میں نے اس برس کون سی کتابیں پڑھیں


\"\"\”میر واہ کی راتیں\” ایک مختصر سا ناول ہے۔ رفاقت حیات کے لکھے اس ننھے منے ناول میں جیتا جاگتا خون دوڑتا ہے اور یہ پڑھنے والے کے دل و دماغ پر ایک رزمیہ داستان جیسا اثر چھوڑتا ہے۔ ہم عصر سندھ کے ایک قصبے کا منظر ہے۔ محبت اور رزق کی گردش میں گزرتے دور افتادہ شب و روز کی کہانی ہے۔ چھوٹے شہروں میں محبت کیسے کی جاتی ہے، اپنے اندر چھپے بھوتوں سے لڑائی کیسے کی جاتی ہے۔ \”میر واہ کی راتیں\” آج کے پاکستان میں بسنے والے کچھ بظاہر عجیب و غریب مگر مستند کرداروں کی کہانی ہے۔

علی احمد خان نے \”جیون ایک کہانی\” کے عنوان سے مشرقی پاکستان کے آخری ایام کی سرگزشت لکھی ہے۔ سقوط ڈھاکہ کی کہانی بہت سادہ مگر پر اثر الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ مصنف نے پاکستان کے ابتدائی پچاس برس کا اتار چڑھاؤ انسانی آنکھ سے بیان کیا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت علی احمد خان ایک کم عمر بچے تھے۔ ان کا گھرانہ اس مخمصے سے دوچار تھا کہ پاکستان کا رخ کیا جائے کہ آبائی وطن میں ٹھہرا جائے۔ اس کشمکش میں علی احمد خان اور ان کے چھوٹے  \"\"بھائی کو پاکستان روانہ کیا گیا۔ علی احمد خان نے پہلے مغربی پاکستان اور پھر مشرقی پاکستان کے تناظر میں اس ملک کے ابتدائی دنوں کی زور دار تصویر کشی کی ہے۔ علی احمد خان نے جوانی کا ابتدائی حصہ کراچی اور پھر ڈھاکہ میں گزارا۔ اس دوران صحافت اور تھیٹر سے گزرتے ہوئے وہ سیاسی کارکن بن گئے۔ لیکن اصل مارکہ تب شروع ہوا کہ جب بنگلہ دیش کی آزادی کے لئے لڑائی کے آغاز پر احمد علی خان کو احساس ہوا کہ ان کی ہمدردیاں بنگالی قوم پرستوں کے ساتھ ہیں۔ لیکن مشرقی بنگال میں ان کی شناخت ایک بہاری کی ہے۔ احمد علی خان نے بنگلہ دیش کی آزادی کے خون آشام دنوں کو جذباتی ہوئے بغیر ضبط کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس داستان کے آخر میں احمد علی خان کا سب کچھ کھو گیا ہے۔ ان کی انسان دوستی کا دیا البتہ جلتا رہا۔ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو یہ کتاب پڑھنی چاہئے۔ تاکہ اسے احساس ہو سکے کہ آزادی کی لڑائیوں میں نہ کوئی شیطان ہوتا ہے اور نہ کوئی فرشتہ۔

برطانیہ کے معروف صحافی گیری ینگ نے \”امریکہ کی موت میں ایک دن\” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔ امریکہ کے طول و عرض میں چوبیس گھنٹے کے دورانیے میں اندھا دھند فائرنگ سے مرنے والے شہریوں کی کہانی بیان کی \"\"گئی ہے۔ اگر ہمیں یہ معلوم کرنا ہو کہ امریکہ میں نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے پر اندھا دھند گولیاں کیوں برساتے ہیں اور یہ کہ امریکہ میں بندوق رکھنے کے قوانین ایسے عجیب و غریب کیوں ہیں اور اس کھیل میں شکاری کون ہے اور نخچیر کے خدوخال کیا ہیں تو آپ کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئے۔ امریکہ میں اقتدار کے بے رحم کھیل اور معصوم شہریوں پر گزرنے والی قیامت کی کہانی ہے۔ ایک دفعہ کھول لیں تو مکمل کیے بغیر اس کتاب کو ایک طرف رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

2 thoughts on “میں نے اس برس کون سی کتابیں پڑھیں

  • 06/01/2017 at 8:50 pm
    Permalink

    میرواہ میرے گھر سے صرف ٢٠km دور ہے، یہ ناول ضرور پڑھیں گے

  • 07/01/2017 at 1:17 pm
    Permalink

    انتخاب زندگی
    ڈاکٹر منظور کے ترجمے کے ساتھ آکسفورڈ پبلیکیشنز کی
    مرتبہ کتاب
    میں پروفیسر توائیں بی اور پروفیسر اکیدا
    کے درمیان زندگی کے مختلف فلسفیانہ موضوعات پر انتہائی اہم مکالمات ملتے ہیں.

Comments are closed.