والدین دوست کیوں نہیں ہوتے؟


\"\"’ ہم سب‘ پر ایک تحریر ’آج کل کی لڑکیاں؛ڈیٹنگ اور ماں باپ کو دھوکہ ‘ پر میں نے ایک نقطہ نظر دیا جس کا جواب ’ماں باپ کو بتا کر ڈیٹ کریں‘ آیا۔ اب مسئلہ کافی سلجھ گیا ہے۔ ہاتھی نکل گیا ہے دُم بھی حوصلہ کریں اور نکال ہی دیں۔

آپ پسند کی شادی کے حق میں ہیں۔ ڈیٹ کے بھی حق میں ہیں۔ مگر اس حق میں کیوں نہیں ہیں کہ والدین بچوں سے دوستی بھی کر لیں۔ تا کہ بچے ان سے جھوٹ نہ بولیں۔ ہمارے دوستوں کو ہماری ڈیٹ کا معلوم ہوتا ہے کیوں کہ ہمارے درمیان دوستی ہوتی ہے۔ میں پھر دہراؤں گی کہ والدین کو بچوں سے دوستی کرنی پڑے گی ورنہ وہ بچوں کو کھو دیں گے۔ برے لوگوں سے دوستی ان کو برا بھی بنا سکتی ہے۔ اور اس طرح جس فیملی یونٹ پر آپ اتراتے نہیں تھکتے اپنے ہاتھوں ہی تباہ کر لیں گے۔

مغرب میں والدین بچوں کے ڈیٹ کرنے پہ خوش ہوتے ہیں اور ان کے گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ کو گھر دعوت پر بلاتے ہیں۔ اگر بچے کچھ ڈیٹس کے بعد شادی کرنا چاہیں تو والدین خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔

کیا آپ ہمارے والدین کی ہم سے دوستی کروا سکتے ہیں؟

حتی کہ ہمارے گھٹن زدہ ماحول میں بھی جن والدین کی بچوں سے دوستی ہوتی ہے۔ وہ ماں باپ کو ڈیٹ پر بتا کر جاتے ہیں۔ ایسے کئی والدین کو میں جانتی ہوں۔ آپ کے بھی علم میں ہوں گے۔

ڈیٹ کا مفہوم دوستی اور محبت کا ہی سمجھ میں آتا ہے۔ کیا آپ کی سمجھ میں بھی ایسا ہی آتا ہے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “والدین دوست کیوں نہیں ہوتے؟

  • 06-01-2017 at 3:44 pm
    Permalink

    صرف نطفے کا رشتہ
    اولاد کے ساتھ دوستی کرنا ہمارے لئے موت کے برابر ہے۔ ہم تو بس نطفے کے ناطے باپ کے منصب پر فائز رہنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے شادی شدہ ہونے کا ثبوت کافی ہے جو ہمیں اولاد اور ان کی والدہ پر حکمرانی کا غیرمشروط حق عطا کرتا ہے۔ ہمیں اور نہ ہی سماج کو اس بات سے کوئی غرض ہے کہ باپ ہونے کا مطلب کیا ہے؟ یہ منصب یا رشتہ کن نازک اور تہہ در تہہ ذمہ داریوں کا متقاضی ہے۔ ہم نے بس اس تعلق کو جانوروں کی سطح سے کچھ اوپر لاکر منجمند کردیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم بچے کو سمجھنے سے صاف انکاری ہیں مگر گمان بلکہ غرور یہ ہے کہ ہم سے زیادہ ہماری اولاد کو ئی نہیں سمجھتا۔
    ہم کسی حد تک بچے کے جسمانی تقاضوں سے ضرور آگاہ ہوتے ہیں، جیسے خوراک اور لباس، مگر اس کی ذہنی کائنات ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے۔بچے کی زندگی میں بلوغت کا دور انتہائی نازک ہوتا ہے۔ یہی وہ دور ہے جب وہ زیادہ شدت کے ساتھ خود کو ایک لڑکے یا لڑکی کے طور پر شناخت کرتا ہے۔ اسے متقابل جنس میں کشش محسوس ہوتی ہے۔وہ اچانک اپنے بناؤ سنگھار پر پہلے سے زیادہ توجہ دینے لگتا ہے۔ دل میں والدین کے علاوہ کسی اور کی توجہ کا مرکز بننے کی خواہش مچلنے لگتی ہے۔مگر اکثر والدین کو یہ بات ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ ڈانٹ ڈپٹ، ٹوکا ٹاکی اور بڑھ جاتی ہے۔ بچہ جو پہلے ہی والدین کے رویے سے تنگ ہوتا ہے، ان سے مزید دور جانے لگتا ہے۔ ایسے میں اس کا واحد سہارا وہ چند قریبی دوست ہوتے ہیں جن پر اسے اندھا اعتماد ہوتا ہے۔ وہ اپنے دماغ میں پنپنے والے رنگین خیالات صرف انہی سے شیئر کرتا ہے۔اگرچہ ان کے پاس کوئی معقول مشورہ تو نہیں ہوتا مگر یہ کیتھارسز بچے کو بہت لطف اور اطمینان بخشتا ہے۔ والدین کی اکثریت کو بالکل خبر نہیں ہوتی کہ ان کا بچہ دوستوں کے ساتھ کن موضوعات پہ گھنٹوں مصروفِ گفتگو رہتا ہے۔ ان کو تو بس اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ وہ گھر سے باہر آوارہ گردی نہ کرے۔ باقی پڑھنے کے بہانے بھلے سارا دن کسی دوست کے ہاں گزاردے۔

Comments are closed.