اکثر اساتذہ کے گھروں کے کام کاج کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ مدارس کا تو ذکر خدارا بالکل نہ کیجئے گا کیوںکہ وہاں پر دین کی سربلندی پر دن رات محنت سے کام جاری ہے اور جو کچھ رات کی تاریکی میں بچوں پر بیتتی ہے یا دن کی روشنی میں ان سے مشقت کروائی جاتی ہے اس کا تو ذکر ہی چھوڑ دیجئے۔

آج سے تقریباً چھ سال پہلے لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں ایک وکیل صاحب کے یہاں ایک گیارہ سالہ شازیہ مسیح مردہ پائی گئی۔ شازیہ مسیح کا قصور یہ تھا کہ وہ غریب بھی تھی، غیر مسلم بھی تھی اور اس کے ماں باپ ضرورت مند بھی تھے۔ چند روز میڈیا نے اپنی روایتی سنسنی خیزی کے بعد اس واقعے کی کوریج کو ترک کر دیا۔ بلکہ لاہور میں وکلا برادری نے بڑے بڑے جلوس برآمد کئے کہ جن وکیل صاحب کے ہاں بچی پر ظلم و تشدد ہوا ان کا احتساب کرنا تمام وکلا کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کے ٹی وی چینلز چوبیس گھنٹے وکلا اور ججوں کی حمایت میں مصروف تھے کیوںکہ اس سے نادیدہ قوتوں کے بغضِ زرداری کو تسکین ملتی تھی۔ کاش کہ شازیہ مسیح اور اس کے خاندان کو انصاف مل پاتا لیکن ایسا ہو نہ سکا۔

اسی بارے میں: ۔  لندن کے کلچرل شاکس اور راولپنڈی سینما ہاؤس کا مقبول! (2)۔

بچوں کے حقوق کی پامالی فقط پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ جنوبی ایشیا میں چائلڈ لیبر ایک حقیقت ہے۔ 2015 میں بچوں کے حقوق کے لئے سرگرم کارکن کیلاش ستھیارتھی کو نوبیل پیس پرائز سے نوازا گیا۔ پاکستان میں اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی کیونکہ کیلاش نے یہ انعام ملالہ کے ساتھ وصول کیا اور ماشا الله پاکستان میں تمام تر توجہ ایک اور \’ایجنٹ\’ ملالہ یوسفزئی پر مرکوز تھیں۔ اور ملالہ بھی آخر ایک بچی ہی تھی جس پر دشنام طرازی میں حصہ ڈالنا ہر کسی نے اپنا قومی فریضہ سمجھا۔ یقیناً پاکستان واحد ملک ہوگا جہاں پر ایک چودہ برس کی بچی کو پاکستان دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کا نمائندہ قرار دیا گیا۔ اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بچوں پر پیار اور شفقت برتنے میں ہم دنیا سے کتنے آگے ہیں۔

اسکول کا استاد ہو یا ایک شیر کی نگاہ سے دیکھنے والا باپ ہو یا مدرسے کے ڈنڈا بردار مولوی صاحب ہوں یا سڑک پر گشت کرنے والا پولیس کا سپاہی ہو، بچوں پر ہاتھ اٹھانے سے کوئی گریز نہیں کرتا۔ دنیا بھر میں محققین نے ریسرچ سے ثابت کیا ہے کہ بچوں پر کئے جانے والے جسمانی اور نفسیاتی تشدد کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ اور کسی بھی معاشرے کی اجتماعی صحت کے لئے شدید نقصان دہ ہوتے ہیں۔ لیکن اس ریسرچ کا کیا فائدہ جو ملحدین اور کافروں کی عرق ریزی کا نتیجہ ہو کیوںکہ اس میں کہیں نہ کہیں عالم اسلام کے خلاف سازش کا امکان پیہم موجود ہے۔

طیبہ اور شازیہ مسیح کا قصور یہ ہے کہ ہم میڈیا کے ذریعہ ان کے نام جان گئے ہیں۔ مگر لاکھوں ایسے بچے پاکستان میں آج بھی اینٹوں کے بھٹوں، کشادہ اور پر آسائش مکانوں، ورکشاپوں اور چھوٹے ہوٹلوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو تقریباً زرخرید غلاموں والی زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان میں ہم اسلام کی معاشی اور سماجی مساوات کا درس دیتے تھکتے نہیں۔ لیکن ہمارے ارد گرد ننھے غلام پائے جاتے ہیں اور ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کرنا چاہتے۔ ایک عام تھیوری یہ ہے کہ اگر چائلڈ لیبر کو ختم کر دیا جائے تو غریب لوگ مزید مفلوک الحال ہوجائیں گے اور یہ ہماری معیشت کے لئے نقصان دہ ہوگا۔ یہ سب مفروضے اپنی جگہ لیکن پاکستان کا آئین یہ کہتا ہے کہ ہر بچے کو تعلیم دینا ریاست کا فرض ہے۔ اسی طرح ایک منصفانہ اور خوش حال معاشرے کی تشکیل بھی ریاست کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ پاکستان کے آئین میں ایک مکمل باب پرنسپلز آف پالیسی پر موجود ہے جس میں لوگوں کے لئے روزگار کے مواقعے پیدا کرنا بھی ریاست کے فرائض میں شامل کیا گیا ہے۔ آئین یہ بھی کہتا ہے کہ پارلیمان ہر سال اس بات کا جائزہ لے گی کہ کس حد تک ان اہداف پر عمل درآمد ہوا۔ لیکن جب پارلیمنٹ میں امیر ترین لوگ موجود ہوں گے اور جن کو نکالنے کے لئے سول اور فوجی بیوروکریسی بے تاب ہوگی تو اس طرح کے سیاسی ماحول میں عام لوگوں کی کیا ہی شنوائی ہوگی۔

اسی بارے میں: ۔  آئین تو زندوں کے لیے ہوا کرتا ہے

دراصل چائلڈ لیبر عدم معاشی اور سماجی مساوات اور دولت کے ارتکاز کا شاخسانہ ہے۔ اور جب تلک پاکستان میں ایسی سیاسی تحریکیں وجود میں نہیں آئیں گی جو معاشرتی ناہمواریوں کو اپنے سیاسی ایجنڈے میں سرفہرست رکھیں گی، تب تلک ہم کئی اور غلاموں کی بھینٹ روزانہ چڑھاتے رہیں گے۔ آج کے پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کی حکومتی اور اپوزیشن کی پارٹیاں موجودہ معاشی نظام میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتی ہیں۔ چاہے وہ ذاتی طیارے کے مالک جہانگیر ترین ہوں یا ملک ریاض سے تحفے میں لاہور کا بلاول ہاؤس لینے والے ہوں یا ارب پتی شریف برادران ہوں۔ یہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے اور استحصالی قوتوں کے علمبردار لوگ ہیں۔ ان کی وقتی لڑائیاں کبھی جرنیلوں سے تو کبھی تاجروں سے یا کبھی افسروں سے کسی نظریہ یا حقیقی تبدیلی کی وجہ سے نہیں رہتیں بلکہ یہ سب پاکستان کے وسائل اور اقتدار پر قبضے کی کشمکش کی کہانی ہے۔ جبھی تو حبیب جالب مرحوم نے آج سے بہت برس قبل یہ کہہ دیا تھا کہ

ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔