صنفی تفریق اور پاکستان


mazhar iqbal chaudaryخواتین اور مردوں کو معیشت،صحت،تعلیم اور سیاست میں مساوی حقوق اور مواقع ملنے کی بنیاد پر مرتب کی گئی ورلڈ اکنامک فورم کی 2015ءکی رپورٹ کے مطابق بہترین ممالک میں آئس لینڈ پہلے نمبر پر جبکہ بدترین ممالک کی فہرست میں یمن پہلے اور پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔ہے۔اگرچہ ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں دنیا بھر میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد میں ایک ارب کا اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے باوجود مردوں اور خواتین کو ملنے والے معاوضوں میں فرق ختم ہونے کی پیش رفت میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ صنفی تفریق میں کمی کے تناسب کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو پاکستان میں مردوں اور خواتین میں مساوات کا خواب 118سال بعد(2133ئ)میں پورا ہوگا۔

صنفی تفاوت کے حوالے سے 10بدترین ممالک کی فہرست میں تمام کے تمام اسلامی ممالک نظر آتے ہیں۔10بدترین ممالک کی فہرست میں یمن پہلے،پاکستان دوسرے، شام تیسرے، چاڈ چوتھے، ایران پانچویں، اردن چھٹے، مراکش ساتویں، لبنان آٹھویں، مالی نویں اور مصر دسویں نمبر پر ہیں۔ صنفی تفریق روا رکھے جانے والے ممالک میں مسلم ممالک کا سرفہرست ہونا ایک المیے سے کم نہیں۔صنفی تفاوت کے حوالے سے 10بہترین ممالک کی فہرست میں زیادہ تر شمالی یورپی اور سکینڈے نیوین ممالک شامل ہیں۔ بہترین ممالک کی فہرست میں آئس لینڈ پہلے،ناروے دوسرے، فن لینڈ تیسرے، سویڈن چوتھے، آئرلینڈ پانچویں،روانڈا چھٹے ،فلپائن ساتویں، سوئٹزرلینڈآٹھویں، سلووینیا نویں اور نیوزی لینڈ دسویں نمبرپر ہیں۔ 10بہترین ممالک کی فہرست میں افریقی ملک روانڈا کی موجودگی حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ بھی ہے۔ روانڈاکے چھٹے نمبر پر موجود ہونے کی وجہ وہاں سیاست میں سرگرم خواتین سیاستدانوں کی 64فیصد تعداد ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

صنفی تفاوت کے حوالے سے گذشتہ دہائی میں سب سے ڈرامائی فرق تعلیم کے شعبے میں آیا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ دنیا بھر میں تعلیم ہی وہ واحد شعبہ ہے جہاں صنفی تفریق کا توازن خواتین کے حق میں ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ رپورٹ میں شامل کل 145ممالک میں سے98ممالک ایسے ہیں جہاں یونیورسٹی جانے والی خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔قطر جیسی عرب ریاست میں یونیورسٹی میں زیر تعلیم خواتین کی تعداد مردوں سے 6گنا زیادہ ہے جبکہ بارباڈوس اور جمیکا میںیہ فرق اڑھائی گنا کا ہے۔رپورٹ میں شامل 68ممالک ایسے ہیں جہاں خواتین ڈاکٹروں، اساتذہ اور وکلاءکی تعداد مردوں سے بڑھ چکی ہے۔ ان خوش کن اعدادوشمار کے باوجود تلخ حقائق یہ ہیں کہ خواتین کاروبار،سیاست اور سرکاری ملازمتوں کے شعبوں میں اس مقام تک نہیں پہنچ پائی ہیںجو مردوں کو حاصل ہیں۔ دنیا بھر میں فلپائن،فجی اور کولمبیا ایسے ممالک ہیں جہاں خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ اہم اور قائدانہ عہدوں پر فائز ہیں۔

صنفی تفریق کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال نہایت افسوسناک اور گھمبیر ہے۔ورلڈ اکنامک فورم کی تیار کردہ رصنفی برابری کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان145ممالک میں سے 144ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کی کل افرادی قوت میں خواتین کی تعداد گذشتہ 6سالوں میں اوسطاً 26فیصد رہی ہے جو کہ اس دوران دنیا بھر میں کم ترین شرح شمار کی جاتی ہے۔انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی2014ءکی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں38.5فیصد کم اجرت دی جاتی ہے ۔ پاکستان میںسیاست سمیت دیگر اہم شعبوں میں خواتین کا تناسب نہ صرف مردوں سے بہت کم ہے بلکہ تمام اعلی اور بااختیار عہدوں پر مرد حضرات ہی براجمان ہیں۔

اگرچہ گذشتہ چند برسوں میں خواتین کے معاشی وسماجی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے نمایاں قانون سازی ہوئی ہے لیکن عمل درآمد نہ ہونے سے قانونی اور عدالتی نظام بھی معاشرے میں عورتوں کے مقام میں قابل ذکر اضافہ کرنے میں مددگار دکھائی نہیں دے رہا۔ صنفی مساوات قائم کرنے کی راہ میں ہمارا معاشرہ بھی برابر کا قصور وار ہے۔گھروں میں لڑکوں کے مقابلے میںلڑکیوں کی خوراک، لباس، تعلیم اور صحت کے معاملات میں تفریق روا رکھی جاتی ہے۔ہم لوگ اسلامی قانون وراثت کے تحت بھی خواتین کو ان کے وراثتی حقوق دینے کے لیے تیار نہیں۔ مرد کی بالا دستی کے اصول پر قائم ہمارے معاشرے میں زمین اور جائیداد کو بچانے کے لیے بھی خواتین کا استحصال کیا جا تا ہے۔پبلک اور نجی شعبوں میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کی شکایات عام ہونے کی وجہ سے لوگ خواتین کی ملازمت کے حق میں نہیں ہیں۔

اگرچہ ماضی کے مقابلے میں آج خواتین میں تعلیم اور شعور بڑھنے سے نہ صرف وہ معاشی طور پر خود کفیل ہو رہی ہیںبلکہ ان کے اندر اپنے حقوق سے متعلق آگہی کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے لیکن یہ اضافہ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی کم ہے ۔دنیا میں وہی ممالک زیادہ خوشحال اور پیداواری صلاحیت رکھتے ہیں جہاں خواتین کو پیشہ وارانہ تعلیم اور اقتصادی مواقع تک برابر رسائی حاصل ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق فراہم کرکے معاشرے میں صنفی توازن پیدا کیا جائے تاکہ ملک کی نصف آبادی پورے اعتماد اور حوصلے کے ساتھ ملک و قوم کی ترقی میںاپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔


Comments

FB Login Required - comments