ہم ایک قوم نہیں


zefferجن احباب کو گمان تھا، کہ پاکستانی ایک قوم ہیں؛ ان کے عقل سے پردہ ہٹانے کے لیے، گزشتہ بلدیاتی انتخابات ہی کافی ہیں۔ اور جو نہ دیکھتے ہیں، نہ سنتے ہیں، اور نہ سمجھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کوئی کیا علاج کرے! یوں تو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں بھی یہی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں، جن کا ذکر آگے ہونے جا رہا ہے۔ لیکن ایک ‘چادر’ سی تنی رہتی ہے۔

یہ بات عوام سے بہتر سیاست دان سمجھتے ہیں، کہ انتخابات میں ‘منشور’ نہیں، برادری نظام موثر ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کی سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخاب کی حامی نہیں ہوتیں کہ ایسے میں ان کا اثر و رسوخ کم اور علاقائی عہدے داران کا ‘زور’ زیادہ معنی رکھتا ہے۔ عام انتخابات میں امیدوار کا حلقہ انتخاب بڑا ہوتا ہے، ایسے میں سیاسی جماعتیں کسی نا کسی طرح ایک ہی علاقے میں، برادری کے دو بڑوں کو، جو ایک دوسرے کے مخالف بھی ہوں، قابو کر لیتی ہیں۔ جب کہ حلقہ انتخاب چھوٹا ہونے کی ص±ورت میں، ہر کوئی اپنی گلی کا شیر ہوتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے رانا ثنا اللہ گروپ اور شیر علی گروپ کے ٹاکرے کو دیکھیے۔ یہ دونوں پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کے مخالف بھی ہیں۔

تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس خطے کے افراد ایسے ہی ہیں۔ ایسی ہی چلے آ رہے ہیں۔ یہاں کے عوام مقامی اور گروہی سیاست کے امین ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے مخالف کو نیچا دکھانے کے لیے ‘بیرونی’ امداد بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔ اب بھی کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہارنے والے، حکومت میں آنے کے لیے، فوج کو پکارتے ہیں۔ الا ما شا اللہ فوج نے شاذ ہی کسی مایوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سکندر سے لے کر محمود غزنونی، بابر اور انگریز انتہائی کم فوج کے با وجود فاتحین رہے۔ یہاں ہمیشہ غیر ملکیوں نے راج کیا۔ کیوں کہ ہم تو برادری نظام میں بٹے ہوے تھے/ ہیں۔ کسان اور اس کے بیٹوں کی کہانی کی طرح ہم بکھری ہوئی لکڑیاں ہیں، جنھیں تھوڑی سی طاقت لگا کر توڑا جا سکتا ہے۔

کراچی سے باہر کے لوگ، اس بات پر حیران ہوئے کہ کراچی میں، ایک بار پھر ایم کیو ایم جیسی سیاسی جماعت کیوں کر جیتی۔ حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ایم کیو ایم ایسی جماعت ہے، جو مہاجر برادری کی نمایندگی کرتی ہے۔ جیسے دیگر صوبوں میں متفرق برادری کے بڑے الیکشن جیتے ہیں، ووں کراچی میں بھی ہوا۔ اب عوام یہ شکوہ کرنا چھوڑ دیں کہ ہم بہت اچھے ہیں، اور سیاست دان بہت برے۔ ہم جیسے ہیں، ویسے ہی ہمارے نمایندے ہیں۔ پھر یاد دلا دوں، ہم ایک قوم نہیں، الگ الگ برادری کے افراد ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 85 posts and counting.See all posts by zeffer-imran