طالبان کے ہاتھ کس نے مضبوط کئے؟


akhtar-ali-syed گو حضرت وجاہت مسعود صاحب نے اس موضوع پر اپنے اظھار خیال میں گفتگو تمام کر دی ہے تاہم  یہ  امر قابل غور ہے کہ  ہماری بجاے یہ سوال خود طالبان کے سامنے کیوں نہ رکھا جائے کہ ملک عزیز میں وہ کس کو اپنا حامی، ناصر اور ھمدرد خیال کرتے ہیں. طالبان کے دست گیروں کا نام و نشان ان ہی سے پوچھنا چاہیے. طالبان اپنے دست گیروں کا اعلان ان پر اعتماد و اطمینان کا اظھار حکومت اور فوج کے ساتھ مذاکرات میں اپنا نمائندہ مقرر کرکے کر چکے ہیں. اسی طرح کچھ گروہوں کو مسلسل اپنا نشانہ بنا کر اپنے مخالفین کی فہرست بھی دنیا کو دکھلا چکے ہیں . اس معاملے کے تعیین کی ایک اور  صورت بھی ممکن ہے اور وہ ہے مسلسل طالبان کا نشانہ بننے والے طبقات کا نقطہ نظر …. کیا کم از کم دو دہائیوں کی سرگرمیوں کو دیکھنے کے بعد طالبان کا شکار بننے والے طبقات کی فہرست مرتب کرنا مشکل کام  ہے؟ جایئے اور جا کر ان مظلوم طبقات یہ سوال کریں طالبان کون ہیں اور ان کے حامی اور ھمدرد کون ہیں یہ دانشوری نہیں آپ کی ناک کے نیچے ہونے والے ظلم کو کھلی آنکھ سے دیکھنے کا مقام اور موقع ہے. ظالمین اور مظلومین دونوں نے طالبان کے دوستوں اور دستگیروں کی فہرست کب کی شائع کر دی ہے اور ہمیں اس گفتگو کی ضرورت سے بےنیاز کر دیا ہے. اس فہرست میں شامل افراد اور طبقات کا تعلق کسی ایک زبان، پوشاک یا تعلیم سے نہیں ہے بلکہ اس ذہن سے ہے جس کے چند خصائص کا اجمالی تذکرہ گزشتہ گزارشات میں کیا جا چکا ہے.

طالبان کی سر گرمیوں نے بہت سے مباحث اور شخصیات کو مغالطوں کے پردوں سے باہر نکالا ہے. طالبان نقطۂ نظر اور خوں آشام حکمت علمی سے اتفاق اور اختلاف کرنے والوں کی معرفت اب عام معلومات کا حصہ ہے. یہ اور بات ہے کہ “ضرب عضب” کی ضرب نے بہت سے بلند آہنگ حامیان طالبان کی شعلہ بیانی اور طلاقت لسانی کو مصلحت کی زنجیریں پہنا دی ہیں مگر وہ فہم جس کی جانب وجاہت صاحب نے اشارہ فرمایا ہے. کیا “ضرب عضب” اس پر اثر انداز ہوئی ہے. ہو گی یا ہو سکتی ہے؟ یہ توقع ایک امید عبث اور مبنی بر جنون ہے. آئیے اس فہم کا  جائزہ لینے کی ایک اور کوشش کرتے ہیں.
نفسیات ہی نہیں تمام سائنسی علوم جب ایک واقعے کو بار بار ایک ہی طرح سے ہوتا دیکھتے ہیں تو اس واقعے کی وجوہات اس سے منسلک عوامل کے علم کی بنیاد پر فارمولا بنا کر اس واقعے کے بارے درست پیش گوئی کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں.
اپنے نقطۂ نظر اور فہم دین کو دوسروں کے لئے بہر صورت قابل قبول اور معاشرے میں اس کے اطلاق کو لازمی فریضہ خیال کرنا طالبان اور ان کے حامیوں کے مابین ایک قدر مشترک ہے. حامیان طالبان بھی طالبان کی طرح ہر صورت میں معاشرے میں چند افکار و اقدار کا نفاذ چاہتے ہیں. حامیان طالبان کے مختلف گروہوں نے اپنے مقاصد کے حسسول کے لئے تمام ممکنہ طریقے استمعال کیے. انتخابی سیاست، دعوت و تبلیغ، اخبار نویسی، ٹیلی ویژن پر واعظ و ارشاد، اور قتل و غارت گری … ہر طریقے کو گزشتہ تیس برسوں میں بھر پور طریقے سے استمال کیا گیا. خوف و ہراس کی فضا میں بھائی کو بھائی سے لڑا دیا گیا. ملک کی گلیاں اور محلے خون سے نہلا دیے  گئے . تعصب کے اندھیرے نے ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شرکت کو پہلے سے  کم کر دیا . لیکن ان کی معاشرے میں ان کی فکر رواج نہ پا سکی. ہر آنے والا دن ان کی ناکامی کی ایک نئی خبر لے کر طلوع ہوا. انتخابات میں پے در پے ناکامی اور معاشرتی سطح پر عدم قبولیت نے انہیں تشدد کا راستہ دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے. اپنے موقف اور اس کے لئے دیے گئے دلائل کی ناکامی کے بعد ھٹ دھرم مبلغین کے پاس تشدد آخری راستہ بچا کرتا ہے. طالبان ان حضرات کی جاں بلب امیدوں کی آخری کرن ہیں. طالبان کی شکست خواہ عسکری محاذ پر ہو یا فکری سطح پر، ان کے لئے نا قابل قبول اور ناقابل برداشت ہے. اس لئے یہ شور و غوغا بےمعنی نہیں ہے.
تشدد کے لئے  ان کی پسندیدگی اور ایک آخری راستے کے طور پر اس کا چناؤ دو امور کی نشاندہی کرتا ہے. ایک ان کے موقف اور اس کے لئے دیے گئے دلائل کی ناکامی اور دوسرے اپنی فکر کے حق اور سچ ہونے پر خبط کی حد تک پہنچی ہوئی فکر….. تاریخ انسانی نے وضاحت کے ساتھ بآواز بلند اس طرح کی فکر اس طرح کے طرز عمل رکھنے والوں کی ناکامی کا اعلان کیا ہے. پاکستانی معاشرے نے تمام تر  دشواریوں کے باوجود اس فکر کی کامیابی کے امکانات کو رد کیا ہے. یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس فکر کے پالنہار اپنے پروردہ کو عاق کرنے کا فیصلہ کر چکے ھیں. یہ فکر اور فھم ھمیشہ سے تھی اور رہے گی. مگر سماج نے اس کے آگے سر جھکانے سے انکار کی ٹھانی ہے. استعمار آنے والے کل کے لئے اب ںنے کھلاڑی ڈھونڈے گا.

Comments

FB Login Required - comments