ڈیٹ کی قدیم روایت اور عصری سوال



\"\"روایتیں، رویے اور سوچ سماج کی ایسی شاخیں ہیں جن کی جڑیں کسی خاص علاقے کی ہوا، مٹی،پانی اور خوراک میں پنپتی ہیں۔ ٹیکنالوجی اور ابلاغ کے ذرائع کی نوعیت تبدیل ہونے سے مختلف علاقوں کی روایتیں، رویے اور سوچ کی جہت میں تیزی سے بدلاﺅ آ رہے ہیں۔ ظاہری طور پر انسان کو آزادی نصیب ہوئی ہے مگر اندر ہی اندر ایک گھٹن بھی ہے جس کا اظہار آئے روز دیکھنے کو ملتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر عورت کی آزادی سے جڑے پہلو کا ہی جائزہ لیں تو ہمیں بے شمار ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں جبر ، تشدد اور نفرت کا اظہارنمایاں ہے۔ جیسے تیزاب گردی، قتل و غارت، جسمانی تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کیا جانا تسلسل کے ساتھ ہمارے سماج میں بڑھا ہے۔حالانکہ قبائلی سماج جسے عام طورپر قدامت پرست ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے اس میں بھی ڈیٹ کا تصور صدیوں سے موجود ہے۔ اس سماج میں ڈیٹ کو مقامی زبان میں ” درآئی“ کہا جاتا ہے اور گرل فرینڈ کو” گودی“ کے لفظ سے جانا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک کہاوت بھی ہے ” گودی روح دا ٹیک حے ادا“ یعنی گرل فرینڈ روح کی تسکین اور آسرا ہے۔اس پسماندہ سماج میں ’گودی‘ رکھنا اپنے آپ میں ایک کارنامہ سمجھا جاتا تھا اور جس مرد کی’گودی‘ نہیں ہوتی تھی اس پر اس کے سنگی ساتھی ہنستے تھے۔ اس طرح عورتوں میں بھی اس طرح کے جذبات ہوتے تھے۔’ گودی‘ اپنے محبوب سے ملنے کیلئے کیا کیا جتن نہیں کرتی تھی دیسی گھی کی چوری، دیسی مرغے کا سالن اور کچھ تحفے تحائف لے جانا لازمی سمجھا جاتا تھا اور اس وقت غیرت کے نام پر اتنے قتل نہیں ہوتے تھے حالانکہ علاقے کے لوگوں کو فریقین کی محبت اور تعلق کا علم بھی ہوتا تھا۔ مسئلہ اس وقت گھمبیر ہوتا تھا جب کوئی مرد کسی مرد کو غصے میں آکر طعنہ دیتا تھا۔ ورنہ یہ واج عام تھا۔ ’ گودی روح دا ٹیک حے ادا ‘ جیسی کہاوت میں چھپی قبولیت اس چیز کی غماز ہے کہ محبت اور میل ملاپ ایک فطری جذبہ ہے جسے ڈر اور سختی سے ہرگز دبایا نہیں جا سکتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کن عناصر نے ہماری سوچ کو اس نہج پر پہنچا دیا جس کی بنا پر ہم متشدد اور دن بدن تنگ نظر ہوتے گئے۔ آئیے ان گتھیوں کوسلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسلم معاشرے میں بالخصوص اور غیرمسلم معاشرے میں بالعموم عورتوں کے کردار کا تعین مردوں کے تفویض کردہ اصولوں کے تابع رہا ہے۔ مردوں نے اپنے الگ الگ مفادات کی تکمیل کیلئے عورتوں کے استحصال کی خاطر غیر فطری اورغیر منطقی طرز عمل اور اصول لاگو کیے۔ کبھی مذہب کے نام پر ان کے کردار کو محدود کیا گیا، کبھی اپنی ذات کی کمیوں کوتسکین پہنچانے کیلئے اسے اپنے تابع کرنے کی سعی کی گئی۔ کبھی نام نہاد غیرت کے نام پر ان کا قتل کیا گیا۔ کبھی اپنی عیاشی کیلئے بازار کی زینت بنایا گیا۔ توکبھی منافع اور کاروبار کی ترویج کیلئے اس کا استعمال کیاگیا۔ رسم ورواج اور مردوں کے ذاتی مفادات و اجارہ داری کی قید میں جکڑی عورت مسلم سماج کے ارتقا میں اپنا کردار آزادی سے ادا نہیں کر سکی۔ جس کی وجہ سے سماجی گھٹن اور جبر کی مختلف شکلوں نے پورے مسلم سماج کو اپنی لپیٹ میں آن لیا۔ بڑی تیزی سے مسلم معاشرہ تہذیبی و ثقافتی طور پر پسماندگی وتنزلی کا شکار ہوتا گیا۔ اس بگاڑ کا منفی اثرمردوں کی عام زندگی پر بھی بہت بری طرح پڑا، کیونکہ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو غلام رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی اپنی آزادی بھی سلب ہو رہی ہوتی ہے اور وہ خود بھی با عزت اور پروقار زندگی گزارنے سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے اگر ہم اپنے معاشرے کا بغور جائزہ لیں تو اس میں اکثر مردوں کا کردار ایک چوکیدار کی طرح کا ہے۔ اپنی اپنی عورتوں کی چوکیداری کرنا ہمارا فرض منصبی بن چکا ہے۔ جس کے اثرات ہماری اجتماعی سوچ اور رویوں پر بہت گہرائی سے نفوذپذیر ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  مولانا روم کی محبت

کھلا پن، برداشت، عدم تشدد، تخلیق اور دلیل کے عناصر سے ہماری ذات خالی ہو چکی ہے۔اب شدت پسند رویے، تنگ نظری، بے جا شک اور لا ابالی ہمارے معاشرے کے اہم جز پن چکے ہیں۔ اس تناظر میں عورت کے نفسیاتی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو عمومی طور پر میں نے محسوس کیا ہے کہ عورت محبت کرنے کے فطری جذبے کی خصوصیت سے بھی محروم ہوتی جا رہی ہے۔ کیونکہ طویل غلامی اور استحصال کی وجہ سے عورت تکمیل محبت میں شدید تذبذب کا شکار نظر آتی ہے۔ اس کے لا شعورمیں عدم تحفظ کا احساس وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ملکیتی احساس، انا پرستی،انتقامی جذبہ، طویل منصوبہ بندی اور گیم پلان کے عناصر بدرجہ اتم عورت کی نفسیات اور ذات میں دخیل ہو چکے ہیں۔ یادداشتوں کی تلخی میں لپٹے احساسات اس کی محبت کی صلاحیت کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں جس کا خمیازہ مرد اور عورت دونوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اسی لئے ہمارے معاشرے میں محبت کی شادیاں اکثر ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسی شادیوں میں ایک دوسرے پر بدل جانے کے الزامات عام سی بات سمجھے جاتے ہیں۔ جس کا الزام محبت پر دھر دیا جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ محبت کی شادیوں میں معاشرتی گھٹن کا پہلو ایسا رد عمل ہے جس کے باعث جیون ساتھی چننے میں وہ آزادی میسر نہیں ہوتی جس کو سماج قبول کرے اور ناکامی کی صورت میں اس لڑکے یا لڑکی کی علیحدگی کو ایک معمول کا قضیہ سمجھے۔ اگر اس بگاڑ پر قابو پانا ہے تو ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا ہو گا اور جائز سپیس دینا ہوگی، فطری حق اور آزادیوں کو تسلیم کرنا اور برابری کی بنیاد پر حقوق بانٹنا ہو ںگے۔ ورنہ ہماری آنے والی نسلیں پائیدار ترقی، روحانی تسکین اور حقیقی شخصی آزادی حاصل کرنے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ محبت جیسے عظیم اور فطری جذبے سے بھی عاری ہو جائیں گی۔

اسی بارے میں: ۔  لنچنگ رپبلک آف انڈیا

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔