بھورے کوٹ کی سیاہ کہانی



\"\"2003 میں لاہور وارد ہوئے تو والد صاحب نے جیکٹ نما کوٹ ہمراہ کیا۔ خاکی سے رنگ کی یہ جیکٹ خاصی کارآمد تھی۔ کئی برس تک ہمیں سردی سے بچاتی رہی۔ جیکٹ بدلنے میں وسائل سے زیادہ خواہش کی کمی آڑے آتی۔ بھلا ایک کار آمد جیکٹ کے ہوتے ہوئے دوسری کیوں خریدی جائے۔
بر سر روزگار ہوئے تو بھی سردیوں میں اسی جیکٹ کا آسرا رہا۔ یہ اور بات کہ گزرتے ماہ و سال اپنے نشان اس پر چھوڑتے جا رہے تھے۔ پھر بھی اسے پہن کر عافیت کا احساس ہوتا۔ جیکٹ کی یکسانیت پر یار دوست شاید پہلے بھی طعنے دیتے رہے ہوں، اب ان پر غور کرنا شروع کیا۔
یوں سردیوں کے مقابلے کے لیے ایک سیاہ رنگ کا کوٹ خریدا گیا۔ خاص بات یہ تھی کہ اس کے دو حصے تھے۔ زپ کے ذریعے علیحدہ ہو جاتے۔ اس سے اگلی سردیوں نے ہماری الماری میں ایک سیاہی مائل سرمئی رنگ کے کوٹ کا اضافہ دیکھا۔ اسی برس تقریباً اسی رنگ کی لیکن وضع قطع میں مختلف جیکٹ خریدی گئی۔ اس بندوبست کے بعد ہم کوٹ/جیکٹ بدل بدل کر دفتر جانے لگے۔ نسبتاً کم سردی کے لیے ایک سیاہ اور ایک سیاہی مائل سرمئی اپر بھی لیا گیا۔
ہمارے پہناوﺅں پر اتری دھنک سے حاسدین کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگے۔ انہوں نے اپنی جلن پر ہمارے کوٹوں کی تضحیک کا مرہم رکھنا شروع کر دیا۔ سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو ان کم نظروں کو سیاہ کوٹ/اپر، سیاہی مائل سرمئی کوٹ/اپر، اور سیاہی مائل سرمئی جیکٹ میں فرق ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر برس یہی طعنہ ملتا کہ آپ تو کئی دہائیوں سے ایک ہی کوٹ پہنے پھرتے ہیں۔ ہم نے ان کا منہ بند کرنے کو ایک آدھ اپر سبز رنگ کا بھی لیا لیکن کہنے سننے والوں کی دیکھنے کی صلاحیت پر پٹی پڑ چکی تھی۔
کئی بار تہیہ کیا کہ کھلتا ہوا رنگ لیں گے لیکن بالوں میں اتری چاندی سے میچ نہ کرتا، سو باز رہے۔ اب کی بار سرمئی مائل سیاہ کوٹ خریدتے خریدتے ایک بھورے کوٹ پر نظر پڑی۔ فوراً دل میں اتر گیا۔ اسے گھر لے آئے لیکن پہننے کو من نہ کرتا۔ مذاق اڑانے والے ہمیں جو مرضی کہیں، لیکن نئے کوٹ کو کچھ کہتے۔۔۔ گوارا نہ تھا۔
چنانچہ پرانے کوٹوں کو ڈرائی کلین کیا (جھاڑ لیا) اور پہنے پھرے۔ رفتہ رفتہ گرد و غبار کی تہہ انبار بنتی گئی اور معاملہ ڈرائی کلین سے بھی سوا ہو گیا۔ ایک روز بھورا کوٹ نکال ہی لیا۔ ستائشی نظروں سے استقبال ہوا۔ کہیں سے تمسخر کے تیر برسے نہ استہزا کے پتھر۔۔۔ ہم چوڑے ہوتے گئے۔
آخر ایک خیر خواہ آن ٹکرائے۔ کوٹ کی تعریف کی، ہم مزید پھولے۔۔۔ رازدارانہ انداز میں کہنے لگے آپ کو مزید کوٹ چاہئیں تو انار کلی لیے چلتا ہوں۔ ایک دوست کے پاس مال آیا ہے، آپ کے کوٹ کی طرح وہ بھی وول کے کوٹ ہیں۔ آپ کے کوٹ کی تو اتنی گریس نہیں نا۔۔۔ وہ بڑے گریس فل ہیں۔ میرے ساتھ چلیے گا، سستے دلوا دوں گا۔

اسی بارے میں: ۔  صدر پوتن نے شام میں انہونی کو ہونی کیا

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عمیر محمود

عمیر محمود ایک خبری ٹیلی وژن چینل سے وابستہ ہیں، اور جو کچھ کرتے ہیں اسے صحافت کہنے پر مصر ہیں۔ ایک جید صحافی کی طرح اپنی رائے کو ہی حرف آخر سمجھتے ہیں۔ اپنی سنانے میں زیادہ اور دوسروں کی سننے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ عمیر محمود نوک جوک کے عنوان سے ایک بلاگ سائٹ بھی چلا رہے ہیں

omair-mahmood has 35 posts and counting.See all posts by omair-mahmood