چیف جسٹس کا کمسن بچی پر تشدد کا مقدمہ کھلی عدالت میں لگانے کا حکم


\"\"چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کمسن بچی پر تشدد کے معاملے کو انسانی حقوق کے مقدمے میں تبدیل کر کے کھلی عدالت میں لگانے کا حکم دے دیا، رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی تفصیلی رپورٹ جمع کرا دی۔
کمسن بچی پر تشدد کے از خود نوٹس کے معاملے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کھلی عدالت میں کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی اسلام آباد کو ریکارڈ اور ورثائ کو پیش کرنے کا حکم بھی دے دیا گیا۔ رجسٹرار کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں بچی کے والدین اور جج کے درمیان صلح نامہ، پولیس کی تفتیش اور ایڈیشنل سیشن جج اور بچی کے بیانات شامل ہیں۔ دوسری جانب سماجی کارکنوں نے عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم، ان کی اہلیہ ماہین ظفر، بچی کے والد، وزارت داخلہ اور ایڈیشنل جج عطاربانی کو فریق بنایا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ معاملے میں بچی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ بچی کو سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ درخواست میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور جج راجہ خرم کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔